دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرو، مشکل نہ بناؤ” یہ صرف کوئی عام جملہ نہیں، بلکہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ایک ایسا اصول ہے جس میں ایک مکمل معاشرتی نظام کا خلاصہ موجود ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگ جب یہ بات سنتے ہیں تو محض سر ہلا کر گزر جاتے ہیں، لیکن اگر ہم ذرا غور کریں اور اسے مختلف زاویوں سے دیکھنے کی کوشش کریں تو اندازہ ہوگا کہ ہم میں سے بہت سے لوگ انجانے میں اس معاشرے کی بگاڑ کا حصہ بن چکے ہیں۔ آج کے دور میں سب سے بڑا اور خاموش جرم جو عام ہو چکا ہے وہ "ٹرینڈ سیٹلمنٹ” ہے۔ یہ ایسا زہر ہے جو بظاہر خوشنما لگتا ہے مگر آہستہ آہستہ ہمارے رویوں، روایات اور اقدار کو اس طرح متاثر کر رہا ہے کہ ہم اپنی اصل پہچان کھوتے جا رہے ہیں۔
شادی جیسے مقدس ادارے کو آج صرف ایک ایونٹ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جس میں سادگی اور برکت کی جگہ نمود و نمائش اور فضول خرچی نے لے لی ہے۔ میڈیا اور سوشل میڈیا پر ایسے مناظر کو اس انداز میں دکھایا جاتا ہے جیسے یہی معیارِ زندگی ہو، اور عام لوگ اسی کو اپنانے کی کوشش میں اپنی زندگی اجیرن بنا لیتے ہیں۔ جب سلیبریٹیز مہنگی جیولری، درجنوں تقریبات، مہنگے برانڈز، اور فضول اخراجات کے ساتھ اپنی شادیوں کو دکھاتے ہیں تو ایک عام انسان بھی لاشعوری طور پر انہیں باتوں کو معیار سمجھنے لگتا ہے۔
پاکستان میں تقریباً 60 فیصد آبادی غربت یا اس کے قریب زندگی گزار رہی ہے۔ ایسی آبادی کے لیے یہ معیار نہ صرف ناقابلِ حصول ہیں بلکہ ذہنی دباؤ، احساسِ کمتری، اور معاشرتی مسائل کی جڑ بنتے جا رہے ہیں۔ بہت سی لڑکیاں صرف اس لیے غیر شادی شدہ رہ جاتی ہیں کیونکہ ان کے والدین ایسے اخراجات برداشت نہیں کر سکتے۔ بہت سے لڑکے اس لیے نکاح سے دور رہتے ہیں کہ وہ ان "سیٹل شدہ” ٹرینڈز کے مطابق شادی کے تقاضے پورے کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ نکاح کو جب مشکل بنا دیا جائے تو معاشرے میں فطری خواہشات کے غیر فطری طریقوں سے پورا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، جنسی بے راہ روی، ریپ، زنا اور فحاشی اسی سوچ کی پیداوار ہیں۔
نیشنل کرائم بیورو کی رپورٹس کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر جنسی جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے اور ان میں سے بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔ تاخیر سے شادی کے باعث خواتین میں بانجھ پن کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے، اور WHO کے مطابق 30 سال کے بعد شادی کرنے والی خواتین میں بانجھ پن کا خطرہ 40 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح جب نوجوانوں کی شادی تاخیر کا شکار ہوتی ہے تو وہ ذہنی دباؤ، اینگزائٹی اور معاشرتی بے چینی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ UNDP کے مطابق پاکستان میں ہر چوتھا نوجوان ذہنی دباؤ میں مبتلا ہے۔ ان تمام مسائل کی جڑ صرف اتنی سی بات ہے کہ ہم نے نکاح کو مشکل بنا دیا، اور اپنی خواہشات، فیشن اور مقابلہ بازی کو معاشرتی معیار بنا دیا۔
انسان فطری طور پر آرام، خوبصورتی اور آسانی چاہتا ہے، مگر جب یہ چیزیں حد سے بڑھ جائیں اور دکھاوے کا روپ دھار لیں تو وہی سہولت کسی اور کے لیے مشکل، بوجھ اور ذلت بن جاتی ہے۔ یہ وقت ہے کہ ہم بطور فرد، بطور خاندان، اور بطور معاشرہ اس روش کو ترک کریں۔ سادگی کو فروغ دیں، نکاح کو عام کریں، اور ایسے غیر حقیقی ٹرینڈز سے اجتناب کریں جو کسی کی بیٹی، کسی کے والدین، یا کسی نوجوان کی زندگی کو عذاب میں ڈال دیں۔
نبی کریم ﷺ کی یہ تعلیم ہمیں نہ صرف ایک آسان زندگی کی طرف بلاتی ہے بلکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینے کا راستہ بھی دکھاتی ہے جہاں عزت، سکون اور فلاح سب کو میسر ہو۔ اس ایک جملے کو محض زبانی نہ دہرائیں بلکہ اس کی حکمت کو سمجھیں اور زندگی کے ہر پہلو میں اس پر عمل کریں۔ یہی اصل اصلاح کا راستہ ہے۔