سوات کے پہاڑوں میں

میرے لیے سوات کا سفر ہمیشہ یادگار رہا ہے: 2021 میں سترہ گھنٹے کا مسلسل موٹر سائیکل کا سفر ہو یا اس مرتبہ پانچ گھنٹے کی ہائکنگ۔ وادیٔ سوات اپنی خوبصورتی میں بے مثال ہے۔ ہر طرف دلکش نظارے، سرسبز و شاداب ماحول اور بلند و بالا پہاڑ اس کے حسن کو دوبالا کرتے ہیں۔ قدرت کا یہ حسن دیکھ کر بہت لطف اندوز ہوتا ہوں؛ یہ ماحول فطرت اور طبیعت دونوں کے لیے موزوں ہے۔

پہلی مرتبہ بحرین، مدین، کالام سے آگے تک گئے تھے، واپسی میں گبین جبہ سے ہوتے ہوئے مینگورہ پہنچے تھے۔ یہاں ہمارے مستقل میزبان مولانا انیس الرحمن سواتی اور مولانا خلیل احمد سواتی ہوتے ہیں، دونوں ہمارے جامعہ دارالعلوم کراچی کے ساتھی ہیں۔ ان کے ساتھ بڑا اچھا وقت گزرا؛ آپ نہایت خلیق اور بہترین طبیعت کے مالک ہیں۔

پختون قوم بہت مہمان نواز ہے، مہمان سے بڑی محبت اور اکرام سے پیش آتے ہیں۔ ہم جمعہ کی شام انیس بھائی کے پاس پہنچے، وہاں کھانا کھایا جو بے حد لذیذ اور مزیدار تھا۔ نماز عصر پڑھ کر چائے نوش کی اور پھر گبین جبہ روانہ ہوئے۔ ہر طرف ہریالی، خوبصورت پہاڑ، درمیان میں دریائے سوات کا منظر، کہیں چشمے تو کہیں ندیاں اور نالے۔ سفر بڑھتا جارہا تھا اور اندھیرا بھی چھا رہا تھا۔

پہاڑوں میں ہر طرف سنّاٹا اور پانی کا شور تھا۔ درمیان میں راستے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھے۔ منزل کے قریب راستہ بہت خراب اور دشوار تھا؛ کہیں گاڑی سے اترنا پڑا اور کہیں گاڑی کو دھکے بھی لگانے پڑے۔ بالآخر گیارہ بجے کے بعد ہم مولانا خلیل سواتی صاحب کے گھر پہنچے، آپ نے ہمارا والہانہ استقبال کیا۔ اپنی بیٹھک میں لے گئے اور فوراً دسترخوان بچھا کر پرتکلف عشائیہ پیش کیا جس میں روایتی اور مرغن کھانے بھی شامل تھے۔ ہمیں حیرت ہوئی کہ یہاں جنگلات اور پہاڑوں میں اتنے عمدہ اور لذیذ کھانوں کا کیسے اہتمام کیا گیا۔

کھانے کے بعد رات کے سناٹے میں چہل قدمی کی۔ جب ہم 2021 میں آئے تھے تو یہاں سیاحتی مرکز کم اور ہوٹلوں کا تو نام و نشان نہ تھا، لیکن اس بار جگہ جگہ بڑے بڑے ہوٹل نظر آرہے تھے، جس سے واضح تھا کہ سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلے مرکزی پوائنٹ تک راستہ بنا ہوا تھا، ہم موٹر سائیکل پر آئے تھے تو کوئی دشواری نہ ہوئی۔ اس بار راستہ متاثر تھا جس کی وجہ 2022 کا سیلاب تھا، جس سے بڑا نقصان ہوا۔ چہل قدمی کرکے واپس آئے، نماز پڑھی اور سوگئے۔ مقامی لوگوں کے لیے موسم معتدل تھا، ہمارے لیے نسبتاً سردی تھی اس لیے ہم نے رضائیاں اوڑھ لیں۔

