دریائے سندھ میں پھول پھینکیں گندگی نہیں،یہ جملہ ہے ڈیرہ اسماعیل خان کے طول و عرض میں رہنے والے عوام کاجو ہر سال 23 مارچ کو دریائے سندھ میں پھول پھینک کر اس سے اظہار محبت کرتے ہیں اور دنیا پر واضع کرتے ہیں کہ دریاؤں میں گند نہیں پھینکے جاتے بلکہ پھول پھینکے جاتے ہیں، ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے پہلو سے گزرنے والا دریائے سندھ نہ صرف پاکستان کا سب سے بڑا دریا ہے بلکہ اس کے اطراف میں آباد عوام کی حسین امیدوں کا مرکز بھی ہے، ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے بالکل ساتھ صدیوں سے جاری دریائے سندھ اس علاقے کی معاشی اور زرعی ضروریات پوری کر رہا ہے،صدیوں سے بہنے والے دریائے سندھ سے ڈیرہ اسماعیل خان کی عوام کو ایک خاص محبت ہے.
ڈیرہ اسماعیل خان سے گزرنے والا دریائے سندھ پاکستان میں پانی کی ضروریات پوری کرنے والا سب سے بڑا ذریعہ ہے، کئی لاکھ ایکڑ رقبے پر مشتمل زمینوں کو سیراب کرنے والا دریائے سندھ اس وقت اپنی بقا سے دوچار ہے، بارشوں کی کمی اور موسمیاتی تبدیلی کے اثرات دریائے سندھ پر بھی اثرانداز ہورہے ہیں اور پورا سال لبا لب بہنے والا دریائے سندھ اب سال کے اکثر مہینوں میں خشک ہوتا ہے، رہی سہی کسر میانوالی کی تحصیل کندیاں کے مقام پر بنائے جانے والے چشمہ بیراج نے پوری کردی ہے، جس سے دریائے سندھ کا بہت سا پانی سی آر بی سی اور دیگر چھوٹی نہروں میں ڈال کر ڈیرہ اسماعیل خان، بھکر، ڈیرہ غازی خان اور جنوبی پنجاب کی زمینوں کو سیراب کیا جاتا ہے، دریائے سندھ اس وقت اپنی بربادی پر ماتم کناں ہے.
خوبصورت دریائے سندھ میں اس وقت ڈیرہ شہر کا سارا گندا پانی اور گندگی ڈالی جارہی ہے جسکی وجہ سے نہ صرف دریا کا پانی گندا اور بدبودار ہوگیا ہے بلکہ اس وسیع اور بڑے دریا میں پلنے والی سینکڑوں آبی مخلوقات ناپید ہوتی جارہی ہیں، چند سال قبل ڈیر اسماعیل خان کے سیوریج سسٹم کا رخ دریائے سندھ کی طرف موڑا گیا اور شہر کے گندے پانی کو دریائے سندھ میں براہ راست ڈالا جانے لگا اب صورت حال یہ ہے کہ ناصرف دریائے سندھ کی خوبصورتی ماند پڑگئی ہے بلکہ گندگی اور شدید ترین بدبو کی وجہ سے لوگوں کا یہاں کی سیر کرتے دم گھٹنے لگتا ہے، اس حوالے سے دریائے سندھ میں مچھلیوں کے شکار کے ٹھیکے لینے والے خاندان کے فرد مطلوب سندھی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب سے دیائے سندھ میں ڈیرہ اسماعیل خان شہر کا گندا پانی ڈالا جانے لگا ہے تب سے یہاں پر مچھلی کی پیداوار کم ہوگئی ہے آج سے 10 سے 15 سال پہلے دریائے سندھ میں مختلف اقسام کی کئی مچھلیاں نہ صرف کثیر تعداد میں پائی جاتی تھیں بلکہ نئی نسلیں پروان چڑھتی رہیں.
سب سے خوبصورت بات یہ تھی کہ یہاں افزائش پانے والی مچھلیوں کا ذائقہ بڑا لذیز ہوتا تھا لیکن اب وہ ذائقہ ختم ہوچکا ہے، یہاں پر جھینگا مچھلی، ڈھاکہ فش، رہو مچھلی اور دیگر کئی اقسام کی مچھلیاں پائی جاتی ہیں، پورے پاکستان کے دریاوں میں دریائے سندھ واحد دریا ہے جہاں ڈی آئی خان کے مقام پر اندھی وہیل مچھلی پائی جاتی ہے جو پاکستان میں کہیں اور نہیں پائی جاتی لیکن گذشتہ کئی سالوں سے یہاں ڈالے جانے والے گندے، مضر صحت اور کیمیکل زدہ پانی کی وجہ سے مچھلیوں اور دیگر آبی مخلوقات کی نسلیں ناپید ہوتی جا رہی ہیں، مطلوب سندھی نے بتایا کہ پہلے مچھلی پکڑنے کا کاروبار منافع بخش تھا لیکن اب یہ سراسر نقصان میں جا رہا ہے کیونکہ دریا میں پانی بھی کم ہے اوپر سے کیمیکلز اور گندے پانی کی وجہ سے دریا میں مچھلیوں کا زندہ رہنا مشکل ہوگیا ہے.
کثیر تعداد میں مچھلیاں مر رہی ہیں، دریا سندھ کی اس صورتحال پر ماتم کناں ملاح امداد عرف مدو جو دریائے سندھ میں کشتی چلاتا ہے نے بتایا کہ گدلے اور گندے پانی کی وجہ سے اب اس دریا میں کشتیاں چلانا بہت مشکل ہو گیا ہے کیونکہ پانی سے آنے والی گندی اور تعفن زدہ بدبو کی وجہ سے عوام بھی اب کشتیوں میں دریا کی سیر کرنے سے کتراتے ہیں اور یوں ناصرف اب عوام دریا کی سیر کی تفریح سے محروم ہوگئے ہیں بلکہ ہمارا روزگار بھی متاثر ہو گیا ہے.

اس حوالے سے ڈاکٹر فاروق گل بیٹنی نے بتایا کہ دریائے سندھ میں ڈی آئی خان شہر کا سارا گندا پانی جس میں اکثریت شاپر بیگز، پلاسٹک بوتلوں، مختلف اشیاء کے ریپرز اور دیگر کیمیکل زدہ چیزوں کی ہوتی ہے دریا میں گرائی جارہی ہیں، افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ پانی ڈیرہ اسماعیل خان کے مضافات کے مختلف نہروں اور موگاجات میں بھی جاتا ہے اور یہاں سے یہ پانی کھیتوں میں لگایا جاتا ہے ان کھیتوں میں مختلف فصلیں اور سبزیاں اگائی جاتی ہیں جن میں گنا، گندم، مکئی، جوار، سرسوں، اسوں، چاول اور سبزیاں شامل ہیں لہذا اس پانی سے سیراب ہونے والی زمینوں میں پیدا ہونے والی سبزیاں اور دیگر فصلوں کے مضر اثرات انسانی صحت پر پڑ رہے ہیں.
اسی پانی کے استعمال کی بدولت ڈیرہ اسماعیل خان میں پچھلے کئی سالوں سے اسہال، یرقان اور پھیپھڑوں کی دیگر بیماریاں زیادہ ہو گئی ہیں، ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کا یہ صاف ستھرا دریا اب گندگی کی صورت اختیار کرچکا ہے اس گندے پانی سے ڈیرہ اسماعیل خان کی مضافات کی جو زمینیں سیراب کی جارہی ہیں اس میں پیدا ہونے والی مختلف قسم کی فصلیں اور سبزیاں انسانی صحت کے لیے نہ صرف مضر ہوچکی ہیں بلکہ یہ تمام اجناس اپنے قدرتی ذائقے سے بھی محروم ہوچکے ہیں، ڈاکٹر فاروق گل بیٹنی نے کہا کہ یہ پانی اتنا زہریلا ہوتا ہے کہ اس پانی سے پیدا ہونے والی فصل کھانے سے انسان ہیپاٹائٹس بی/سی اور حتی کہ ایچ آئی وی کا بھی شکار ہوسکتا ہے حالانکہ یہ مرض پرک یعنی انجکشن سے پھیلتا ہے.
یہ دریا جو ڈیرہ اسماعیل خان اور مضافاتی علاقوں کے لیے زندگی کی علامت ہے شدید ترین آلودگی کا شکار ہے، ماضی میں محکمہ صحت نے کئی دفعہ حکومت سے اس حوالے سے مطالبہ کیا کہ دریائے سندھ میں گرنے والے نکاسی آب کے نالوں کا رخ کسی اور طرف پھیرا جائے اور اس پانی کو براہ راست دریا میں ڈالنے کی بجائے اس کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ قائم کیا جائے جس پر پچھلی صوبائی حکومت نے متعدد یقین دہانیاں کروائیں لیکن ابھی تک اس پر عمل درامد نہیں ہو سکا لہذا دریائے سندھ بدستور شہرکا سارا گندا پانی لیے چل رہا ہے، ڈیرہ اسماعیل خان شہر کے قریب سے گزرنے والے دریائے سندھ میں گندگی ڈالنے اور نکاسی آب کے گندے پانی کی امیزش کے باعث دریا کی بدترین حالت کے حوالے سے جب سینیٹیشن برانچ واسا(WSSC) کے ذمہ داران سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال یقینا بہت گمبھیر ہے اور شہر کا روزانہ لاکھوں گیلن گندا پانی دریائے سندھ میں گرتا ہے اس پانی میں شاپر بیگز، پلاسٹک باٹلز، کاغذ، مختلف اشیاء کے ریپرز، گٹر کا سیلن زدہ پانی، گھروں میں استعمال ہونے والے صابن اور واشنگ پاوڈر ملا پانی بھی اس میں شامل ہوتا ہے.
اس کے ساتھ ساتھ شہر میں قائم کیمیکلز کے کارخانوں، صابن واشنگ پاؤڈر فیکٹریوں، برف خانوں اور کپڑوں کی رنگائی کی دکانوں کا پانی بھی انہی نکاسی آب کے نالوں سے گزر کر دریائے سندھ میں گر رہا ہے، واسا اہلکاروں نے بتایا کہ واسا اس حوالے سے متعدد بار حکومت کو اگاہ کر چکا ہے کہ اس پانی سے نہ صرف دریائے سندھ آلودہ ہو رہا ہے بلکہ عوام بھی اس سے متاثر ہو رہے ہیں اور دریا کے کنارے فلٹر پانی کے لیے جو ٹیوب ویل اور چھوٹی موٹریں لگائی گئی ہیں وہ پانی بھی مکمل صاف پانی نہیں ہے بلکہ دریا کی زیرزمین پانی کے چشموں سے ان پلانٹس میں زہریلا پانی کسی نا کسی مقدار میں شامل ہورہا ہے، ایک سوال کے جواب میں واسا اہلکار نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے ٹریٹمنٹ پلانٹ کی منظوری ہوچکی ہے جس پر عنقریب کام شروع ہو جائے گا.
حکومت کے اس پروجیکٹ کی سپر ویژن صوبائی حکومت کے ساتھ ساتھ واسا ڈی آئی خان کے پاس بھی ہوگی اور ڈی آئی خان واسا کی منظوری کے بعد ہی سینیٹیشن ٹریٹمنٹ پلان کی تعمیر شروع ہوگی، اس ٹریٹمنٹ پلانٹ میں شہر کے گندے پانی کے ساتھ ساتھ جو ویسٹج ڈمپنگ پلانٹ بھکر روڈ پر واقع ہے اس کو بھی اسی ٹریٹمنٹ پلانٹ کے منصوبے کے دائرہ کار میں لایا جائے گا جس سے شہر کے کچرے کو ٹھکانے لگانے میں آسانی ہوگی اس سلسلے میں ٹریٹمنٹ پلانٹ کے لیے 200 کنال پر محیط جگہ کا بھی تعین کیا جا چکا ہے.
ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر سے نہ صرف شہر کے نکاسی آب کا گندہ پانی کچرے، شاپربیگز اور دیگر مضر اثرات سے پاک ہوکر دریائے سندھ میں ڈالاجائے گا بلکہ اس ٹریٹمنٹ پلانٹ کے ذریعے رہ جانے والی گندگی اور فضلات کو زمینوں کے لیے بطور کھاد کارآمد بنایا جاسکے گا جس سے سالانہ لاکھوں کی آمدن الگ سے ہوگی، محکمہ واسا نے بتایا کہ اس ٹریٹمنٹ پلانٹ سے قریشی موڑ کے قریب قائم ڈمپنگ ڈپو میں موجود گندگی بھی کنٹرول کی جا سکے گی، ٹریٹمنٹ پلانٹ محکمہ سی این ڈبلیو واسا کی منظوری اور اشتراک سے قائم کرے گا اور اس کو مینٹین رکھنے کے لیے باقاعدہ عملہ تعینات کیا جائے گا، امید ہے کہ اس ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تعمیر سے شہر کا گندا پانی دریائے سندھ میں صاف ہوکر گرے گا جس سے دریا میں نہ صرف الودگی ختم ہوگی بلکہ مچھلیوں اور دیگر آبی مخلوق کی پیداوار بھی بڑھے گی، ہر سال 23 مارچ کو دریائے سندھ میں پھول پھینکنے کا دن منایا جاتا ہے اس دن شہر کے باسی سندھ کنارے جاتے ہیں اور پھول اور پھولوں کی پتیاں دریا میں پھینکتے ہیں.
اس رسم کی باقاعدہ تقریب منعقد کی جاتی ہے، یہ رسم نبھانے والے سرائیکی وسیب کے بیٹے محمد رمضان سرحدی بلوچ نے بتایا کہ عرصہ قدیم سے دریا کے کنارے ہی تہذیبیں جنم لیتی رہیں اور پروان چڑھتی رہیں، دریائے نیل، دریائے فرات، دریائے سندھ، دریائے دجلہ، دریائے برہم پترا اور دریائے گنگاو جمنا پرانی تہذیبوں کے مسکن رہے ہیں، پرانے زمانے کے لوگ اپنے دریاوں سے محبت کرتے تھے اور انکو صاف ستھرا رکھنے کی کوششیں کرتے تھے کیونکہ ان وقتوں میں زندگی کا سارا دارومدار دریائی پانی پر ہوتا تھا آج بھی دیگر ملکوں میں دریاوں کو آلودہ کرنے اور ان میں گندگی و ماحولیات کا سبب بننے والی اشیاء پھینکنے کی ناصرف ممانعت ہے بلکہ اس جرم کے مرتکب کے لیے سزا بھی متعین ہے لیکن پاکستان خصوصا” ڈیرہ اسماعیل خان میں دریائے سندھ کو بیدردی سے گندا کیا جارہا ہے لیکن حکومت کوئی ایکشن نہیں لے رہی.
محمد رمضان سرحدی بلوچ نے بتایا کہ دریائے سندھ ڈی آئی خان سے آلودہ کیا جارہا ہے اور یوں یہ دریا آگے جنوبی پنجاب اور سندھ میں آلودہ زدہ شکل میں داخل ہورہاہے جو یقینا” انسانی صحت کے لیے زہرقاتل ہے، رمضان سرحدی کیطرح ڈی آئی خان کے دیگر باسیوں نے بھی دریائے سندھ کو آلودگی سے پاک کرنے پر زور دیا اور شہر کے گندے پانی کو دریا میں ڈالنے سے روکنے کا مطالبہ کیا، تاکہ یہاں کے شہری آلودہ خوراک کھانے سے محفوظ رہیں، آنے والی نسلیں صحت مند پیدا ہوں اور شہریوں کو صاف ستھرے دریا کنارے تفریح کے بھرپور مواقع میسر آسکیں،