اللہ تعالیٰ نے اپنے کلامِ پاک میں فرعون کی سفاکیت کو سمجھانے کے لیے جہاں اس کی دیگر گھناؤنی حرکات کا ذکر فرمایا ہے، وہیں اس کے ظلم کی انتہا کو واضح کرنے کے لیے معصوم بچوں کے قتل کو خاص طور پر نمایاں فرمایا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِذْ نَجَّيْنَاكُم مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَسُومُونَكُمْ سُوٓءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُونَ أَبْنَآءَكُمْ وَيَسْتَحْيُونَ نِسَآءَكُمْ ۚ وَفِي ذَٰلِكُم بَلَآءٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَظِيمٌ
ترجمہ:”یاد کرو وہ وقت جب ہم نے تمہیں فرعونیوں کی غلامی سے نجات دی، جنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ وہ تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔”
(سورۃ البقرہ، آیت 49)
فرعون کے اس وحشیانہ عمل کی شدت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم حضرت موسیٰؑ کی والدہ کی کیفیت کو دیکھتے ہیں۔ اپنے بچے کو ظالموں کے ہاتھوں بچانے کے لیے جب انہوں نے اسے دریا میں ڈال دیا تو قرآن مجید اس وقت ان کی حالت یوں بیان کرتا ہے:
ارشادِ ربانی ہے:
وَأَصْبَحَ فُؤَادُ أُمِّ مُوسَىٰ فَارِغًا ۖ إِن كَادَتْ لَتُبْدِي بِهِ لَوْلَا أَن رَّبَطْنَا عَلَىٰ قَلْبِهَا لِتَكُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ
ترجمہ:”ادھر موسیٰ کی ماں کا دل بےقرار ہو چکا تھا۔ وہ قریب تھی کہ اس راز کو فاش کر بیٹھے، اگر ہم نے اس کے دل کو مضبوط نہ کیا ہوتا تاکہ وہ ایمان لانے والوں میں سے ہو جائے۔”
(سورۃ القصص، آیت 10)
قرآن یہاں "فُؤَاد” کا لفظ استعمال کرتا ہے، جو عربی زبان میں اُس دل کو کہتے ہیں جو شدید جذبات اور تکلیف میں جل رہا ہو۔ یہ لفظ اس گوشت کے لیے بھی آتا ہے جو آگ پر رکھا گیا ہو۔ عام حالت میں دل کو "قلب” کہا جاتا ہے، لیکن جب انسان کسی غیرمعمولی صدمے سے گزرے، تب "فؤاد” کا استعمال ہوتا ہے۔
ذرا اسی تناظر میں وزیرستان کی مظلوم ماؤں کی حالت پر غور کریں۔ جب ان کے معصوم بچے ڈرون حملوں میں مارے جاتے ہیں، جب انہیں شدید سردی یا گرمی میں گھروں سے نکالا جاتا ہے، اور جب ان کے سامنے ان کے جگر گوشوں کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے — تو کیا ان کے دل "فؤاد” نہیں بن چکے ہوتے؟ کیا ان سے ایسی غیرمعمولی کیفیت میں عقل اور تدبیر کی توقع رکھنا قرآن کے بیان کردہ انسانی جذبات کے مطابق ہوگا؟
کیا ان کی حالت حضرت موسیٰؑ کی والدہ جیسی نہیں ہو سکتی؟ کیا قرآن مجید کی وہ آیات ان مظلوم ماؤں پر لاگو نہیں ہوتیں جو اپنے بچوں کو ظالمانہ نظام کے ہاتھوں کھو دیتی ہیں؟ وہاں موسیٰؑ تھے، یہاں کریم، احمد، صغیر، حسین ہیں۔ وہاں ظالم کا نام فرعون تھا، یہاں شاید کوئی اور۔ وہاں بچوں کو چھپ کر ذبح کیا جاتا تھا، یہاں انہیں گولیوں اور بموں سے اڑایا جاتا ہے۔
الغرض، ظالم و مظلوم کی وہی کہانی آج دوبارہ دہرائی جا رہی ہے۔ فرق صرف ناموں کا ہے۔
ایک طرف وزیرستان کے بچوں کے ساتھ یہ ظلم و بربریت، اور دوسری طرف اسی ملک میں کچھ لوگوں کے بچے ہر آسائش میں پل رہے ہیں۔ یہ طبقاتی تفریق بھی قرآن مجید میں فرعون کے کردار کی صورت میں واضح کی گئی ہے:
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
إِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ وَجَعَلَ أَهْلَهَا شِيَعًا يَسْتَضْعِفُ طَائِفَةً مِّنْهُمْ يُذَبِّحُ أَبْنَاءَهُمْ وَيَسْتَحْيِي نِسَاءَهُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ مِنَ الْمُفْسِدِينَ
ترجمہ:”فرعون نے زمین میں سرکشی کی اور اس کے لوگوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ ان میں سے ایک گروہ کو وہ کمزور کرتا، ان کے بیٹوں کو قتل کرتا اور ان کی لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتا۔ یقیناً وہ فساد کرنے والوں میں سے تھا۔”
(سورۃ القصص، آیت 4)
سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
"یعنی اس(فرعون) کی حکومت کا قاعدہ یہ نہ تھا کہ قانون کی نگاہ میں ملک کے سب باشندے یکساں ہوں اور سب کو برابر کے حقوق دیے جائیں، بلکہ اس نے تمدن و سیاست کا یہ طرز اختیار کیا کہ ملک کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کیا جائے، کسی کو مراعات و امتیازات دے کر حکمراں گروہ ٹھہرایا جائے اور کسی کو محکوم بنا کر یا دبایا اور پیسا اور لوٹا جائے۔ یہاں کسی کو یہ شبہ لاحق نہ ہو کہ اسلامی حکومت بھی تو مسلم اور ذمی کے درمیان تفریق کرتی ہے اور ان کے حقوق و اختیارات ہر حیثیت سے یکساں نہیں رکھتی۔
یہ شبہ اس لیے غلط ہے کہ اس فرق کی بنیاد فرعونی تفریق کے برعکس نسل، رنگ، زبان یا طبقاتی امتیاز پر نہیں ہے بلکہ اصول اور مسلک کے اختلاف پر ہے، اسلامی نظام حکومت میں ذمیوں اور مسلمانوں کے درمیان قانونی حقوق میں قطعی کوئی فرق نہیں ہے، تمام تر فرق صرف سیاسی حقوق میں ہے، اور اس فرق کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک اصولی حکومت میں حکمراں جماعت صرف وہی ہو سکتی ہے جو حکومت کے بنیادی اصولوں کی حامی ہو، اس جماعت میں ہر وہ شخص داخل ہو سکتا ہے جو ان اصولوں کو مان لے اور ہر وہ شخص اس سے خارج ہو جاتا ہے، جو ان اصولوں کا منکر ہو جائے۔
آخر اس تفریق میں اور اس فرعونی طرز تفریق میں کیا وجہ مشابہت ہے جس کی بنا پر محکوم نسل کا کوئی فرد کبھی حکمراں گروہ میں شامل نہیں ہو سکتا، جس میں محکوم نسل کے لوگوں کو سیاسی اور قانونی حقوق تو درکنار بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں ہوتے، حتیٰ کہ زندہ رہنے کا حق بھی ان سے چھین لیا جاتا ہے، جس میں محکوموں کے لیے کسی حق کی بھی کوئی ضمانت نہیں ہوتی، تمام فوائد منافع اور حسنات و درجات صرف حکمران قوم کے لیے مختص ہوتے ہیں اور یہ مخصوص حقوق صرف اسی شخص کو حاصل ہوتے ہیں جو حکمراں قوم میں پیدا ہو جائے۔”
تو کیا موجودہ حالات یہی حقیقت نہیں بتا رہے؟
ایک طرف معصوم بچوں کو قتل کیا جا رہا ہے، اور ان کے اہلِ خانہ کو بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسری طرف حکمرانوں کے بچے ہر سہولت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ کون سا ایسا سامانِ زینت ہے جو ان کے لیے موجود نہیں؟
وزیرستان اور دیگر محروم علاقوں کی یہ وہ معاصر حقیقتیں ہیں جنہیں قرآنِ حکیم کی تلاوت کے وقت محض قصہ سمجھ کر نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ جب قرآن فرعون کی سفاکیت بیان کرے، تو ہمیں اپنے دور کے "فرعون” بھی پہچاننے چاہییں۔
اور اربابِ اختیار کو اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا چاہیے کہ وہ کس راستے کے راہی بن چکے ہیں۔