شاہد انور: ایک حد درجہ بے باک مگر حقیقت پسند نوجوان، غربت کا گھمبیر مسئلہ اور قومی سطح پر ہمہ جہت غفلت کی علت

شاہد انور (پیدائش 1994) سوات سے تعلق رکھنے والا اور چند برسوں سے آمریکا میں آباد، ایک سمارٹ، صحت مند، پر اعتماد اور آن لائن بزنس سے منسلک سرگرم سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہے۔ شاہد انور حافظ قرآن ہے اور کوئی زیادہ پڑھا لکھا نہیں بس کچھ آن لائن بزنس سے متعلق گر اور کورسسز اسے ہاتھ لگے ہیں جیسے استعمال کر کے اس نے خاندان پر نسل در نسل مسلط غربت کو شکست دینے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آپ کا لہجہ کرخت، اسلوب بیان بے انتہا بے باکانہ جبکہ خاص ترجیح غریبوں کو محنت، کاروبار اور طے شدہ ضابطوں (Process) کے ذریعے غربت سے نکل کر اور دولت کما کر ایک خوشحال زندگی گزارنے کی ترغیب دینا ہے۔

شاہد انور ایک مختلف سوچ اور اپروچ کے حامل طالب علم تھا، وہ پڑھتا معمول کے مطابق تھا اور سوچتا غیر معمولی طور پر یہاں تک کہ 9 کلاس تک پہنچا، 9 کلاس پہنچتے پہنچتے اس کی انقلابی سوچ کافی کروٹیں بدل کر خوب پختہ ہو چکی تھی اور آخری مرحلے کا کام اساتذہ کی "قابلِ رحم” حالت نے کی۔ کہا "ایک استاد سائیکل پر سکول آتا تھا اور دوسرا سوزوکی پر، میں نے سوچا کہ ان سے پڑھ کر میں کبھی دولت مند نہیں بن سکتا، یوں 9 کلاس سے بھاگ گیا اور روایتی پڑھائی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خیر باد کہہ دیا، والد صاحب ان دنوں سعودی عرب ہوتے تھے انہوں نے سخت دھمکی دی کہ "پڑھائی جاری رکھو ورنہ میں آؤں گا تو ہاتھ پاؤں توڑ کر رکھ دوں گا”۔ والدہ نے سکول چھوڑنے اور باپ کی دھمکی سے پریشان ہو کر مجھے سمجھانے کی کوشش کی، میں نے انہیں اپنا "وژن” بتایا کہ میں نے دولت مند بننا ہے اور رائج الوقت پڑھائی مجھے اس کے قابل نہیں بنا سکتی، میں نے اس کو مزید جاری نہیں رکھنا باقی والد صاحب نے تیس چالیس سال محنت مزدوری کی لیکن وہ آپ کو خوشحال زندگی نہ دے سکے ان شاءاللہ یہ میں کر کے دکھاؤں گا، میرے پختہ عزائم دیکھ کر انہوں نے مزید زبردستی نہیں کی اور دعا دی کہ "اللہ تعالیٰ تمہیں وہ سب کچھ نصیب کر دیں جس میں خیر ہو”، میں نے فوراً لقمہ دیا کہ نہیں بلکہ مجھے یہ دعا دیں کہ "جو کچھ میں کر رہا ہوں اس میں اللہ خیر شامل کر دیں”، یاد رکھیں میری طاقت یہ ہے کہ میں نے انسانوں سے امیدیں توڑ کر انہیں اپنے رب سے وابستہ کر رکھے ہیں”۔ "یہ وہ وقت تھا جب میری زندگی نے ٹرننگ پوائنٹ لی اور تلخ و شیریں تجربات پر مشتمل ایک لمبا سفر شروع ہوا سوات سے کراچی گیا، کراچی سے ملائیشیا، ملائیشیا سے تھائی لینڈ، تھائی لینڈ سے دوبئی، دوبئی سے سعودی عرب اور سعودی عرب سے آمریکہ جا پہنچا اور اب وہاں سے صرف 28 سال کی عمر میں ایک دولت مند انسان کے طور پر دنیا کے سامنے ہوں”۔