صبح فجر میں بیدار ہوئے، پھر میزبانوں کے کہنے پر دوبارہ سوگئے اور آٹھ بجے ناشتہ کے لیے اٹھے۔ مولانا خلیل صاحب نے دسترخوان پر روایتی دیسی کھانے: مکھن، شہد اور ملائی سجائے ہوئے تھے۔ ہم خوب شکم سیر ہوئے اور پھر ہمارا امتحان شروع ہوا۔ ہمارے رہبر آگے اور ہم پیچھے؛ انہوں نے فرمایا: "گبین جبہ چلتے ہیں”۔ مرکزی راستہ چھوڑ کر گھروں کے عقب سے پہاڑ کی طرف چلے اور مسلسل چلتے رہے۔ کیمپنگ دیکھی پھر پہاڑ کا راستہ لیا۔ ابتدا میں شوق سے چل رہے تھے، لیکن ڈیڑھ گھنٹہ چلنے کے بعد منزل دور دکھائی دے رہی تھی، جس سے گھبراہٹ اور راستوں کی دشواری پریشان کر رہی تھی۔

میزبان حضرات "بس سامنے ہے، پانچ منٹ لگیں گے” کہہ کر تسلیاں دیتے رہے۔ ہم نے کہا: جب میدان میں اتر آئے ہیں تو گھبرانا کیسا! خوشگوار ماحول اور موسم سے لطف اندوز ہوتے ہوئے چلتے رہے۔ کہیں خطرناک چڑھائی تھی، کہیں پھسلن تھی۔ راستے میں لاٹھی کا سہارا بھی لینا پڑا، کافی وقت اسی سہارے پر چلے۔ چڑھائی سر کرتے وقت سانس پھول رہی تھی، تھک جاتے تو تھوڑی دیر کے لیے رک جاتے۔ ہر طرف شادابی اور گھنے درخت تھے جس سے تھکاوٹ کم محسوس ہوئی۔ گبین جبہ کے پوائنٹ پر پہنچنے میں تقریباً تین گھنٹے لگے۔ وہاں پہنچ کر دلکش اور حسین نظارے دیکھے؛ جگہ جگہ خیمے لگے تھے اور دور دراز سے آئے لوگ موسم کا مزہ لے رہے تھے۔

زیادہ لوگوں کی آمد سے پہلے کی نسبت آلودگی بھی زیادہ نظر آئی جو ماحول کے لیے نقصان دہ ہے۔ گھنٹہ ڈیڑھ وہاں رکے، بادلوں نے گھیر لیا اور بارش کا خطرہ محسوس ہوا تو میزبانوں نے کہا: "بارش سے پہلے نکلنا چاہیے، ورنہ مشکل ہوجائے گی”۔ ہم فوراً نکلے، معروف راستے سے واپس ہوئے اور پہاڑ پر چڑھتے ہوئے مولانا خلیل صاحب کے گھر پہنچے جہاں کھانا تیار تھا۔ ہماری فرمائش پر دیسی گھی میں ساگ اور مکئی کی روٹی بنوائی گئی تھی، جو ہم نے بہت رغبت سے کھائی اور پھر اجازت لے کر روانہ ہوئے۔ تقریباً پانچ بجے مینگورہ پہنچے، تازہ دم ہوکر نماز پڑھی تو انیس بھائی چائے لے آئے جو واقعی دودھ پتی تھی؛ پورے آٹھ دن میں پہلی بار ایسی چائے نصیب ہوئی تھی۔ انیس بھائی نے ہمیں بس اڈے پہنچا کر رخصت کیا۔ کوسٹر اسلام آباد کے لیے وقت پر سوا آٹھ بجے روانہ ہوئی۔

ہمیں اندازہ تھا کہ تین گھنٹے میں پہنچ کر رات ہی سکھر کی گاڑی پکڑیں گے، لیکن تجربے کے مطابق ہمارے پختون بھائی موٹروے پر بھی لوکل ٹرانسپورٹ کی طرح سواریاں اتارتے اور چڑھاتے رہے۔ شیر خان انٹرچینج پر تو دوسری گاڑی سے مسافروں کو اتار کر ہماری گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی کھچا کھچ بھر دی۔ تاخیر کی انتہا ہوئی؛ دو بجے منڈی موڑ پہنچے۔ جب فیض آباد اڈے پہنچے تو رات آٹھ بجے سے پہلے سکھر کی کوئی گاڑی نہ ملی۔ ہم بہت پریشان ہوئے کہ اب کیا کریں۔

بالآخر فیصلہ کیا کہ صبح چھ بجے ملتان جانے والی گاڑی پکڑیں۔ ایک بجے ملتان پہنچے، وہاں ظہر کی نماز پڑھی اور سوا دو بجے سکھر کے لیے روانہ ہوئے۔ ساڑھے سات بجے سکھر پہنچے اور یوں ہمارا سفر اختتام پذیر ہوا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے