لیڈی ڈیانا: ایک ہمدرد، خوبصورت اور انسان دوست شہزادی

دل کی دنیا ایک وسیع و عریض اور لق و دق صحرا جیسی ہے اس کو آباد کرنا اور اسے سرسبز و شاداب گلستان میں بدلنا ہر انسان کا اپنا اپنا کام ہوتا ہے، کوئی چاہے تو اس کو بسا لیں اور کوئی چاہے تو اسی طرح چھوڑ دیں جس طرح مطلق حالت میں یہ ہوتی ہے۔ دل کی آبادی کے لیے محبت، خدمت، امید، جذبہ، علم، معرفت، نرمی، خاموشی،صبر، نظر، سکون، ٹھہراؤ، اخلاق، کردار، شرافت، نفاست، اور اظہار و اعتراف جیسی معنوی خوبیوں کی اشد ضرورت ہوتی ہے، اس کے بغیر دل آباد ہوتا ہے نہ روشن، مسرور رہتا ہے نہ مطمئن اور ہرا بھرا ہو سکتا ہے نہ سچا و کھرا۔

مختلف کردار و اخلاق، چہرے و رویے، جلال و جمال، معنی و خوبی اور صلاحیت و قابلیت ایسی جوہری چیزیں ہر دم دل کی دنیا بسانے کو اس پر دستک دے رہی ہیں تاکہ دل میں بہار کا سماں پیدا کریں لیکن کسی کا دل کھلتا ہے اور کسی بخیل کا نہیں بھی۔ بعض لوگوں کو اس دنیا میں شر اور تخریب کے علاؤہ ہی کچھ نظر نہیں آتا اور وہ ہر وقت اپنے دل و دماغ کو اسی مخمصے میں الجھائے رکھتے ہیں کہ دنیا میں کوئی خیر، کوئی خوشی، کوئی اچھائی یا کوئی بہتری موجود نہیں۔ ایسے لوگوں کی زبانیں شکایتوں کی مشینیں، آنکھیں مایوسیوں کے آئینے بنتی ہیں اور ہاں دل و دماغ نفرتوں کے ٹھیک ٹھاک گھر جبکہ بعض کو یہ دنیا خیر و شر، تعمیر و تخریب، دکھ و سکھ اور کامیابی و ناکامی کے لیے ایک میدان کار محسوس ہو رہی ہے اور اسی کشمکش میں وہ سوچ سمجھ کر اپنا وزن مثبت پلڑے میں ڈال کر اور منفی قوتوں سے اپنا ناطہ توڑ کر قدرت کی منشاء پوری کرنے میں مقدور بھر اپنا حصہ شامل کر رہے ہیں۔

بچپن سے ہی حساس ہوں، نرم خو ہوں، لچک دار ہوں، چاروں اطراف میں دیکھنے والا، بہت کچھ سوچنے سمجھنے والا، امکانات، خوبیوں، صلاحیتوں اور جذبوں کا متلاشی خواہ وہ افراد میں ہو، اقوام میں ہو، ممالک میں ہو، احوال میں ہو یا پھر طرح طرح کے واقعات میں۔ ان میں ہر دم معنی و مقصد تلاش کر رہا ہوں۔ کوئی فرد، کوئی کردار، کوئی چہرہ، کوئی کام یا کوئی مقصد اگر اللہ نے ہماری یا تمہاری نگاہوں میں لے آیا ہے تو وہ ضرور اس سے ہمیں کچھ بتانا، کچھ سمجھانا اور کچھ دلانا چاہتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نفرت، عداوت، جہالت یا حماقت کا شکار ہو کر ان چیزوں پر اپنے دل کا دروازہ کبھی بند نہ کیا جائے۔

بچپن سے لوح قلب پر جو چہرے آبدی طور پر نقش ہوئے ہیں اور جن کی کشش و جاذبیت اور حلاوت و حرارت کی تاثیر سے چالیس کا ہندسہ عبور کرنے کے بعد بھی نہیں نکلا۔ آج بھی یہ چہرے میرے احساسات کو ہر دم رواں اور میرے خون کے چلاؤ کو متناسب رکھتے ہیں۔ یہ بہت ہی خاص چہرے ہیں، یہ ممتاز چہرے ہیں، یہ مہربان چہرے ہیں، یہ خوبصورت چہرے ہیں اور اس قابل چہرے ہیں کہ دل پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نقش رہیں۔

آئیے میرے دل پر نقش چہروں کا ایک اجمالی سا خاکہ ملاحظہ کریں جبکہ ایک چہرے پر تفصیلی تذکرہ سنیں بھی۔ ان چہروں میں میرے والدین کے چہرے، بڑی پھوپھی اور چھوٹی خالا کے چہرے، چھ میں سے دوسرے نمبر کے ماموں اور چند کزنز کے چہرے، قائد اعظم محمد علی جناح اور علامہ محمد اقبال کے چہرے، مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی، میاں طفیل محمد، قاضی حسین احمد اور سید منور حسن کے چہرے، جنرل محمد ضیاء الحق اور نواز شریف کے چہرے، سعودی شاہ فیصل اور شاہ فہد کے چہرے، مشرق وسطی کے ایک نامور لیڈر یاسر عرفات کا چہرہ، سابق جرمن چانسلر ایڈی نور، سابق امریکی صدر ڈیوائٹ ڈی آئزن ہاور اور سابق برطانوی وزیراعظم سر ونسٹن چرچل اور عوام بلکہ بین الاقوام کی شہزادی لیڈی ڈیانا کے چہرے شامل ہیں۔ اس وقت ہمارا موضوع بحث آخری چہرہ ہے۔

لیڈی ڈیانا کی شخصیت، حسن اور چہرہ انسانی تاریخ کے منفرد ترین چیزوں میں سے چند ہیں۔ ایک سحر انگیز شخصیت، ایک حیرت زدہ کرنے والا حسن اور ایک ملکوتی چہرہ کہ بندہ دیکھیں تو بس دیکھتا ہی رہ جائے۔ مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ خالق کائنات نے ڈیانا کی تخلیق کرتے وقت کوئی بہت ہی نایاب قسم کی حور سامنے رکھا ہوگا۔ اس کی آنکھیں، اس کے بال، اس کی قد کاٹھ، اس کے رنگ و روپ، اس کی مسکراہٹ سمیت پورا وجود سپیشل پیمانوں سے ترتیب دیا گیا تھا۔ لیڈی ڈیانا قدرت کا ایک شاہکار تھی۔

لیڈی ڈیانا محض اپنے وجود اور شخصیت کے اعتبار سے ہی ممتاز نہیں تھی بلکہ عوام کے لیے اپنی خصوصی دلچسپی، غریبوں کے لیے جوش و خروش اور مریضوں کے لیے تیمارداری اور حوصلہ افزائی کے جذبے میں بھی اس کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ اس کے لوگوں سے ملنے جلنے کے انداز، نسل در نسل غریبوں، حادثاتی طور پر بنے مریضوں اور جنگ زدہ علاقوں کے متاثرین سے ہمدردی کے قرینے بھی اپنی مثال آپ تھے۔ وہ جب بھی دکھ کے مارے لوگوں کی درمیان جاتی تو ان چہرے روشن اور آنکھیں چمک جاتی اور یوں محسوس ہوتا کہ گویا مایوسیوں کے جنگل میں گھیرے لوگ اچانک امید اور خوشی کی وادی میں اتر آئے ہو۔ وہ شاہی محل کے سخت ترین آداب و رسوم سے سخت نالاں اور عام لوگوں میں زیادہ آسودگی اور سکون محسوس کرتی تھی۔ آئیے لیڈی ڈیانا کی زندگی اور حالات پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

اساطیری شہرت کی مالک لیڈی ڈیانا جیسا کہ عام طور پر پرنسس آف ویلز کے نام سے جانا جاتا ہے، بیسویں ویں صدی کی سب سے محبوب عوامی شخصیات میں سے ایک تھیں۔ یکم جولائی انیس سو اکسٹھ کو سینڈرنگھم، انگلینڈ میں پیدا ہونے والی شہزادی ڈیانا اپنی جاذب ترین شخصیت، خصوصی انسانی ہمدردی، بنیادی انسانی حقوق کے لیے اپنی پرجوش حمایت اور شاہی خاندان کے لیے اپنے منفرد اندازِ فکر کے ذریعے دنیا بھر کے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں اپنا گھر بنا لیا تھا۔

لیڈی ڈیانا کی زندگی کامیابی و ناکامی، راحت و اذیت، دکھ و سکھ اور آس و یاس کی ایک ایسی امتزاج تھی جو اپنی مثال آپ تھی۔ چہرہ ہنستا تھا اور دل روتا، لباس زرق برق تھا اور احساس دکھی، شاہی محل اچھا لگتا تھا اور محل کا مکین برا، اپنے بچوں سے ٹوٹ کر محبت کرتی تھی لیکن شوہر سے نہیں، وہ چارلس کی بیوی تھی بھی اور نہیں بھی وغیرہ وغیرہ۔ جان اسپینسر اور فرانسس روچے کی سب سے چھوٹی بیٹی کے طور پر، ڈیانا برطانوی اشرافیہ کے حلقوں میں خوب پروان چڑھی۔ تاہم، اس کا بچپن مشکلات سے خالی نہیں تھا، کیونکہ اس کے والدین نے طلاق لے لی تھی جب وہ صرف آٹھ سال کی تھی۔ اس ناخوشگوار واقعے نے ڈیانا کی زندگی میں اپنے بچوں کے لیے ایک مضبوط اور مستحکم گھر فراہم کرنے کی خواہش کو جنم دیا تھا۔

تعلیم مکمل کرنے کے بعد، ڈیانا نے ایک آیا اور کنڈرگارٹن ٹیچر کے طور پر کام کیا۔ 1981 میں، 20 سال کی عمر میں، اس نے بین الاقوامی توجہ اس وقت حاصل کی جب اس کی منگنی ملکہ الزبتھ دوئم کے سب سے بڑے بیٹے اور برطانوی تخت کے ولی عہد شہزادہ چارلس سے ہوئی۔ ان کی شاندار اور تاریخی نوعیت کی شادی، جیسا کہ کروڑوں لوگوں نے ٹیلی ویژن پر دم بخود بیٹھ کر دیکھا تھا، اس موقع نے ڈیانا کو ایک عالمگیر شخصیت میں تبدیل کر دیا۔

ویلز کی شہزادی کے طور پر، لیڈی ڈیانا نے جلد ہی اپنے آپ کو شاہی خاندان کے ایک ہمدرد اور متحرک فرد کے طور پر پیش کیا، جو اپنی گرمجوشی، ہمدردی اور عوام کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہنے کے لیے مشہور تھی۔ اس نے بے شمار مرتبہ ایڈز کے مریضوں کو گلے لگا کر، عوامی طور پر ایسے مریضوں کے لیے ناگواری کے تاثر کو ختم کرنے کی کوشش کی۔ لیڈی ڈیانا مختلف جنگ زدہ علاقوں کے دورے کر کے متاثرہ افراد کی بحالی اور شہری آبادیوں کے خلاف جدید ترین ہتھیاروں کے استعمال سے پڑنے والے تباہ کن اثرات کے حوالے سے عمومی بیداری بھی پیدا کرنے کی کوشش کرتی رہی۔

لیڈی ڈیانا ایک شاندار اور بے مثال زندگی کے حامل تھی لیکن اس کے باوجود وہ کئی چیلنجوں سے بھی نبرد آزما تھی۔ شہزادہ چارلس کے ساتھ اس کی شادی پریشان کن ثابت ہوئی اور اس منفرد جوڑے نے کئی سال کی علیحدگی کے بعد 1996 میں باقاعدہ طلاق لے لی۔ بظاہر ہنستی مسکراتی شہزادی اندر سے سخت بے چینی اور افسردگی کا شکار رہتی تھی۔ اپنی آزادانہ طبیعت اور شاہی محل کے سخت آداب کے درمیان سخت عدم مطابقت نے لیڈی ڈیانا کو شدید ذہنی دباؤ میں ڈالی تھی۔

لیڈی ڈیانا اپنی ذاتی مشکلات کے باوجود، اپنے انسانی ہمدردی کے کاموں، جاندار عوامی رابطوں اور دنیا بھر میں مثبت تبدیلیوں کے لیے متحرک رہتی۔ اس نے بے گھری، منشیات کی لت اور دماغی صحت جیسے مسائل پر اپنی خصوصی توجہ مرکوز رکھی اور ایسے متاثرین کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی مدد کے لیے انتھک محنت کرتی تھی۔ عام لوگوں کے ساتھ گرم جوش تعلقات رکھنے کی وجہ سے اسے "پیپلز پرنسس” کا لقب ملا۔ لیڈی ڈیانا عوام سے گہری وابستگی کے سبب عوامی سطح پر بے حد محبوب شخصیت بن گئی تھی۔ وہ ہر طرح کے لوگوں سے بے حد گرم جوشی اور دل آویز مسکراہٹ سے ملتی چاہے ان کی سماجی حیثیت کچھ بھی ہو۔ اس نے پوری سرگرمی سے طرح طرح کی رکاوٹوں کو توڑنے اور شاہی خاندان کے سخت رسمی اداب کو چیلنج کرنے کی بھی کوشش کی۔

لیڈی ڈیانا کی زندگی شاندار تھی، باوقار تھی، متحرک تھی اور انسانی ہمدردی کے جذبے سے بھرپور بھی لیکن یہ مختصر بھی بہت تھی اور حد درجہ درد ناک انجام والی بھی۔ ستمبر 1997 کو صرف 36 سال کی عمر میں، دوران سفر پیرس میں ایک کار حادثے میں اس کی زندگی، موت کی وادی میں اتر گئی۔ اس کی اچانک موت نے پوری دنیا میں اس کے چاہنے والوں کو غم اور سوگ میں مبتلا کر دیا تھا۔ اس اندوہناک واقعے پر لاکھوں لوگوں نے شہزادی ڈیانا کو خراج عقیدت پیش کیا تھا۔

لیڈی ڈیانا کے انتقال کے کئی عشرے بعد بھی، اس کی شہرت، مقبولیت اور محبوبیت قائم و دائم ہے۔ اس کا نام آج بھی حسن، فیشن اور انسانی ہمدردی کے حوالے سے بار بار ہر مقام پر لیا جاتا ہے۔ اس کے ملبوسات، خطوط اور دوسری زیر استعمال چیزیں لاکھوں ڈالرز میں نیلام ہو رہیں ہیں۔ ایڈز کے مریضوں، بارودی سرنگوں کے متاثرین اور دماغی صحت کے مسائل سے نبرد آزما لوگوں کے بارے میں بیداری پیدا کرنے کے لیے اس کے کام، لاتعداد افراد کو اس کے نقش قدم پر چلنے اور ایک زیادہ ہمدرد اور مہربان شخصیت بننے کی ترغیب دیتا ہے۔

لیڈی ڈیانا کے اثر و رسوخ آج بھی قائم ہیں، یہ اثر و رسوخ "پرنسس آف ویلز میموریل فنڈ” کے جاری کاموں میں دیکھا جا سکتا ہے، جو کہ دنیا بھر میں فلاحی اقدامات اور انسانی ہمدردی کے مختلف منصوبوں کی مدد کر رہا ہے۔ اس کے بیٹوں، پرنس ولیم اور ہیری نے بھی اس کے فلاحی کاموں کے تسلسل کو آگے بڑھایا ہے، اور اس پلیٹ فارم کو اس کے متعین کردہ مقاصد کے لیے خوب استعمال کر رہے ہیں۔

لیڈی ڈیانا نے زندگی میں دو بار پاکستان کا دورہ کیا تھا، پہلی بار 1991 میں اور دوسری بار 1997 میں۔ پہلے دورے کے بارے میں مشہور سیاستدان بیگم عابدہ حسین کہتی ہے کہ دورے کے تیسرے روز لیڈی ڈیانا نے ان سے اپنی ذاتی زندگی سے متعلق بات چیت کی۔ "لیڈی ڈیانا نے مجھے اپنے اور پرنس چارلس کے تعلقات میں تناؤ کا تذکرہ بھی کیا اور کہا کہ "شہزادہ چارلس ان سے محبت نہیں کرتے۔ تاہم، وہ اپنے دونوں بیٹوں سے بے حد پیار کرتی ہیں۔ لیکن وہ کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی۔” عابدہ حسین نے کہا کہ میں نے لیڈی ڈیانا کو یہ مشورہ دیا کہ "آپ کے پاس وہ سب کچھ ہے جو کسی بھی عورت کی خواہش ہو سکتی ہے۔ لہذٰا، اپنے بچوں کی خاطر وہ اپنی شادی سے متعلق انتہائی قدم نہ اٹھائیں۔ جس پر ڈیانا نے ان کو صرف اتنا کہا کہ "وہ یہ بات جانتی ہیں۔ لیکن ایسی شادی چلانا بہر صورت بہت مشکل کام ہے”۔ بیگم عابدہ حسین نے مزید بتایا کہ "لیڈی ڈیانا پاکستانیوں کے دلوں میں بستی تھیں۔ وہ جہاں بھی گئیں ان کا والہانہ استقبال کیا گیا”۔ ان کا کہنا تھا کہ "شہزادی ڈیانا اس دورے کے دوران لاہور اور پشاور بھی گئیں۔ جب کہ انہوں نے چترال کا بھی دورہ کیا”۔ ان کے بقول، وہ جہاں بھی گئیں شہریوں کی لمبی قطار ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے موجود ہوتی تھی”۔ عابدہ حسین کہتی ہیں کہ "شہزادی ڈیانا کو چترال بہت پسند آیا تھا۔ انہوں نے وہاں کا روایتی لباس اور ٹوپی زیب تن کی تھی۔ "شہزادی ڈیانا نے اپنے دونوں بیٹوں کے لیے وہاں کی روایتی پگڑیاں خریدنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جس پر میں نے انہیں آسمانی رنگ کی پگڑیاں خریدنے کا مشورہ دیا۔ جو لاہور کے ایچیسن کالج کی وردی کا بھی حصہ ہے۔ ڈیانا نے ان کے علاوہ دو سفید رنگ کی پگڑیاں بھی خرید لیں”۔

کس قدر دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ آٹھ نو ماہ سے مشرق وسطی میں تاریخ کا بدترین ظلم جاری ہے لیکن دنیا کا کوئی بھی نمایاں شخص نشانہ بننے والے مظلوموں کے پاس نہیں گیا۔ ایک تاریخی علاقہ مکمل طور پر کھنڈر بن چکا ہے اور تقریباً پچیس لاکھ کی انسانی ابادی کو جس بدترین وحشت اور بربریت سے جدید ترین ہتھیاروں کے ذریعے نشانہ بنایا جارہا ہے حالیہ تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ بچے، بوڑھے، جوان، بیمار، بھوکے، بے گھر اور خواتین سب نشانے پر ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ اگر لیڈی ڈیانا آج زندہ ہوتی تو غ ز ہ کے آس پاس ایک کیمپ بناتی اور نہ صرف مظلوم انسانوں کی ہر طرح سے مدد کرتی بلکہ وہاں جاری ظلم کے خلاف مسلسل اپنی آواز بھی اٹھاتی اور عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش بھی کرتی۔

لیڈی ڈیانا اپنی شاندار شخصیت، بے مثال حسن، اعلی انسانی خدمات اور ناقابلِ تصور شہرت اور مقبولیت کے باوجود کچھ ایسی علتوں میں مبتلا تھی جن کی وجہ سے وہ طرح طرح کے بحرانوں میں گرفتار ہو چکی تھی۔ اس سلسلے میں سب سے بڑی علت اس کے دنیا بھر میں پھیلے مردوں کے ساتھ تعلقات اور معاشقے تھے۔ ایک عورت کے لیے اس شناخت کے ساتھ رہنا کسی کے لیے بھی قابلِ قبول نہیں ہوتا، عزیزوں کے لیے، خاندان کے لیے اور نہ ہی سماج کے لیے۔ اے کاش وہ اس علت میں کبھی مبتلا نہ ہوتی یا کسی حد پر جا کر رک ہی جاتی تو امید کی جا سکتی تھی کہ جن بحرانوں اور دردناک انجام سے وہ دوچار ہوئی، نہ ہوتی۔

ڈیانا کا ہمدردانہ کردار، اس کی متحرک شخصیت، غریبوں، معذوروں اور مریضوں کے بحالی کے لیے اس کی لگاتار کوششوں اور پسماندہ افراد کی زندگیوں میں بہتر تبدیلی لانے کے لیے اس کا غیر متزلزل عزم ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ اس کے لوگوں کی زندگیوں میں نسل در نسل جاری جمود کو توڑنے، پسماندہ طبقوں کے لیے آواز اٹھانے اور جنگ زدگان کی بحالی اور دنیا بھر میں ایک مثبت تبدیلی لانے کے لیے اس کی کوششیں بہر صورت لائق تحسین ہیں۔ لیڈی ڈیانا کی زندگی اس لحاظ سے بھی قابلِ ذکر ہے کہ اس نے اونچے طبقے میں رہتے ہوئے، دبے طبقات کے دکھ درد کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ انہیں کم کرنے میں پرجوش حصہ لیا۔ یہ کردار ان لوگوں کے لیے ایک روشن مثال ہے جو اپنی زندگیوں کو دوسروں کی خدمت کے لیے وقف کرنے کا عزم رکھتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے