محرم الحرام کی آمد کے ساتھ ہی تاریخ اسلام کا وہ روشن باب ایک بار پھر ہمارے دلوں اور اذہان میں تازہ ہو جاتا ہے جو حق و باطل کی تمیز، ظلم و عدل کی پہچان اور قربانی و وفا کی لازوال مثالوں سے مزین ہے۔ نواسۂ رسول، سیدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ اور ان کے جانثار رفقاء کی عظیم قربانی 10 محرم 61 ہجری کو میدانِ کربلا میں پیش آئی، جسے دنیا آج بھی یاد کرتی ہے، مگر افسوس کہ اس قربانی کے اصل پیغام کو معاشرتی سطح پر ہم نے یا تو فراموش کر دیا یا محض رسمی ذکر و اذکار تک محدود کر دیا ہے۔
معرکۂ کربلا: حق و باطل کی آخری لکیر
حضرت امام حسینؓ کا معرکہ درحقیقت تخت و تاج یا دنیاوی اقتدار کی جنگ نہ تھی، بلکہ یہ جنگ تھی اصولوں، اقدار، عدل، دین اور حق کی بالادستی کی۔ یزید کی حکومت دینِ محمدی ﷺ کی روح کے خلاف ایک آمریت بن چکی تھی جس میں نہ عدل باقی رہا، نہ شریعت کی پاسداری۔ امام حسینؓ نے اس ظلم اور جبر کے آگے سر جھکانے کے بجائے سچائی کا علم بلند کیا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کی اور ان کے خاندان کی قربانی اسلام کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
کربلا کا پیغام: قربانی، وفاداری، اور ضمیر کی بیداری
کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کے لیے قربانی دینا انبیاء اور اولیاء کا طریقہ ہے۔ امام حسینؓ نے اپنے کم سن بچوں، بھائی، بھتیجے، اور اصحاب کو اللہ کی راہ میں قربان کر دیا لیکن باطل کے آگے سر نہ جھکایا۔ ان کی زبان پر آخری وقت تک "ہل من ناصر ینصرنا؟” کی صدا رہی، جو آج بھی ہم سے سوال کرتی ہے:
کیا ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کو تیار ہیں؟
کیا ہم معاشرتی ناانصافیوں، کرپشن، اقربا پروری اور اخلاقی گراوٹ کے خلاف کھڑے ہو سکتے ہیں؟
آج کا معاشرہ اور حسینؓ کا نظریہ
آج کا مسلمان معاشرہ، خاص طور پر پاکستان جیسی اسلامی ریاست، بظاہر اسلامی شعار سے مزین ضرور ہے مگر کردار اور عمل کے لحاظ سے ہم کربلا کے فلسفہ سے کوسوں دور ہو چکے ہیں۔
جھوٹ عام ہے،
انصاف ناپید،
بدعنوانی معمول،
طاقتور کو قانون کا خوف نہیں،
غریب کی آہیں سننے والا کوئی نہیں۔
کیا یہی وہ اسلامی معاشرہ ہے جس کے قیام کے لیے امام حسینؓ نے اپنی اور اپنے اہل بیت کی جانوں کا نذرانہ پیش کیا؟ کیا ہم نے ان کی قربانی کو صرف ایک ماتمی رسومات تک محدود کر کے اصل پیغام کو دفن نہیں کر دیا؟
ضرورتِ وقت: کربلا کو شعارِ زندگی بنائیں
اگر ہم واقعی امام حسینؓ سے محبت رکھتے ہیں، اگر ہم واقعی "یا حسین” کے نعرے کو دل سے لگاتے ہیں تو پھر ہمیں ان کے عمل کو بھی اپنانا ہو گا۔
ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہو گا،
عدل و انصاف کا پرچار کرنا ہو گا،
سچ کو سچ کہنا ہو گا چاہے وہ ہمارے خلاف ہی کیوں نہ ہو،
ہمیں بحیثیت قوم، کرپشن، جھوٹ، منافقت اور اقربا پروری کے خلاف عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
امام حسینؓ: قیامت تک کے لیے رہنمائی کا مینار
حضرت امام حسینؓ کا کردار نہ صرف مسلمانوں بلکہ تمام انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ ان کی قربانی نے یہ ثابت کر دیا کہ ظاہری کامیابی کچھ معنی نہیں رکھتی اگر وہ اصولوں کی قربانی کے بدلے حاصل ہو۔ حسینؓ کا سر نیزے پر تھا مگر پیغام آسمانوں سے بلند تھا۔
آج اگر ہم ان کے پیغام کو اپنے معاشرے، سیاست، معیشت اور عدلیہ میں نافذ کر سکیں تو ایک حسین معاشرہ جنم لے سکتا ہے جہاں نہ یزیدیت زندہ رہے گی نہ ظلم کا راج۔
اختتامیہ
یوم عاشورہ صرف ماتم کا دن نہیں، بلکہ یہ دن ضمیر جگانے، حق کے ساتھ کھڑے ہونے اور قربانی دینے کے جذبے کو زندہ رکھنے کا دن ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم امام حسینؓ کے پیغام کو صرف سینہ کوبی تک محدود نہ رکھیں بلکہ اپنے عمل اور فیصلوں میں بھی اسے شامل کریں۔ یہی حسینیت ہے، یہی حقیقی ماتم ہے۔