شعور سے عشق جنم لیتا ہے اور جو شعور عشق پیدا نہ کرے وہ ناقص اور ادھورا ہے۔ شعور سے پیدا ہونے والا عشق ہی اصل اور پائیدار عشق ہوتا ہے۔ وہ عشق جس کے پیچھے شعور نہ ہو، درحقیقت عارضی جذبات اور وقتی کیفیات ہوتے ہیں۔ شعور ہی وہ قوت ہے جو عشق کو رگ و پے میں دوڑاتا ہے، اور یہی عشق جب خون بن کر زمین پر بہتا ہے تو اپنی صداقت کا عملی ثبوت بن جاتا ہے—ایسا ثبوت جو بے زبان ہو کر بھی تاریخ کے صفحات پر اپنے وفا کے نشان چھوڑ جاتا ہے۔
سید مودودیؒ کی پھانسی کا واقعہ اسی شعوری عشق کا مظہر ہے۔ میاں طفیل محمد بیان کے مطابق :
ہم نے باقی نماز مکمل کر لی تو ان میں سے بڑے فوجی افسر نے جو مارشل لا کورٹ کا صدر تھا‘ اس نے پوچھا:مولانا مودودی صاحب کون ہیں؟ مولانا نے عرض کیا: میں ابوالاعلیٰ مودودی ہوں، تو اس نے کہا: آپ کو قادیانی مسئلہ کتاب تصنیف کرنے پر موت کی سزا دی جاتی ہے۔ اس کے خلاف کوئی اپیل نہیں ہو سکتی۔ آپ گورنر جنرل سے رحم کی اپیل کر سکتے ہیں،مولانا نے بلاتوقف فرمایا: مجھے کسی سے کوئی رحم کی اپیل نہیں کرنی ہے۔
زندگی اور موت کے فیصلے زمین پر نہیں آسمان پر ہوتے ہیں۔ اگر وہاں پر میری موت کا فیصلہ ہو چکا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت مجھے موت سے نہیں بچا سکتی اور اگر وہاں سے میری موت کا فیصلہ نہیں ہوا ہے تو دنیا کی کوئی طاقت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی۔ اس کے بعد اسی افسر نے کہا: آپ نے مارشل لا کے بارے میں روزنامہ تسنیم میں جو بیان دیا ہے اس پر آپ کو سات سال قید بامشقت کی سزا دی جاتی ہے۔
کوئی آدھ گھنٹے کے بعد ہیڈ وارڈن اور ان کے ساتھ کچھ دوسرے وارڈرنز آئے اور انھوں نے کہا: مولانا مودودی صاحب تیار ہو جائیں‘ وہ پھانسی گھر جائیں گے۔ اس پر مولانا مودودی صاحب نے اطمینان سے اپنا پاجامہ بدلا‘ سر پر اپنی سیاہ قراقلی ٹوپی پہنی اور چپلی اتار کر جوتا پہنا اور اپنا قرآن مجید لے کر اور ہم سب سے گلے مل کر نہایت اطمینان سے پھانسی گھر روانہ ہو گئے۔ اب مولانا امین احسن اصلاحی صاحب‘ مولانامودودی صاحب کی قمیص‘ پاجامہ اور ٹوپی کبھی سینے سے لگاتے اور کبھی اپنے سر پر رکھتے‘ کبھی آنکھوں پر لگاتے اور بے تحاشہ روتے ہوئے کہتے جاتے کہ:مجھے یہ تو معلوم تھا کہ مولانا مودودی صاحب بہت بڑے آدمی ہیں‘ لیکن مجھے یہ معلوم نہیں تھا کہ خد ا کے ہاں مودودی صاحب کا اتنا بڑا مرتبہ اور مقام ہے۔
چودھری محمد اکبر صاحب بھی روتے ہوئے کمرے سے باہر نکل کر صحن میں چلے گئے اور میں بھی روتا ہوا صحن میں ایک طرف نکل گیا اور ساری رات اسی طرح سے گزر گئی۔ اگلی صبح ایک وارڈرن نے آکر بتایا:مولانا مودودی صاحب تو عجیب آدمی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان کو یہ اندازہ ہی نہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔ وہ پھانسی گھر گئے‘ وہاں کا لباس پہنا‘ جنگلے سے باہر پانی کے گھڑے سے وضو کیا اور عشاء کی نماز پڑھی اور ٹاٹ پر لیٹ کر تھوڑی دیر بعد خراٹے مارنے لگے۔ حالانکہ ان کے آس پاس پھانسی گھر کے دوسرے قیدی چیخ و پکار میں مصروف تھے۔
