حقیقت کی بات یہ ہے کہ میں روتا نہیں تھا۔۔ بڑے سے بڑا حادثہ دیکھ کر بھی مجھے رونا نہیں آتا تھا۔ لوگ کسی فلم میں جذباتی منظر دیکھ کر رو پڑتے تھے تو میں ہنس پڑتا تھا۔۔ دل گویا پتھر کا تھا، پھر یوں ہوا کہ میری امی جی اس دنیا سے رخصت ہوئیں، میں ہولی فیملی ہسپتال جب پہنچا تو صبح اپنی جنت کو ہنستا مسکراتا چھوڑ کے گیا تھا وہ ہم سب کو روتا چھوڑ کے جا چکی تھیں، امی جی کا بے جان جسم دیکھ کر میں زار و قطار رویا، میں ان کا چہرہ ہاتھ میں لے کر کہتا رہا امی جی، آپ کا شہری لالہ آ گیا ہے۔۔ پلیز آنکھیں کھولیں۔۔
شاید یہ سوچ تھی کہ امی جی مجھ سے اتنا پیار کرتی ہیں، ہو ہی نہیں سکتا کہ وہ آنکھیں نہ کھولیں۔۔ مگر وہ اپنے رب کے حضور پیش ہو گئی تھیں۔۔ جس طرح کی اچھی مسلمان تھیں یقینناً وہ جنت مکین ہوں گی اور بہت خوش ہوں گی لیکن مجھ پر ایسا اثر پڑا کہ اب میں کسی ڈرامہ میں یا فلم میں کسی کی ماں یا باپ کے انتقال کا سین دیکھ لوں تو رو پڑتا ہوں۔
ہوا تو یہ بھی کہ اپنے ابو جی کو جن کی آنکھ میں کبھی آنسو نہیں دیکھا تھا، اپنی رفیقہ حیات کے چہلم پر زندگی میں پہلی بار جب میرے چھوٹے سے بھانجے نے کہا کہ ابو جی کی شادی کروا دیں گے تو ان کی آنکھ سے نکلنے والا آنسو ہمارے دل چیر گیا۔ میری یہ حالت تھی کہ میں رات کو دفتر سے دیر گئے لوٹتا تھا اور آ کے لاؤنج میں اس جگہ بیٹھ جاتا تھا جہاں امی جی کا بیڈ رکھا ہوتا تھا۔ ساری رات جاگتا رہتا اور جب نیند آتی وہیں سو رہتا۔۔
ایک مرتبہ مجھے اس طرح دیکھ کر ابو جی نے میرے بڑے بھائی سے مشورہ کیا اور یوں میں انگلینڈ چلا گیا۔ وہاں جا کے زندگی کے کئی نئے باب وا ہوئے۔۔ پھر رہتے ہوئے مشکلات میں جینا سیکھا۔ واقعی اگر میں امی جی کے انتقال کے بعد بیرون ملک نہ جا بستا تو شاید پاگل ہو جاتا یا پھر وہ غم نہ جاتا۔ پھر آہستہ آہستہ جب زندگی کو سمجھنا شروع کیا تو معلوم ہوا کہ مشکلات سے بچ کر بھاگنا درست نہیں۔
یہ بھی خیال آیا کہ اگر امی جی نہیں رہیں تو کیا ہوا، ابو جی تو ہیں۔ میں کیوں نہ پاکستان جاؤں اور ان کی خدمت کروں؟۔ رات کو سویا تو خواب میں ابو جی کو بیمار دیکھا۔ صبح اٹھا تو پہلا کام ابو جی کو فون کرنا ہی تھا۔ اور فون پر ابو جی کی آواز تھوڑی کمزور تھی۔ پوچھنے پر بتایا کہ صرف بخار ہے۔۔ ایک دو روز میں ٹھیک ہو جائے گا، پریشان نہیں ہونا میرا بیٹا۔لیکن میں نے اسی وقت اپنے ڈسٹرکٹ مینیجر کو فون کیا کہ میں نوکری چھوڑ رہا ہوں کتنا نوٹس درکار ہے؟۔
میرا ڈسٹرکٹ مینیجر پریشان ہو کے فوری دوڑتا ہوا پہنچ آیا، مجھے کہنے لگا کہ تمہاری تنخواہ 26 سو پاؤنڈ سے فوری طور پر 34سو روپے کر رہا ہوں۔۔ میں نے اسے بتایا کہ میں کسی اور کمپنی میں نہیں جا رہا بلکہ پاکستان واپس جا رہا ہوں۔ اس نے بہت زور لگایا اور یہ بھی کہا کہ وہ میرے ابو جی کے ویزے کے لیے بھی میری مدد کرے گا۔ میں نے بہت واضح انداز میں بتایا کہ ویزے کا ایشو نہیں ہے۔ بس میں نے اب پاکستان میں ان کی خدمت کرنی ہے۔
وہ بہت حیران ہوا۔۔ میں کسی کو بھی بتائے بغیر ٹکٹ کٹوا کے واپس پہنچ گیا۔ صرف افتخار بھائی کو معلوم تھا کہ میں پہنچ رہا ہوں، وہ مجھے ائیرپورٹ سے لے کر گھر آئے تو میں سیدھا ابو جی کے کمرے میں گیا، وہ اس وقت سو رہے تھے، اس لیے سمجھے کہ مجھ سے بڑا بھائی ابرار ہے سر پہ ہاتھ پھیرا مگر چہرے پر داڑھی نہ ہونے پر ایک دم سے اٹھے اور سمجھ آئی کہ ابرار نہیں شہریار ہے۔
پھر خوش ہوتے رہے۔۔ بار بار پیار کرتے رہے۔۔ بچپن میں ہماری تربیت کے لیے ہم سے دوری رکھی لیکن امی جی کے جانے کے بعد ابو جی ہم سب بہن بھائیوں کے دوست بن گئے تھے۔۔ امی جی کی ڈیوٹیاں بھی انہوں نے اپنے سر لے لی تھیں۔۔ رات کو دیر سے گھر آنے پر جو انتظار امی جی کر رہی ہوتی تھیں، وہ اب ابو جی کرتے تھے، ہمارے خاموشی سے آنے پر بھی انہیں پتا لگ جاتا تھا۔۔
ہمارے چہرے پر جو پریشانی صرف امی جی کو دکھائی دیتی تھی اب وہ ابو جی کو نظر آنے لگی تھی۔۔خاموشی سے سائیڈ پر لے جا کر کہتے بیٹے پیسے چاہئیں؟۔ پھر خاموشی سے جیب میں پیسے ڈال لیتے۔ خودداری اور وضع داری ایسی کہ جو پیسے میں انہیں لندن سے بھیجا کرتا کہ وہ اپنے اوپر خرچ کریں وہ کسی کی مدد کر کے مجھے بتا دیا کرتے کہ اس سے کسی کی مدد کر دی ہے، میں کہتا کہ وہ میں آپ کی ضرورت کے لیے بھیجتا ہوں کسی اور کے لیے درکار ہوں تو بتایا کریں میں مزید بھیج دیا کروں گا تو کہتے اللہ میرے بچوں کو بہت دے لیکن بیٹا۔۔ اللہ سے دعا ہے کہ بس ہاتھ پاؤں چلتے رہیں۔۔
ایک مرتبہ لندن میں مجھے ملنے کے لیے آئے تو میں انہیں شاپنگ کے لیے لے کر چلا گیا، جہاں سے میں اپنے کپڑے لیتا تھا وہاں لے کر گیا تو سوٹ کی قیمت دیکھ کر کہنے لگے کہ جتنے کا یہ سوٹ ہے اتنے میں چار لے لوں گا پاکستان واپس جا کر۔۔ اور مجھے قسم دے دی کہ یہ سوٹ تم نہیں لو گے۔۔ میں پریشان ہوا تو میرے کزن گلریز نے میرے کان میں کہا تم پھوپھا کو لے کر باہر جاؤ۔۔ قسم تمہیں دی ہے مجھے تو نہیں۔ میں باہر نکلا تو گلریز نے وہ سوٹ خریدا اور لا کر ابو جی کو دے دیا۔
ابو جی کہنے لگے بیٹے تم بھی شیری کی طرح ہو، اسے منع کیا تھا تم اٹھا لائے۔۔ بچوں کو خرچ نہیں کرنے دیتے تھے۔ جب ہمیں میڈیا ٹاؤن میں پلاٹ ملے تو مجھے کہنے لگے بیٹے اپنا مکان بنا لو۔۔ میں نے کہا ابو جی، تنخواہ میں گزارا مشکل سے ہوتا ہے کیسے مکان بناؤں۔۔ ایک روز خاموشی سے میرے پاس آئے، دس لاکھ روپے کا چیک دیا اور کہا اپنا مکان شروع کرو۔۔ میں نے سوچنا شروع کر دیا کہ کیسے گھر بنانا شروع کروں، اتنے میں اپنے پلاٹ کی اچھی آفر مل گئی۔ میں نے پلاٹ فروخت کر دیا اور اس کے بدلے مکان خرید لیا۔۔ جب مکان کا بیعانہ دیا تو میری اور میری اہلیہ کی خواہش تھی کہ سب سے پہلے ابو جی کو مکان دکھائیں۔
جب ابو جی نے پہلی مرتبہ مکان دیکھا تو بہت خوش ہوئے، میرا ماتھا چوما، ڈھیروں دعائیں دیں اور بولے کہ بس بیٹا مجھے تمہاری ہی فکر تھی، اس دن بہت خوش تھے۔ سب کو خود فون کر کے میرے مکان خریدنے کی خبر سنائی۔۔ بولے کہ میری فکر ختم ہو گئی ہے کیونکہ تم سب سے چھوٹے ہو۔۔
ایک روز شام کو دیر سے فون آیا اور مجھے کہا کہ مشاعرہ کی صدارت کر رہا ہوں اور یہاں لیٹ ہو جاؤں گا۔ مجھے گھر چھوڑ دو گے؟۔ میں نے کہا آپ حکم کیا کریں، پوچھا نہ کریں۔
بہرحال، جب دفتر سے نکلنے لگا تو یاد آیا کہ اپنی گاڑی تو ورکشاپ چھوڑ کر آیا ہوں۔ اپنے دوست عبد الرزاق سیال کو فون کیا جو میرا ہمسایہ بھی تھا اسے صورت حال بتائی تو وہ فوراً آ گیا، کہنے لگا اسی بہانے مشاعرہ بھی سن لیں گے۔۔ جب ہم پہنچے تو مشاعرہ ختم ہونے والا تھا، ابو جی کا ہی کلام چل رہا تھا۔ جب ہم ابو جی کو گھر چھوڑنے جا رہے تھے تو یہ خیال بھی نہ تھا کہ یہ ہماری آخری ملاقات ہو گی۔۔
اللہ پاک سے دعا ہے کہ میرے ابو جی اور امی جی کا اگلا جہان اچھا کرے۔ آمین