صبح کے قریب چھ بجے، پھوپھی کے گھر دسترخوان پر ناشتے کے بعد، میں پوری شان و شوکت سے تیار ہو کر گھر سے روانہ ہوا۔ اب بھلا اس ٹاؤن کا راستہ کون سا نیا تھا؟ یہاں تو آنا جانا ایسے تھا جیسے چاند کا ستاروں میں آنا۔ لیکن آج کی صبح… آج تو واپڈا ٹاؤن جیسے کسی شاعر کے خواب میں اُتر آیا ہو۔ ہلکی ہلکی ہوا، بادلوں کی اوٹ میں جھانکتا سورج، اور راستے کے دونوں اطراف کھڑے درخت بھی کچھ زیادہ ہرے بھرے دکھائی دے رہے تھے۔۔
بس! دل میں خیال آیا، "اے دوست! موسم تو بہت مہربان ہے مگر تیرا دھیان ذرا کمزور ہے، چھتری لانا بھول آیا!”
سو ارادہ باندھا کہ پہلے چھتری خریدی جائے، اس کے بعد باقی مہم سر کی جائے۔ ایک عدد ٹیکسی کی اور بازار کا رُخ کیا۔ لیکن وہاں جا کے دیکھا تو بازار بھی نیند کے مزے لوٹ رہا تھا۔ سوائے چائے خانوں کے، جہاں چائے کے بھاپ اڑاتے دیگچیاں اور صدیوں پرانے مباحثوں میں الجھے بزرگ نظر آ رہے تھے، باقی سب دکانیں بند تھیں۔
چھتری کی حسرت دل میں لیے قیوم اسٹیڈیم کی راہ لی۔ خیال تھا کہ اب تک تو وہاں خوب رونق لگ چکی ہوگی۔ دل ہی دل میں گنتی بھی کر لی، "ابھی تو سوا کم آٹھ بج رہے ہیں، یقیناً لوگوں کا میلہ لگا ہوگا۔”
لیکن جب اسٹیڈیم کے اندر قدم رکھا تو منظر بالکل اُلٹا تھا۔ چند گنے چنے چہرے، اور بس۔
دوستوں کے ساتھ رسمی علیک سلیک کے بعد، دو بسیں نظر آئیں، جن میں سے ایک بس کی سیٹ پر میں نے اپنا بیگ رکھ دیا اور خود پھر باہر آ گیا۔ دل میں بس ایک ہی شکوہ تھا:
"فرمانِ شاہی تو یہ تھا کہ ساعتِ ہفت بجے یہاں رونق افروز ہوں، مگر فرمان جاری کرنے والے خود ایسے غائب گویا زمین نے نگل لیا ہو یا آسمان نے اچک لیا ہو!”
اتنے میں خیال آیا، "چلو ہریرہ کو ہی کال ملا لوں، دیکھیں حضرت کہاں تک پہنچے۔”
فون ملایا، دوسری ہی بیل پر آواز آئی:
"یار، ابھی تو بسترِ استراحت سے نکلنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ دس پندرہ منٹ میں تیار ہو کے آتا ہوں۔”
میں نے قدرے بے زاری سے کہا،
"جلدی آ بھائی، مزید باتوں سے ٹائم اور بھی خراب ہو جائے گا۔”
یہ کہہ کر فون بند کر دیا اور آنے والے دوسرے احباب کو سلام کہنے کے لیے دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
اُن میں کچھ چہرے تو شناسا تھے۔ جن سے پہلی ملاقات پشاور لٹریری فیسٹیول میں ہو چکی تھی۔ بات چیت کی گنگا وہیں سے بہنے لگی۔ مگر کچھ ہمسفر ایسے بھی تھے جن کی صورتوں میں اجنبیت کا پردہ ابھی قائم تھا۔ دل میں خیال آیا،
"چلو خیر، تین دن کے ہمسفر ہیں، جان پہچان تو ہو ہی جائے گی۔”
تبھی نگاہ دور سے آتے ایک شناسا وجود پر جا ٹھہری۔ ارے یہ تو ہریرہ ہے!
دائیں ہاتھ میں ایک عدد سوٹ کیس، بائیں ہاتھ میں چھتری تھامے ایسے چلا آ رہا تھا گویا کوئی بادشاہ اپنے قافلے کے ساتھ لشکر کشی پر روانہ ہو۔
چھتری دیکھ کر میرے دل میں بھی چھتری کی وہی پرانی ادھوری تمنا جاگ اٹھی۔ سوچا،
"اگر یہاں مل گئی تو سبحان اللہ، ورنہ جہاں گاڑی رکے گی، وہیں مقدر آزمائیں گے۔”
لیکن اے افسوس! پشاور کی اس سحر انگیز صبح میں بازار ابھی بھی بند تھے۔ چھتری کی تلاش ایک بار پھر ناکام رہی۔ دل میں یہ غم بھی تھا کہ بازار بند ہے اور دوسرا غم یہ کہ وقت ہاتھ سے ریت کی مانند پھسل رہا ہے۔ مجبوراً واپس اسٹیڈیم کا رُخ کیا۔
جب پہنچا تو دیکھا، انتظامیہ اب تشریف لا چکی ہے۔ شہاب بھائی موجود تھے، جن کا پورا نام شہاب الدین ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ان کا ایک دلچسپ، نیم مزاحیہ لقب بھی ہے، جو میں ابھی راز میں رکھتا ہوں — وقت آنے پر وہ بھی افشا کروں گا۔
لیکن عبدالرحمٰن بھائی کا کہیں اتا پتا نہ تھا۔ دل میں خیال آیا،
شاید وہ بھی وقت کے اس قافلے میں کہیں گم ہو چکے ہیں۔”
دیکھتے ہی دیکھتے، سوا آٹھ بجے تک قافلۂ ہمسفر تقریباً مکمل ہو چکا تھا۔ گویا بادلوں کی اوٹ سے نکل کر سورج کی کرنیں جیسے آہستہ آہستہ منظر پر ابھرتی ہیں، ویسے ہی دوست ایک ایک کر کے نمودار ہو رہے تھے۔ مگر… کچھ احباب ایسے بھی تھے جنہیں راستے میں اٹھانا مقصود تھا، اور چند ابھی تک مقدر کی راہوں میں گم تھے۔
اتنے میں جیسے قدرت کو ہماری روانگی پر رشک آ گیا ہو، ایک دم بادلوں نے بانہیں پھیلائیں، اور بارش چھم چھم برستی ہوئی زمین سے لپٹ گئی۔ بارش کی پہلی بوند گری نہیں کہ دل نے چھتری کا نوحہ چھیڑ دیا۔ دل کہنے لگا:
"اے نادان مسافر! اب تو سمجھ آیا، چھتری کیوں ضروری ہوتی ہے؟”
ہنسی بھی آئی اور افسوس بھی۔ خود پر، قسمت پر، اور اس صبح کے معصوم بھولپن پر۔
خیر، بارش کی جلترنگ کے سائے میں ہم سب اپنی اپنی بسوں میں سوار ہو گئے۔ میں بھی جا کر اپنی مخصوص سیٹ پر براجمان ہوا۔ میرے پہلو میں عبدالرحمٰن بھائی تھے — پی ایف کے والنٹیئر، جن سے تعارف تو پہلے کا تھا مگر دوستی ابھی کچے دھاگے کی طرح تھی۔ دل میں خیال آیا،
چلو خیر، یہ سفر اس دھاگے کو مضبوط رشتے میں باندھ دے گا۔”
میں نے شیشے کی طرف والی سیٹ سنبھال لی۔ بارش کی بوندیں شیشے پر ایسی ٹھہری ہوئی تھیں گویا مصور نے آسمان سے زمیں پر قطرہ قطرہ کوئی نظم لکھ دی ہو۔ عبدالرحمٰن بھائی میرے ساتھ درمیان والی نشست پر تھے، اور سب سے اگلی لائن میں، بائیں جانب، افاق براجمان تھے۔
آفاق… جی ہاں وہی آفاق، جن کے ہاتھ میں کیمرہ آ جائے تو تصویر محض تصویر نہیں رہتی، لمحہ ٹھہر جاتا ہے۔ ان کے خوبصورت کلکس کا میں پہلے ہی مداح تھا۔ انہیں دیکھ کر دل خوش ہو گیا کہ اب اس سفر کی یادگار تصویریں آفاق کے لینز میں قید ہوں گی۔
عبدالرحمٰن بھائی… کیا ہی دلچسپ شخصیت! شاعری کا ذوق ایسا کہ باتوں باتوں میں شعر یوں برساتے ہیں جیسے بہار میں پھول جھڑتے ہیں۔ خود شاعر تو نہیں، مگر حافظے میں شعروں کا خزانہ ایسا کہ شاید کسی دیوان کا مقابلہ کر لے۔ گفتگو میں ہر چوتھے، پانچویں جملے پر کوئی مصرع یا شعر یوں ٹپکتا گویا زبان پہ کوئی مقدس امانت رکھی ہو۔
اب گاڑی کے انجن میں جان آئی، دعا پڑھ کر قافلۂ سفر ایبٹ آباد کی جانب رواں دواں ہوا۔ میں اور عبدالرحمٰن بھائی کبھی تعلیمی موضوعات پر بحث کرتے، کبھی فنانس پر مکالمہ چھڑتا، اور کبھی اشعار کی محفل جمتی۔
عبدالرحمٰن بھائی فنانس میں ڈگری یافتہ تھے۔ میں نے موقع کو غنیمت جانا اور مالیاتی دنیا کے کچھ رموز و اسرار ان سے سیکھنے کی کوشش کی۔ لیکن دل تو شعروں کی وادی میں ہی اٹکا ہوا تھا۔ سوچا، کیوں نہ میں بھی ان کے سامنے اپنا کلامی ہنر پیش کروں۔
اس سمر کیمپ میں دو عبدالرحمن ہمارے ہم سفر تھے؛ ایک، پی ایل ایف کا منتظم اور اس کیمپ کا روحِ رواں، اور دوسرا، جو پی ایل ایف میں رضاکار رہا، اس بار ہمارا رفیقِ سفر تھا۔ اور ہاں، جو اس لمحے میری بغل میں سیٹ پر براجمان ہے، وہ منتظم عبدالرحمن نہیں، بلکہ وہی رضاکار عبدالرحمن ہے۔”
مزاح کی ہلکی پھلکی چاشنی میں میں نے ایک شعر پیش کیا:
"سب ان کی خانقاہ پہ اکثر ملے مجھے،
اس دور کا تو پیر ہے گوگل میرے مرید۔”
عبدالرحمٰن بھائی کے چہرے پر مسکراہٹ کی قندیلیں روشن ہو گئیں۔ قہقہہ لگا کر بولے:
"واہ واہ! کس کا شعر ہے یہ؟”
میں نے فخر سے جواب دیا:
"اسحاق وردگ کا۔”
انھوں نے چونک کر پوچھا:
"یہ کون صاحب ہیں؟”
دل میں ذرا سا دکھ ہوا۔ میں نے نیم گلہ، نیم مزاح کے انداز میں کہا:
"ارے بھائی! پشاور کے ایسے مشہور شاعر، جنہیں انڈیا تک لوگ جانتے ہیں، اور آپ یہاں بیٹھے لاعلم ہیں؟”
وہ ہنس کر بولے:
"چلو خیر، تم ہی کچھ بتا دو ان کے بارے میں۔”
بس پھر کیا تھا۔ میں نے انہیں اسحاق وردگ صاحب کی تخلیقات، ان کے اشعار اور خاص طور پر ان کی کتاب "شہر میں گاؤں کے پرندے” کا تعارف کروایا۔ کچھ مزید اشعار سنائے، جو ان کے دل میں اتر گئے۔
سفر ہنستے ہنستے، باتوں باتوں میں کٹ رہا تھا۔ کہیں موسیقی کی لَے کانوں میں رس گھولتی، کہیں گفتگو کے موتی بکھرتے، تو کہیں شاعری کی خوشبو دل و دماغ کو معطر کر دیتی۔
راستے میں بس ایبٹ آباد کے قریب ایک سی این جی پٹرول پمپ پر رکی۔ وہاں سب نے کچھ ریفریشمنٹ کی۔ چائے، بسکٹ، اور کچھ ہلکے پھلکے لوازمات کے ساتھ جسم اور دل دونوں کو تازگی ملی۔
ایبٹ آباد کی ہواؤں میں ایک الگ ہی تازگی تھی۔ جیسے پہاڑوں کے دامن میں چھپے بادل، زمین سے گلے ملنے کو بیتاب ہوں۔ گاڑی ایک خوبصورت سے پارک کے کنارے دھیرے سے رکی۔
مجھے اور عبدالرحمٰن بھائی کو گویا دل کا بوجھ یاد آ گیا۔ جی ہاں! وہی چھتری… جو ہم پشاور میں لینے میں ناکام رہے تھے، اب اس حسین شہر کی فضا میں بھی اس کی یاد ہمیں بےچین کر رہی تھی۔
بس گاڑی سے اترتے ہی مشورہ طے پایا:
"پہلا فریضہ، چھتری خریدنا۔ باقی سب کام بعد میں۔”
چنانچہ دونوں بارش کے خدشے اور قسمت کے سہارے دکانوں کی طرف چل پڑے۔ پر ہائے بد نصیبی! پہلے پہل تو دکانوں پر نگاہ دوڑائی لیکن ہر بورڈ ہمیں یوں خالی خالی لگا گویا سب نے چھتری بیچنے سے توبہ کر لی ہو۔ پھر سوچا،
"چلو، زبان خلق کو نقارۂ خدا مان لیتے ہیں۔”
کسی راہگیر سے پوچھا۔ اُس نے انگلی کے اشارے سے ایک سمت دکھائی:
"او بھائی جی! اُدھر والی نکڑ پر ایک دکان ہے، وہی چھتری ملے گی۔”
دل میں اُمید کے ننھے ننھے چراغ جل اٹھے۔ جلدی قدموں کے ساتھ اُس دکان پر پہنچے۔ منظر کچھ یوں تھا کہ دکان میں دو قسم کی چھتریاں رکھی تھیں — ایک وہ جو فولڈ ہو کر بیگ میں سما جائے، دوسری وہ لمبی، شان و شوکت والی، جسے ہاتھ میں یوں اٹھانا پڑتا ہے جیسے کسی بزرگ کی لاٹھی۔
اب چھوٹے اور بڑے سائز کی قیمت میں وہی پرانا تضاد تھا، جو دنیا کے ہر بازار میں پایا جاتا ہے۔ چھوٹی والی کی قیمت ہزار روپے، بڑی والی گیارہ سو۔ دل نے کہا:
"یار! یہ تو گویا چھتری نہیں، سونے کا خول ہے۔”
عبدالرحمٰن بھائی نے شانے اچکا کر کہا:
"چلو، اور دکان دیکھتے ہیں۔”
دوسری دکان پر پہنچے۔ لیکن وہاں چھتریاں ایسی تھیں گویا پرانی فلم کے ولن — نہ رنگ کا ڈھنگ، نہ شکل کی بہار۔ دل نے کہا:
"یہ چھتری تو بارش سے نہیں، ہماری عزت سے بھی ہاتھ دھلوا دے گی۔”
تیسری دکان پر پہنچے۔ دکان دار کے چہرے پر وہی مخصوص مسکراہٹ، جو دیکھ کر فوراً سمجھ آ جاتا ہے کہ قیمت میں رعایت کی کوئی گنجائش نہیں۔ خیر، یہاں صورتحال کچھ بہتر تھی۔ چھوٹی چھتری صرف ایک عدد، اور بڑی چھتری دو تین۔ قیمت 900 روپے۔
عبدالرحمٰن بھائی سے مشورہ ہوا۔ میں نے کہا:
"بس! قسمت کا فیصلہ ہو چکا۔ یہی چھتری میرا مقدر ہے۔ یہ میں خرید لوں گا۔
اور وہ پہلے دکان والی چھتری عبدالرحمن نے خرید لی ”
چھتری خرید کر جیسے ہی دکان سے باہر قدم رکھا، آسمان نے گویا اعلان کر دیا:
"بس! اسی کا انتظار تھا!”
بارش ٹپ ٹپ برستی ہوئی یوں ہم پر آن گری جیسے ہماری چھتری کی خریداری پر اُس نے مہرِ تصدیق لگا دی ہو۔
ہم پارک کی طرف بڑھے تو منظر بڑا دلچسپ تھا۔ بارش نے دوستوں کی صفیں درہم برہم کر دی تھیں۔ جس کے منہ جس طرف تھا اسی سمت پناہ گاہ ڈھونڈنے دوڑ پڑا کوئی کسی ریسٹورنٹ میں گھستا جا رہا تھا، کوئی بس کی چھت تلے دوڑ لگا رہا تھا،
میں نے عبدالرحمٰن بھائی سے کہا:
"یار، چلو مسجد کی طرف چلتے ہیں۔ وضو بھی ہو جائے گا، نماز بھی۔”
لیکن بارش… ارے جناب! یہ بارش نہیں، گویا پہاڑوں کا بادل زمین پر اُتر آیا تھا۔ ساتھ میں ایسی آندھی کہ بارش عمودی نہیں، ترچھی برس رہی تھی۔ 95 ڈگری کے زاویے پر! یعنی بارش آسمان سے نہیں، پہاڑ کے دامن سے سیدھی ہمارے گریبان میں آ رہی تھی۔
وضو، نماز سب منصوبے بارش کے سیلاب میں بہہ گئے۔ مجبوراً قریبی ریسٹورنٹ میں جا گھسے۔ ابھی کپڑوں سے بوندیں جھاڑ ہی رہے تھے کہ شہاب بھائی بھی وہاں آ پہنچے۔ وہ آتے ہی بولے:
"یار، تم دونوں کے پاس چھتری ہے نا… ایک ہمیں بھی دے دو، باقی تم دونوں ایک میں ایڈجسٹ کر لینا۔”
عبدالرحمٰن بھائی نے فی الفور اپنی چھتری ان کے حوالے کر دی۔ شہاب بھائی مسکرا کر باہر نکلے۔ اُن کے کندھوں پر تو پورے قافلے کی ذمہ داری تھی، چھتری کیا، خیمہ بھی چھوٹا لگتا۔
کچھ دیر گزری۔ بارش بدستور غضب ڈھائے ہوئے تھی۔ اتنے میں شہاب بھائی واپس ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے۔ ہم نے دیکھا تو حیران رہ گئے۔ کپڑے یوں بھیگے ہوئے تھے گویا چھتری کے ساتھ نہیں، بالٹی کے نیچے کھڑے ہو کر آئے ہوں!
عبدالرحمٰن بھائی نے مسکرا کر کہا:
"یار، چھتری بھی تھی اور پھر بھی یہ حال؟”
شہاب بھائی نے بےبسی سے جواب دیا:
"یار بارش اور ہوا کی ملی بھگت نے چھتری کو بھی دھوکا دے دیا۔ اوپر سے بارش، ایک طرف سے ہوا، اور دوسری طرف میں! باقی چھتری تماشائی بنی کھڑی رہی۔”
ہنسی کا ایک زبردست قہقہہ پورے ریسٹورنٹ میں گونج اٹھا۔ میں بھی ہنستے ہوئے بولا:
"چھتری نے کہا ہوگا… بھائی! ہوا کے آگے تو میں بھی بےبس ہوں۔”
بارش اب بھی اپنا راج جمائے ہوئے تھی۔ بادلوں نے گویا ضد پکڑ لی تھی کہ آج ان مسافروں کو خوب بھگونا ہے۔ میں نے عبدالرحمٰن بھائی کی طرف دیکھ کر کہا:
"یار، وقت کم ہے، چلو جلدی سے کچھ کھا لیتے ہیں۔”
دونوں نے چھتری تان کر دوڑ لگا دی۔ بارش نے تو جیسے قسم کھا لی تھی کہ شہاب بھائی پر برسنے کے بعد اب ہمارا نمبر ہے۔ میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا،
"کہیں یہ اللہ کی طرف سے شہاب بھائی کی پر ہنسنے کا بدلہ تو نہیں؟”
خیر، ہم بھاگتے بھاگتے قریبی ریسٹورنٹ میں جا گھسے۔ وہاں جلدی جلدی دو ڈسپوزیبل ڈبوں میں بریانی پیک کروائی۔ دل کا حال یہ تھا کہ زبان کہہ رہی تھی "بریانی پیک کر دو”، اور دماغ کہہ رہا تھا "بارش سے جان بچا لو”۔
پیکنگ مکمل ہوئی تو پھر اسی چھتری میں دونوں "پناہی گزین”، بالکل ایسے جیسے دو مرغے ایک پنجرے میں ہوں، بارش کی دھاروں سے بچتے بچاتے واپس بس تک پہنچے۔
بس میں پہنچے تو منظر دیدنی تھا۔ سارے دوست بھیگے بال، گیلے کپڑے اور پانی سے تر جوتے لیے یوں بیٹھے تھے جیسے کسی واٹر پارک کی سوغات بن کر آئے ہوں۔ میں نے اپنے جوتے اتارے، جو اب جوتے کم اور چھوٹا سا آبی ذخیرہ زیادہ لگ رہے تھے۔ ساتھ ہی جرابیں بھی نچوڑیں، اور بیگ سے اپنی عقل مندی کی آخری نشانی یعنی چپل نکال کر پہن لی۔ پھر سکون سے اپنی سیٹ پر بیٹھ گیا۔
اب بارش سے فرار ہو چکا تھا، لیکن بریانی کا قیدی بن گیا۔ میں اور عبدالرحمٰن بھائی نے پارسل کھولا، بھاپ اُڑاتی خوشبودار بریانی کو دیکھا، اور گویا دنیا کے تمام دکھ لمحے بھر کو بھول گئے۔
دوسرے دوست بھی یا تو ہوٹل میں کھا چکے تھے یا بس میں کھا رہے تھے جیسے ہی سب اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوئے، بس نے اپنا اگلا پہیہ منزل کی طرف گھما دیا۔
راستے کے نظارے گویا کسی خواب کی مانند تھے۔ پہاڑوں پر بادل جھول رہے تھے، سبزہ بارش میں دھل کر اور بھی دمک رہا تھا۔ میں نے جدید دور کے تقاضوں کے مطابق موبائل نکالا اور ویڈیو بنانی شروع کر دی۔ منظر اتنا دلکش تھا کہ دل چاہ رہا تھا بس یہ لمحہ کبھی ختم نہ ہو۔
ویڈیو بناتے بناتے عبدالرحمٰن بھائی بولے:
"یار، سنو… غالب کا ایک شعر یاد آیا۔”
پھر اُس مخصوص رعب دار آواز میں شعر پڑھا، جس میں ادب بھی تھا اور دل کا درد بھی:
"ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے،
بہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے۔”
میں مسکرا کر بولا:
"واہ واہ! لیکن ایک بات بتاؤ… کبھی ‘غالب’ فلم دیکھی ہے؟”
عبدالرحمٰن بھائی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
"نہیں، پوری فلم تو نہیں دیکھی، بس فیس بک پر چھوٹے چھوٹے کلپس دیکھے ہیں۔”
میں نے کہا:
"او بھائی، وہ فلم تو لازمی دیکھنے والی ہے۔ ایسا شاعرانہ حسن اور ایسا درد… دیکھو تو سہی۔”
وہ ہنستے ہوئے بولے:
"بس یار، ارادہ کر لیا ہے، پہلا موقع ملا تو دیکھ لوں گا۔”
کچھ دیر ہم دونوں خاموش ہوگئے۔ پہاڑوں کے مناظر، بس کی کھڑکی پر پڑتی بارش کی بوندیں، اور سفر کا سرور — سب مل کر دل کو ایک عجیب سی کیفیت میں لے جا رہے تھے۔
پھر اچانک میں نے پوچھا:
"یار، تم نے کبھی افسانے پڑھے ہیں؟”
انہوں نے قدرے سوچتے ہوئے جواب دیا:
"پڑھے ہیں، لیکن کم۔”
اب باری اُن کی تھی سوال کرنے کی:
"اور تم؟”
میں نے مسکرا کر کہا:
"یار، میں نے ڈاکٹر سید زبیر شاہ کے افسانوی مجموعے ‘خوف کے کتبے’ اور ‘یخ بستہ دہلیز’ پڑھے ہیں۔ ان میں ایک جملہ تو دل میں نقش ہوگیا ہے:”
‘وصل کے موسم کا قیام اتنا مختصر نہیں ہونا چاہیے۔’
عبدالرحمٰن بھائی نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
"واہ… یہ جملہ تو کسی پورے افسانے پر بھاری ہے۔”
بس کی فضا میں اب بھی قہقہے گونج رہے تھے۔ دوست اپنی نشستوں پر بیٹھے گپ شپ میں مصروف، کوئی موسیقی لگا رہا تھا، کوئی شاعری سنا رہا تھا، اور کوئی چپ چاپ باہر کے نظاروں میں کھویا ہوا تھا۔
سفر جاری تھا… اور ہر لمحہ ایک نیا قصہ بن رہا تھا۔
بس ابھی اپنی منزل پر رکی ہی تھی کہ شہاب الدین بھائی کی گمبھیر آواز کانوں میں گونجی:
"بھائیو! بیگز ابھی بس میں ہی رہنے دیں، پہلے کمرے معلوم کرلیں، پھر سامان اٹھا لینا۔”
ہم سب نے گردن ایسے ہلائی جیسے فوجی حکم سن کر "یس سر” کرتے ہیں۔ اور پھر جیسے ہی بس سے باہر قدم رکھا، واہ… کیسا خوشگوار جھونکا تھا! ایک دم ٹھنڈی، معطر، دل کو چھو لینے والی ہوا۔ سامنے سبزہ ایسے لگ رہا تھا جیسے قدرت نے ہری چادر بچھا دی ہو۔
گھڑی پر نظر ڈالی تو شام کے چار بج رہے تھے۔ سامنے ایک خوبصورت عمارت، اُس پر لگے بینر پر بڑے بڑے الفاظ جگمگا رہے تھے:
"Summer Camp — Life Skills”
اوپر دو لوگو بھی نظر آ رہے تھے۔ ایک "Directorate of Youth Affairs” کا اور دوسرا
"CLADO” کا۔
اصل یہ پروگرام ان دونوں آرگنائزیشنز کی اشتراک سے ممکن ہوئی تھی۔
میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ بھئی، یہ کوئی عام کیمپ نہیں، خاص بات ہے۔ اور واقعی خاص تھا، کیونکہ اس کے پیچھے عبدالرحمٰن بھائی اور شہاب الدین بھائی کی محنت، دوڑ دھوپ، اور دن رات کی جدوجہد شامل تھی۔ گاڑیوں کا انتظام، ہاسٹل کا بندوبست، کھانے پینے کا خیال، اور سب سے بڑھ کر اتنے سارے بندوں کی حفاظت… ارے بھائی، یہ تو پہاڑ اٹھانے کے برابر کام تھا۔ میں دل سے دعا کرنے لگا:
"اللّٰہ ان دونوں کو مزید ہمت، طاقت اور صبر عطا فرمائے۔”
ہم سب آہستہ آہستہ کرسیوں پر جا بیٹھے۔ میرے دائیں طرف آفاق بیٹھا،سامنے عبدالرحمٰن بھائی کھڑے ہوئے اور اپنے مخصوص پر اعتماد انداز میں بولے:
"سب سے پہلے تعارف ہوگا۔ میں ہوں عبدالرحمٰن، اس کیمپ کا آرگنائزر۔”
پھر ایک ایک آرگنائزر کھڑا ہوتا، تعارف کرواتا، اور بیٹھ جاتا۔ تعارف کا یہ سلسلہ بالکل اُس بوفے کی طرح تھا جہاں سب کو اپنے حصے کا پلیٹ لینا ہوتا ہے۔
آفاق نے کہنی ماری اور دھیرے سے کان میں کہا:
"یار، چیز تو اب ہمارے قریب آ رہی ہے۔”
میں ہنسا اور بولا:
"ہاں بھائی، تعارف کا نمبر۔ بچ کے کہاں جائے گا؟”
پہلے آفاق اٹھا۔ پورے اعتماد کے ساتھ تعارف کروایا۔ اب میری باری تھی۔ میں اٹھ کھڑا ہوا، آواز میں ٹھہراؤ، لیکن دل کی دھڑکن میں ذرا سا تیز رفتار میوزک بج رہا تھا۔ میں بولا:
"میرا نام حسین احمد ہے۔ بی ایس آئی ٹی کا طالب علم، فریلانسر اور ویب ڈویلپر۔”
یہ سب کہنا تو اب آسان تھا، لیکن دل نے فوراً ماضی کی فائل کھول دی۔ یاد آیا کہ جب پہلی بار یونیورسٹی میں تعارفی نشست تھی، تو دل ایسے دھڑک رہا تھا جیسے بم پھٹنے والا ہو۔ اب تو یونیورسٹی کے کئی ایونٹس میں حصہ لیا، یہاں تک کہ پشاور لٹریچر فیسٹیول میں بطور موڈریٹر بھی کام کر چکا ہوں، اس لیے زبان اب رواں تھی۔
تعارف مکمل ہوا تو عبدالرحمٰن بھائی نے اگلے دن کے شیڈول کا نقشہ کھینچ دیا:
"کل صبح سات بجے اٹھنا ہے۔ ساڑھے سات بجے ناشتہ۔ پھر 11 بجے تک مختلف سیشنز ہوں گے۔ اس کے بعد جو دوست پائپ لائن جانا چاہیں یا میرن جانی جانا چاہیں، اُنہیں وہاں تک ڈراپ کر دیا جائے گا، جہاں سے ٹریکنگ شروع ہوتی ہے۔”
لیکن اس سنجیدہ بات کے بعد اچانک اُنہوں نے جو اگلا جملہ بولا، اُس نے سب کی ریڑھ کی ہڈی میں ہلکی سی سرد لہر دوڑا دی:
"اور ہاں… اوپر جو ہنٹیڈ ہاؤس ہے، وہاں جنات رہتے ہیں۔ اس کے قریب مت جانا۔”
میں تو دل سے اتنا کمزور نہیں، لیکن جیسے ہی اُس ہنٹیڈ ہاؤس کا نام سُنا، ایک لمحے کے لیے ایسا لگا کہ بادل گرجے ہیں، حالانکہ موسم بالکل صاف تھا۔ دل نے خود سے کہا:
"چلو حسین میاں، کل وہاں جانے کی ہمت تو کرے گا نا؟”
خیر، اب باری تھی کمروں میں جانے کی۔ جب کمرے معلوم ہوئی تو اندر جا کر دیکھا، ایک خوبصورت کمرہ، چار بیڈز۔ بیڈ بھی ڈبل ڈیکر یعنی اوپر نیچے والے۔ منظر کچھ یوں تھا:
پہلے بیڈ کے نیچے علی عمران بھائی، اوپر میں۔
دوسرے بیڈ کے نیچے ظفر مستان بھائی، اوپر آفاق۔
تیسرے بیڈ پر نیچے ہریرہ بھائی، اوپر ارشاد بھائی۔
اور چوتھے بیڈ پر فدا حسین بھائی، تنِ تنہا۔
بس جناب، یوں ہم نے اپنے کمرے سنبھالے۔ تھکن، بارش، سفر، اور تعارف کا مرحلہ مکمل ہوا، لیکن دل میں تجسس باقی تھا۔ کل کیا ہوگا؟ پائپ لائن؟ میرن جانی؟
کچھ دیر آرام کیا۔ جسم تو بستر پر تھا لیکن روح کھڑکی سے باہر اس حسین وادی کے سبز میدانوں میں اُڑان بھر رہی تھی۔ پھر اچانک دل نے نرمی سے آواز دی:
"اُٹھ اے مردِ مسافر! کچھ کھانے پینے کا بھی بندوبست کر لے۔”
ہم نے متفقہ فیصلہ کیا کہ چلیں اوپر کی طرف، ہوٹل میں کچھ کھاتے ہیں۔ ہاسٹل سے نکلے تو جناب! موسم… ہائے ہائے! ایسا لگا جیسے بادلوں نے زمین پر آنچل بچھا دیا ہو، ہوا میں خوشبو گھلی ہوئی، اور سبزہ ایسے جیسے مصور نے تازہ برش سے رنگ بھر دیے ہوں۔
اب ہنٹیڈ ہاؤس ہمارے سامنے تھا۔ خوف؟ ارے کیسا خوف! ہم بہادر لوگ، کیمرہ آن کیا اور دلیری کے ساتھ اس بھوت بنگلے کے سامنے تصویریں بنانا شروع کر دیں۔ آفاق، ظفر مستان، علی عمران بھائی، ہریرہ… سب لائن میں۔ کسی نے پوز مارا، کسی نے ہاتھ باندھے، اور کسی نے ایسے تصویر لی جیسے کہہ رہا ہو:
"آجا او بھوت، اگر ہمت ہے تو!”
تصویری مشن مکمل ہوا تو قدم اوپر ہوٹل کی طرف بڑھائے۔ وہاں کھانا کھایا، پیٹ بھرا اور نیچے واپس آگئے۔ مغرب کی نماز
کی تیاری ہورہی تھی اور ابھی وضو کا پانی ہاتھوں پر تازہ ہی تھا کہ شہاب بھائی کی گروپ میں گرجدار اناؤنسمنٹ آ گئی:
"تمام دوستوں کو مطلع کیا جاتا ہے کہ رات آٹھ بجے لاہوری ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے کے لیے پہنچنا لازمی ہے۔”
یہ سُن کر عمران بھائی نے سر پکڑ لیا:
"یار… یہ تو ہم سے غلطی ہو گئی۔ پہلے ہی کھا لیا!”
ابھی ہم جانے کی تیاری میں تھے کہ آفاق بھائی نے اچانک ایسی آواز نکالی جیسے گاڑی کا انجن بیٹھ جائے:
"یار، میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے، میں نہیں جا سکتا۔ واپس آتے ہوئے کچھ کھانے کا لے آنا۔”
شہاب بھائی نے کئی بار اُسے سمجھایا، منایا، لیکن وہ بضد رہا:
"نہیں… نہیں، میں نہیں جا سکتا۔”
ہم سب نے کندھے اچکائے اور باہر نکل آئے۔ باہر بس تیار کھڑی تھی، شہاب بھائی نے نعرہ لگایا:
"چلو سب بس میں بیٹھو، پیدل نہیں جانا، بس میں ہی جائیں گے۔”
اب ریسٹورنٹ کوئی زیادہ دور نہیں تھا، بس دو تین منٹ کی مسافت۔ لیکن بس میں بیٹھتے ہی ماحول کچھ اور ہی رنگ میں ڈھل گیا۔ شہاب بھائی نے قہقہہ لگاتے ہوئے اعلان کیا:
"دیکھو بھائیو، بس چلنے میں دو تین منٹ ہیں۔ ان دو تین منٹ میں اپنی جوانی کے زور کو دکھاؤ۔ ناچو، گاؤ، تالیاں بجاؤ،!”
اب بس کے اندر وہ منظر تھا جو شاید کسی شادی کی دولہا پارٹی میں بھی کم ہی ہوتا ہے۔ کسی نے گن لگا لی، کسی نے تالیاں بجانا شروع کر دیں، کوئی سیٹ پر کھڑا ہو کر ناچنے لگا، کوئی ڈھول کی تھاپ منہ سے بنانے لگا۔
بس کے جھٹکوں کے ساتھ جھومتے، قہقہے لگاتے، سر ہلاتے، اور پوری طاقت سے گنگناتے ہم ریسٹورنٹ کے دروازے پر جا پہنچے۔ شہاب بھائی نے دروازہ کھولا اور ہم ریسٹورنٹ میں داخل ہوگئے
ہمیں اپنے کھانے کی فکر تھی اور عبدالرحمٰن اور شہاب بھائی کو پوری فوجِ ظفر موج کی۔ ماشاءاللہ، اچھا کھانا، صاف ستھری جگہ، اور شاندار ماحول۔ کھا پی کر واپس نیچے اتر آئے۔
عشاء کی نماز جماعت کے ساتھ، اور وہ بھی امام صاحب ہریرہ کی امامت میں ادا کی۔ نماز کے بعد ابھی دعا کے الفاظ ختم نہ ہوئے تھے کہ اچانک صحن میں ساؤنڈ سسٹم آن ہو گیا۔ بیک گراؤنڈ میں ڈھول کی تھاپ اور اتن رقص کا نعرہ بلند ہوا۔
سب دوستوں نے دائرہ بنایا۔ ہاتھوں میں ہاتھ، کندھوں سے کندھے ملا کر، قدموں میں ایک خاص ترتیب، اور گھومنا شروع۔ واہ بھئی واہ! صحن کا کونا کونا گونج رہا تھا۔ میں مزے سے موبائل نکال کر ویڈیوز بنانے لگا۔
ابھی میں فوکس ایڈجسٹ ہی کر رہا تھا کہ پیچھے سے شہاب بھائی نے دھکا مارا:
"ابے! تو بھی ناچ۔ بس ویڈیوز بناتے رہو گے؟”
میں نے ہاتھ جوڑ کر عرض کیا:
"یار! مجھے اتن نہیں آتا۔ یہ میرے بس کی بات نہیں۔”
شہاب بھائی نے کچھ نہ سُن