مولانا مودودی صاحب کو پھانسی کی سزا کا اعلان ہوتے ہی ملک بھر میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں احتجاج شروع ہو گیا۔ انڈونیشیا کی اسلامی پارٹی کے وزیر اعظم ڈاکٹر ناصر صاحب نے حکومت پاکستان سے کہا کہ:پاکستان کو مودودی صاحب کی ضرورت نہیں تو دنیا بھر کے مسلمانوں کو ان کی ضرورت ہے۔ پاکستان ان کو انڈونیشیا بھجوا دے۔
یہ تھا وہ شعوری عشق جس کی رگوں میں کوئی اضطراب نہیں، کوئی خود نمائی نہیں—صرف ایک پُر سکون یقین تھا کہ:رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ مِمَّا يَدْعُونَنِىٓ إِلَيْهِ۔”میرے رب! قید خانہ مجھے ان باتوں سے زیادہ پسند ہے جن کی طرف یہ مجھے بلاتی ہیں۔”
یہاں عشق نے اپنی حتمی شکل دکھائی: نہ موت کا خوف، نہ سزا کا اضطراب—صرف اُس فیصلے کے آگے سرِ تسلیم خم کرنا جسے آسمان نے لکھ دیا ہو۔ مولانا کا ٹاٹ پر خراٹے لینا درحقیقت اُس شعور کی معراج تھا جو عشق کی بلندیوں پر پہنچ کر بھی زمینی آزمائش میں اپنی ثابت قدمی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ اُن کے پیروکاروں کا رونا اِس حقیقت کا اعتراف تھا کہ یہ کوئی عام انسان نہیں، بلکہ خد ا کے ہاں مقرب بندے کا عملی ثبوت ہے۔
شعور سے پیدا ہونے والا عشق دائمی ہوتا ہے، اور جب بھی اس کا امتحان لیا جاتا ہے، یہ پوری قوت و ثبات کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ شعور کی بنیاد پر اُٹھنے والا عشق میدانِ کارزار سے راہِ فرار نہیں اختیار کرتا بلکہ وہیں وفا کے پھول بکھیرتا ہے، وہ زمین کو گلابوں سے نہیں بلکہ اپنے خالص لہو سے رنگین کرتا ہے۔ جب عشق کو پکارا جائے تو اس کا جواب یہی ہوتا ہے:
وَلَمَّا رَاَ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ الۡاَحۡزَابَ ۙ قَالُوۡا هٰذَا مَا وَعَدَنَا اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ وَ صَدَقَ اللّٰهُ وَرَسُوۡلُهٗ ۚ وَمَا زَادَهُمۡ اِلَّاۤ اِيۡمَانًا وَّتَسۡلِيۡمًا۔(الاحزاب 33:22)
ترجمہ:”اور جب مؤمنوں نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو بول اٹھے، یہ وہی ہے جس کا اللہ اور اس کے رسول نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اور اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا۔ اس نے ان کے ایمان اور سپردگی میں اور اضافہ ہی کیا۔”
امتحان کے لمحے میں شعوری عشق یہی کہتا ہے: "رَبِّ ٱلسِّجْنُ أَحَبُّ إِلَىَّ”،عشق قید گوارا کر لیتا ہے مگر اپنے اصول، اپنی وفا، اپنی حقیقت کو قربان کرنا گوارا نہیں کرتا۔ یہ جنون نہیں، بلکہ سنجیدہ شعور ہے۔ یہ کیفیات کا وقتی ابال یا بے اختیار اُچھل کود نہیں بلکہ شعور کی گہرائیوں سے اُٹھنے والی وہ آواز ہے جو پورے وجود پر چھا جاتی ہے۔ شعوری عشق، بے قابو کیفیت نہیں بلکہ ایمان کے سچے رویے کا پر سکون مگر پُرعزم اظہار ہے۔ عشق وجد کی حالت نہیں، عقیدے کا استحکام ہے۔ عشق محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ اُن جذبات کی قربانی ہے۔
عشق توحید، رسالت، جنت اور جہنم کی خودساختہ تعبیرات کا نام نہیں بلکہ ان حقائق کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کا نام ہے جنہیں ربِّ کائنات نے واضح کر دیا ہے۔ عشق بیماری نہیں، روحانی صحت ہے؛ جنون نہیں بلکہ عقل و فراست کی بلند ترین حالت ہے۔
عشق کسی انسان کے ہاتھ میں اپنی عقل و ارادہ سپرد کرنے کا نام نہیں، بلکہ اپنے رب کے کی خاطر اپنی خودی کو قائم رکھنے کا نام ہے۔ حقیقی عشق کا دوسرا نام ہی خودی ہے، اور جس عشق کی رگوں میں شعور دوڑ رہا ہو وہ بےخودی کی کیفیت میں کھو نہیں جاتا، بلکہ اُس خودی کو سنوارتا ہے جو بندے کو اللہ کا بندہ بناتی ہے، نہ کہ کسی اور کا۔
عشق کا مرکز محض زبان یا ہاتھ نہیں بلکہ پورا انسانی وجود ہے، جس کے اثر سے نہ فکر آزاد ہے نہ عمل۔ شعوری عشق جنون نہیں، بلکہ یکسوئی، عزم، اور شعور کے ساتھ کیا گیا وہ فیصلہ ہے جو محبوب سے جدا ہونے نہیں دیتا۔
ایسا عشق، قبولیت کی سند ملنے کے بعد بھی قرار نہیں پاتا، بلکہ مسلسل متحرک اور بیدار رہتا ہے۔ جیسے قرآن کہتا ہے:
وَالسّٰبِقُوۡنَ الۡاَوَّلُوۡنَ مِنَ الۡمُهٰجِرِيۡنَ وَالۡاَنۡصَارِ وَالَّذِيۡنَ اتَّبَعُوۡهُمۡ بِاِحۡسَانٍ ۙ رَّضِىَ اللّٰهُ عَنۡهُمۡ وَرَضُوۡا عَنۡهُ وَاَعَدَّ لَهُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِىۡ تَحۡتَهَا الۡاَنۡهٰرُ خٰلِدِيۡنَ فِيۡهَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰ لِكَ الۡـفَوۡزُ الۡعَظِيۡمُ ۞(سورۃ نمبر 9 التوبة آیت 100) ترجمہ:
” وہ مہاجر و انصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی ، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ ان کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے ، اللہ نے ان کے لئے ایسے باغ مہیا کر رکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔”
زمین و آسمان گواہ ہیں کہ جب عشق کو یہ مقام ملا، تب بھی وہ لمحہ بھر کو عشق کے اظہار سے غافل نہ ہوا۔ کیونکہ عشق سکون کا نہیں، ظرف، اضطراب اور بیقراری کا نام ہے۔ عشق کے فیصلے اگرچہ قطعی اور یکسو ہوتے ہیں، لیکن خود عشق اپنی ذات میں مضطرب رہتا ہے۔
الغرض، عشق پوری زندگی وصل کے انتظار میں گزارنے والے سنجیدہ اور ثابت قدم رویے کا نام ہے – وہی رویہ جو سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے آگ میں کودتے وقت دکھایا، وہی استقامت جو سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے سخت ترین اذیتوں میں بھی "أَحَدٌ أَحَدٌ” کہنے سے نہ روکی، وہی صبر جو سیدنا ابوجندل رضی اللہ عنہ نے زنجیروں میں جکڑے ہوئے بھی حق پر ڈٹے رہنے میں دکھایا، وہی وفا جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے محاصرے کی گھڑیوں میں قرآن پاک سے لگائے رکھی، وہی غیرت جو سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ نے کربلا کے میدان میں اپنے خون سے لکھ دی، وہی جرأت جو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے جسمِ اطہر کے ٹکڑے ہونے پر بھی ایمان کو زخم نہ لگنے دی، اور وہی یقین جو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے تیروں کی بارش میں بھی اپنی جگہ سے نہ ہلنے دیا۔
یہ سب اسی عشق کی مختلف شکلیں ہیں – وہ عشق جو شعور کی گہرائی سے جنم لیتا ہے، ایمان کی مضبوطی سے پروان چڑھتا ہے، اور آخرت کی امید سے سینچا جاتا ہے۔ یہی وہ عشق ہے جو انسان کو دنیا کی ہر آزمائش میں ثابت قدم رکھتا ہے، اور یہی وہ ورثہ ہے جو آج بھی ہر اس دل میں زندہ ہے جو اللہ کے لیے جیتا ہے اور اللہ کے لیے مرتا ہے۔