شاہد انور کا انداز تخاطب اصلاحی کم، ملامتی زیادہ ہے۔ وہ "غریب کے بچوں” سے بات چیت کا آغاز کرتا ہے اور پھر اپنی ویڈیوز میں انہیں بے عزت کرنے، ملامت ٹھہرانے اور شرم دلانے کے لیے تمام دستیاب الفاظ کا، نہایت بے باکی سے فراوانی کے ساتھ استعمال کر رہا ہے اور انسانی شرف و فضیلت کی کوئی پرواہ نہیں کر رہا، بات چیت کرتے ہوئے شاہد انور کا چہرہ ہمہ وقت طنزیہ مسکراہٹ سے سجا رہتا ہے۔ مجھے حیرت ہے کہ موصوف خود پشتون ہونے کے باوجود، پشتونوں سے بے پناہ نفرت کا اظہار تقریباً ہر ویڈیو میں ببانگِ دہل کر رہا ہے۔ وہ سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لوگوں کو "شیخ کے غلام”، پشتونوں کو گدھے اور غریبوں کو ذلیل و رسواء قرار دیتا ہیں۔ وہ سعودی عرب میں کام کرنے والوں، پشتونوں اور غریبوں کا تذکرہ ایسے انداز میں کر رہا ہے کہ سخت سردی میں بھی ماتھے پر ٹھیک ٹھاک پسینہ آ جاتا ہے۔

شاہد انور نے آن لائن بزنس کے ذریعے اب تک لاکھوں ڈالرز کمائے ہیں اور وہ دوسروں کو بھی آن لائن بزنس کی جانب، متواتر متوجہ کر رہا ہے اور اس عمل میں وہ غریبوں کو بے غیرت، نالائق، جاہل اور دوسرے نامناسب القابات سے مخاطب کر رہا ہے۔ پاکستان میں رائج نظام تعلیم کا شدید ترین ناقد ہے، کہتا ہے "یہ تعلیمی نظام نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور انہیں غربت سے نکالنے میں مکمل طور پر ناکام ہے، یہ فضول تعلیمی نظام انسانوں کو غلام بنانے اور نسل در نسل غریب رکھنے کے کام آتا ہے اور بس”۔ کچھ لوگ اس کو بطورِ ایک موٹیوشنل سپیکر پسند کر رہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اسے اپنے نامناسب لہجے، باتوں اور انداز و اطوار کی وجہ سے سخت ناپسند بھی ٹھہراتے ہیں۔ شاندار پراپرٹیز، اجلے لباس و پوشاک، معیاری قیام و طعام (اپنی ایک ویڈیو میں کہتا ہے میرے روزانہ کے کھانے پینے پر تقریباً دو ہزار ڈالر خرچ ہوتے ہیں واللہ اعلم باالصواب) ، رنگ بہ رنگ گاڑیوں اور طرح طرح کی گھڑیوں کے بے حد شوقین ہیں جبکہ نمود و نمائش کا بہت زیادہ دلدادہ بھی۔

شاہد انور نے اپنی ایک حالیہ انٹرویو میں، جب اس سے پوچھا گیا کہ آپ کی سب سے بڑی خوبی کیا ہے؟ تو فوراً کہا، "جان جائے، نماز نہ جائے۔ میں نماز کسی صورت نہیں چھوڑتا”۔ مزید پوچھا گیا "آپ کی سب سے بڑی خرابی کیا ہے؟ جواب دیا "اچھی گاڑیوں کے شوق میں مبتلا ہوں اور اسی کو اپنی سب سے بڑی خرابی سمجھتا ہوں”۔ بات چیت جاری رکھتے ہوئے کہا "خود کو محنت کا عادی بنا دیں، جمود کو چھوڑیں، غلط دوستوں سے لازم بچیں یہ آپ کو تباہ و برباد کر دیتے ہیں، رات کو بروقت سو جانے اور صبح سویرے اُٹھ جانے کو عادت بنا دیں اور یہ کہ دولت کمانے میں وقت اور مہارت کو سمجھداری سے استعمال کرنا بہت اہمیت رکھتا ہے”، مزید کہا "دولت مند بننے کے لیے گندی فلموں اور جنسی بے راہ روی سے چھٹکارا پانا لازم ہے، یہ عیوب ذہن، شخصیت، دولت اور صلاحیت کو تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں”۔

شاہد انور اگر چہ زیادہ تر اپنی ویڈیوز میں غربت اور غریبوں کے بارے میں اظہار خیال کرتا رہتا ہے۔ بطورِ ایک موٹیوشنل سپیکر غریبوں کو مخاطب کرتے ہوئے بار بار کہتا ہے "محنت کرو، عقل سے کام لوں اور آن لائن بزنس کے ہزاروں لاکھوں مواقع استعمال کرتے ہوئے اپنی تقدیر بدلو” لیکن اس کے علاؤہ اپنی زندگی اور طرزِ زندگی کی نمائش سے زیادہ عملی طور پر فلاح و بہبود کے لیے اور غریبوں کی مدد میں وہ کچھ بھی کرتا ہوا نظر نہیں آرہا (البتہ اپنے قریبی عزیزوں سے مالی تعاون کرتے ہوئے ان کے کئی ایک مسائل حل کئے ہیں)۔ وہ دولت اور شہرت کے حامل لوگوں میں سے ایک ہے لیکن وہ ان وسائل سے کام لے کر غریبوں کی حالت بہتر طور پر بدلنے میں ان کی کوئی خاص اور واضح مدد نہیں کر رہا۔

شاہد انور کو کوئی بتائے کہ غربت کا مسئلہ اختیاری نہیں معروضی ہے۔ اگر چہ ذاتی جدوجہد، محنت، ہمت اور عقل و شعور سے کام لینا اس معاملے میں اثر انداز محرکات ضرور ہیں لیکن ان کے ساتھ ساتھ گرد و پیش میں رائج نظام اور انتظام، ماحول اور حالات بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ بے شمار لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ قابلیت، آمادگی اور محنت سے لیس ہو کر بھی وسائل کی نایابی، ماحول کے جمود اور حالات کی ستم ظریفی انہیں آگے بڑھنے سے روکے رکھیں ہیں۔ ایسے حالات میں اگر ایک طرف بیداری کے لیے تنقید ضروری ہے تو دوسری طرف دولت، شہرت اور اختیار کے حامل لوگوں پر عملی اقدامات اٹھانے کی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے وہاں صرف تنقید کرنا، سخت سست کہنا، عار دلانا اور پریشان حال لوگوں کو صرف ملامت کرنا کافی نہیں ہوگا۔

شاہد انور نے غربت اور غریبوں کو سختی سے نشانہ بنایا ہوا ہے لیکن اسے یاد رکھنا چاہیے کہ غربت کے حوالے سے معاملہ "ففٹی ففٹی” ہے یعنی کچھ تو لوگ ہمت، محنت اور طے شدہ طریق کار (Process) کے مطابق آگے بڑھنے میں کمی کوتاہی کے شکار ہیں اور کچھ اس مجموعی نظام اور ماحول کی وجہ سے غربت کی چکی میں پس رہے ہیں جو دنیا کے کئی علاقوں میں صدیوں سے چلا آرہا ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے دولت، ہمت، بصیرت، مواقع اور اختیار سے نوازا ہیں انہیں چاہیے کہ غریبوں کو درست رہنمائی، مناسب ٹریننگ، ضروری سٹریٹجی اور ممکنہ تعاون فراہم کر کے غربت کو شکست دینے کا اعزاز اپنے نام کر دیں۔

یہ حقیقت ہے کہ دنیا میں تمام خرابیوں کی جڑ دولت کے بارے میں اختیار کردہ انسانی رویوں میں پیوست ہے۔ انہیں رویوں نے عیاشیوں کو پروان چڑھایا ہیں یا پھر تکلیف دہ محرومیوں کو فروغ دیا ہیں۔ محرومیوں کی مستقل حالت کا نام غربت ہے۔ غربت مصائب کی جڑ ہے، غربت بربادیوں کی ماں ہے، غربت پسماندگی کی آماجگاہ ہے اور غربت پیچھے رہنے کا سب سے طاقتور سبب ہے۔ تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے غربت کو کفر تک پہنچانے والا عیب ارشاد فرمایا ہے۔ زندگی کے اندر ہزاروں لاکھوں ذائقے محفوظ اور موجود ہیں لیکن بدقسمتی سے غریب کے حصے میں کوئی ایک بھی نہیں آتا۔ اس کے نصیب میں صرف دکھوں اور محرومیوں کا ہی ذائقہ آتا ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

شاہد انور کا تعلق سوات سے ہے جبکہ اس کے والد صاحب محترم خورشید انور جماعت اسلامی کے درینہ رکن، نہایت نیک و پارسا انسان، مہربان بزرگ اور صاحب مطالعہ شخصیت ہیں۔ وہ سعودی عرب میں گزشتہ چالیس سال سے محنت مزدوری کر رہے تھے یہاں تک کہ اس کا بیٹا کچھ قدرتی اور کچھ ارادی اور ذاتی خوبیوں کی بدولت، دولت اور شہرت کی چمکدار دنیا میں داخل ہوا لیکن مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ اپنی تمام تر ذہانت و فطانت اور ادراک و اعتماد کے باوجود وہ ذہنی اور جذباتی توازن بری طرح کھو گیا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی زبان اور انداز سے تواتر کے ساتھ نامناسب کلمات اور حرکات صادر ہو رہے ہیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ اسے کوئی احساس یا پرواہ نہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ شاہد انور کو ایک بار نامناسب باتوں اور رویوں کی وجہ سے، اپنے والد صاحب نے گھر سے بیدخل کر دیا تھا۔

شاہد انور نے اپنے بارے میں بتاتا ہے کہ "وہ کچھ عرصہ پہلے والد کا ہاتھ بٹانے سعودی عرب گیا، جو کسی سکول میں چوکیداری کرتا تھا اور صرف 1500 ریال تنخواہ لیتا تھا”۔ کہا میرے والد صاحب نے وہاں تیس چالیس سال مزدوری کی”۔ مزید کہا "جب میں نے اپنے ضعیف باپ کو کسمپرسی میں دیکھا، تو سخت بے چین ہونے لگا کہ اس قدر معمولی تنخواہ کے لیے وہ بے چارہ اس قدر مشکل کام کر رہا ہے”۔ شاہد انور نے بتایا کہ اُسی دن انہوں نے والد سے کہا کہ "آپ واپس پاکستان جائیں، میں کما کر کھلاؤں گا”۔ شاہد انور نے سات ہزار ریال سے وہاں پہ کاروبار کا آغاز کیا۔ بعد میں آمریکہ جانے کا موقع ملا اور اب وہاں اپنی عقل و ہمت سے کام لے کر دوبارا کاروبار شروع کیا اور خوب ترقی کی ہے۔ آج وہ کروڑوں میں کھیل رہا ہے۔

شاہد انور بزعم خود معاشرے میں شعور کے دیے جلانے کی سعی کر رہا ہے۔ وہ آمریکا جیسے پُرلطف، پر آسائش اور مصروف ترین ملک میں وقت نکال کر غریبی پر راضی ہونے والوں کو جگانے میں لگا ہوا ہے۔ میرا خیال ہے اس کے دل میں احساس کا دیا روشن ہے جو اسے پل بھر کے لیے بھی آرام سے رہنے نہیں دے رہا لیکن اے کاش وہ غربت کو کم یا ختم کرنے کے لیے مطلوبہ حکمت اور ہمت بھی رکھتے تو کیا ہی اچھا ہوتا۔ ابھی تک تو وہ صرف بے باکانہ باتوں کی ہمت پائی ہوئی ہے۔ وہ اس بات پر شدید بے چین بلکہ برہم ہے کہ "غربت کے ہاتھوں بے شمار صلاحتیں ضایع ہو رہی ہیں اور غریب بے غیرت عقل اور ہمت سے کام لے کر اسے شکست نہیں دیتا اور ساری زندگی غربت کی مصیبت میں گزار کر مر جاتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ "غربت سے لوگوں کا وقت برباد ہو رہا ہے اور ان کی جوانیاں بری طرح ضائع ہو رہی ہیں”۔

شاہد انور ہر ویڈیو میں لفظ "غریب کے بچوں” سے آغاز کرتا ہے اور انہیں سمجھا رہا ہوتا ہے کہ وہ خدائی فیصلے کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی کم ہمتی اور نالائقی کی وجہ سے آج غریب ہیں۔ ان کے آس پاس دولت کے انبار لگے ہیں۔ بشرط یہ کہ وہ اپنی آنکھیں کھولیں، ہمت کریں اور آن لائن بزنس سے اپنی تقدیر بدلیں”۔

شاہد انور نے ایک ویڈیو میں بتاتا ہے کہ "لڑکی کوتاہ لباس ہو یا ساتر لباس، اس کو بہر صورت توجہ مل ہی جاتی ہے۔ البتہ مرد کے دل کشی یہ نہیں کہ میک اَپ کرے یا کوتاہ لباس پہنے۔ مرد کی اصل دل کشی یہ ہے کہ اس کی جیب بھری ہو۔ وہ دولت مند ہو۔ اس کے پاس قیمتی گاڑی ہو اور ہاتھ پر قیمتی گھڑی”۔

شاہد انور ایک اور ویڈیو میں نوجوانوں کو احساس دلا رہا ہے کہ پیسہ ہو، تو آپ جنت بھی خرید سکتے ہیں”۔ پھر وضاحت کرتے ہوئے کہتا ہے کہ "قرآن کریم میں درجنوں دفعہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے مال کو اللہ کی رضا کی خاطر استعمال میں لائیں۔ جب آپ اپنی دولت سے درد مندوں، غریبوں، مسکینوں، بیواؤں اور مجبوروں کی خدمت کریں گے، تو کیا یہ جنت کا ٹکٹ نہیں؟” مزید کہا کہ "آپ حج کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں، مختلف حقوق ادا کرتے ہیں، خوبصورت مساجد میں نماز پڑھتے ہیں اور یہ سارے کام دولت کے بغیر نہیں ہو سکتے”۔

غریبوں کے بعد دوسرے نمبر پر شاہد انور کی نظر میں معیوب ترین لوگ "نائن ٹو فائیو” کلاس ہے یعنی ملازمت پیشہ لوگ۔ وہ بار بار کہتا ہے کہ "نائن ٹو فائیو جاب کرنے والے لوگ بے غیرت اور نالائق ہیں ایسے لوگ کبھی دولت مند نہیں بن سکتے یہ لوگ پورا مہینہ ڈیوٹی کرتے ہوئے محدود تنخواہ لیتے ہیں اور "خوار و زار” زندگی بسر کرتے ہیں”۔ اس خیال سے ہم بالکل اتفاق نہیں کرتے، دنیا کا سب سے اہم، لائق اور منظم طبقہ "نائن ٹو فائیو” کلاس ہے۔ یہ طبقہ اگر ایک دن بھی کام سے ہاتھ کھینچ لیں تو دنیا کی ترقی، خوشحالی اور دولت مندی کی عمارت دھڑام سے زمین پر آ جائے گی۔ یہ انصاف فراہم کرنے والی عدالتیں، یہ علاج معالجہ کرنے والے ہسپتال، یہ تعلیم دلانے والے کالجز اور سکول، یہ ہوائی سفر کو ممکن بنانے والے ہوائی اڈے، یہ شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنانے والے ادارے اور یہ آن لائن یا آن گراؤنڈ کاروبار کو چلانے والے سارے لوگ "نائن ٹو فائیو” والے ہی تو ہیں۔ شاہد انور یہ طبقہ نہ ہوتا تو آج آپ امریکہ میں ہوتے، دولت مند ہوتے اور نہ ہی سوشل میڈیا سٹار ہوتے۔ آپ کے نام اور کام سے کوئی بھی واقف نہ ہوتا۔ آپ خود بتاتے ہیں کہ میں نے اپنے کاروبار چلانے کے لیے مختلف منیجرز اور ملازم ہائر کیے ہیں اور وہ میرے کاروبار چلاتے ہیں تو بھائی وہی "نائن ٹو فائیو” والے ہی ہیں۔ آپ پورا پورا دن "مزے مزے” کے کام کرتے ہیں یا پھر "مزے مزے” کی باتیں۔ یہ آپ تب کرتے ہیں جب آپ کے کاروبار چلانے والے موجود ہیں۔ "نائن ٹو فائیو” والوں کی قدر کریں، ان کی حوصلہ افزائی کریں ان کا احترام کریں، یقین کریں دنیا کا نظام چلانے میں اس طبقے کا بہت بڑا کردار ہے۔

ہم مانیں یا نہ مانیں، ہم قبول کریں یا نہ کریں شاہد انور ان لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کا نمایندہ ہے جن کے دل میں طبقاتی تقسیم، غربت اور امارت کے درمیان کھینچی گئی گہری لکیروں اور ناہموار سماجی اور معاشی ڈھانچے کے سبب ٹنوں کے حساب سے نفرت بھری ہوئی ہے۔

شاہد انور اگر چہ بے باک، لاپرواہ اور اپنے آپ میں مست نوجوان ہے لیکن اس کے باوجود وہ حساس، باصلاحیت اور خوددار انسان بھی ہے۔ اس کو بدتمیز اور بے دین قرار دے کر لعنت و ملامت کا نشانہ بنانے کے بجائے اسے سنیں، سمجھیں اور اگر کوئی بات درست (لفظی طور پر نامناسب سہی) کر رہا ہوں تو اسے قبول کریں۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے اسے اصل نفرت، غربت سے ہے لیکن کمیونیکیشن گیپ اور جذباتی عدم توازن کی وجہ سے اس کے غیظ و غصب میں غریب بے چارے اور عام لوگ بھی آگئے ہیں۔ اس گیپ کو دو طرفہ طور پر ختم کرنا ہوگا تب وہ ماحول بنے گا جس میں رہ کر ہم ایک دوسرے کو سمجھنے سمجھانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

شاہد انور بھائی کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ غربت کے خلاف جنگ صرف بے باکانہ باتوں کا سہارا لے کر نہ لڑیں بلکہ جو دولت، شہرت اور مواقع اللہ تعالیٰ نے آپ کو عطا کیے ہیں ان سے کام لے کر عملی اقدامات اٹھائے ان شاءاللہ اس کار خیر میں دوسرے بھی بے شمار لوگ آپ کے دست و بازو بن کر غربت کے خلاف آپ کی جد و جہد میں شامل ہو جائیں گے اور یوں بے شمار لوگوں کو غربت کی مصیبت سے نکلنے میں اور ایک خوشحال زندگی بسر کرنے میں کامیابی نصیب ہو جائے گی اور یوں آپ کے لیے دین و دنیا دونوں میں سعادت کے بے شمار دروازے کھل جائیں گے۔ آپ ہمت کریں اور اپنے نام یا اپنے باپ کے نام سے ایک فاؤنڈیشن بنائے اور نوجوانوں کو جدید آن لائن بزنس کی دنیا اور مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے ٹریننگ اور کورسسز کروائیں۔ بے شمار لوگ تیار ہیں، آمادہ ہیں، ضرورت مند ہیں، اہل اور باصلاحیت ہیں لیکن وہ کما حقہ آگاہ نہیں بس انہیں ذرا آگاہ اور ٹرین کرنے کی ضرورت ہے اور پھر آپ دیکھیں گے کہ معاشرہ رفتہ رفتہ غربت سے نکل کر خوشحالی کے باغ میں داخل ہو جائے گا اور آپ کا مقصد (غربت کا خاتمہ) بھی پورا ہو جائے گا۔

برادران عزیز! نماز کو ہم روزانہ جس دعا پر ختم کرتے ہیں وہ ہے "اللہھم ربنا اتنا فی الدنیا حسنہ”۔ آخرت سے پہلے دنیا ہے۔ دنیا کی تمام تر رنگینیاں، خوشیاں، حسن اور خوب صورتیاں بھری جیب میں ہے اور یہ مان لیں کہ خالی جیب کے بغیر یہ دنیا بخدا دوزخ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے