جنوبی وزیرستان :لدھا میں فائرنگ کا تبادلہ، خاتون جاں بحق، شہریوں کا احتجاج

جنوبی وزیرستان : لدھا میں سیکیورٹی فورسز اور نامعلوم مسلح افراد کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کے دوران شہری آبادی زد میں آگئی، جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کے خلاف ہزاروں افراد نے ضلعی ہیڈکوارٹر لدھا کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

جنوبی وزیرستان آپر کے تحصیل لدھا کے علاقوں سلطانہ، کوٹ لنگرخیل، غواک، تنگی بودینزئی اور ملحقہ دیہات میں سیکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے مابین مبینہ جھڑپ کے بعد سیکیورٹی فورسز نے بھاری ہتھیاروں سے شہری آبادی پر گولہ باری کی۔ اس گولہ باری کے نتیجے میں ایک مارٹر گولہ توصیف نامی شخص کے گھر پر آ گرا، جس سے ان کی اہلیہ موقع پر جاں بحق ہو گئیں۔ متعدد دیگر شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

مزکورہ واقعے کے خلاف ہزاروں مقامی افراد نے لدھا ہیڈکوارٹر کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا، جس سے ملک سعید انور سمیت متعدد مقررین نے خطاب کیا۔

مقررین کا کہنا تھا کہ یہ کیسا المیہ ہے کہ ریاستی ادارے اور مسلح افراد کے درمیان تصادم کا خمیازہ ہمیشہ بے گناہ شہریوں کو بھگتنا پڑتا ہے جس میں خواتین، بچے اور بزرگ نشانہ بن کر زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات سے عوام میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف شدید نفرت جنم لے رہی ہے، جو صورتحال کو مزید بگاڑ سکتی ہے۔

احتجاجی اجتماع میں فیصلہ کیا گیا کہ 10 جولائی کو پورے وزیرستان میں مکمل شٹرڈاؤن ہڑتال کی جائے گی، اور تحصیل مکین میں ایک بڑا احتجاجی جلسہ منعقد کیا جائے گا، جس میں محسود قوم کو درپیش بدامنی، شہری ہلاکتوں اور آئندہ کیلئے لائحہ عمل طے کرنے پر غور کیا جائے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے