چینی سائنسدانوں نے تیز ترین کمپیوٹنگ چپ تیار کر لی!

چین عالمی منظر نامے پر جدت کی رفتار میں نمایاں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے ، حال ہی میں چینی سائنسدانوں نے دنیا کی پہلی تیز تیرین چپ تیار کی ہے، سائنسی یا ٹیکنالوجی کے زبان میں یہ چپ (الٹرا ہائی پیریلل) آپٹیکل کمپیوٹنگ انٹیگریٹڈ ہے جو 50 گیگاہرٹز آپٹیکل کلاک اسپیڈ پر 2560 ٹیرا آپریشنز فی سیکنڈ (TOPS) کی تھیوریٹیکل پیک کمپیوٹنگ پاور فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ پیمائش نیویڈیا کے جدید GPU چپس کے مقابلے میں معیاری قرار دی جا رہی ہے۔

یہ کامیابی چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے شنگھائی انسٹی ٹیوٹ آف آپٹکس اینڈ فائن مکینکس (SIOM) کے محققین کی جانب سے حاصل کی گئی ہے۔محققین نے ایک نیا انتہائی متوازی فوٹونک کمپیوٹنگ آرکیٹیکچر پیش کیا ہے اور ایک ایسی آپٹیکل کمپیوٹنگ چپ خود تیار کی ہے جس میں بڑی بینڈوتھ (40 نینومیٹر سے زیادہ) اور دوبارہ ترتیب دینے کی خصوصیات شامل ہیں، جس سے چپ کی کمپیوٹنگ طاقت میں اضافہ ہوا ہے۔اس میں ایک اہم اختراع سولیٹون مائیکروکومب ذرائع کا استعمال ہے، جو 100 سے زائد ویو لینتھ چینلز فراہم کرتے ہیں۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے محقق ژائی پینگ نے کہا، "ہم نے ایک آپٹیکل چپ پر 100 سے زائد ویو لینتھ ملٹی پلیکسنگ کے ساتھ معلوماتی تعامل اور حساب کتاب حاصل کیا ہے، جو چپ کی تیز ترین پروسیسنگ کو ممکن بناتا ہے.

روایتی آپٹیکل کمپیوٹنگ سسٹم ایک ہی ویو لینتھ استعمال کر رہے ہیں اب آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ 1 کے مقابلے میں 100 سے زائد ویو لینتھ کو بیک وقت ڈیٹا اسٹریمز کیلئے استعمال کرنے والی یہ نئی چپ کس قدر طاقت ور اور تیز ترین ہو گی ، اور یہ چپ کا سائز یا فریکوئنسی برھائے بغیر ہی کمپیوٹنگ پاور کو 100 گنا تک بڑھا دیتی ہے۔

چائنیز اکیڈمی آف سائنس کے انجینئر ہان زیلن نے کہا، "یہ ایک واحد لین والی ہائی وے کو ایک سپر ہائی وے میں تبدیل کرنے کے مترادف ہے جو ایک وقت میں سو گاڑیوں کو سنبھال سکتی ہے۔

آپٹیکل کمپیوٹنگ، جس میں ہائی فریکوئنسی، ہائی پیریلل ازم اور وسیع بینڈوتھ کے بہت سے فوائد ہیں، اس کی متوازی صلاحیت کو بڑھا کر کمپیوٹنگ کی طاقت کو بہتر بنانے کی بڑی صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ تیز ترین آپٹیکل کمپیوٹنگ آرکیٹیکچر مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سینٹرز جیسے شعبوں میں وسیع اطلاقی امکانات رکھتی ہے۔

خاص طور پر، یہ مجسم ذہانت (embodied intelligence)، نیورل نیٹ ورکس، طبیعیاتی تخمینہ (فزیکل سیمولیشنز) اور امیج پروسیسنگ کے لیے موثر حل فراہم کرتی ہے۔ مزید برآں، فوٹونک کمپیوٹنگ کی کم تاخیر کی خصوصیات اسے ایسی ایج ڈیوائسز کے لیے مثالی بناتی ہیں جہاں ڈیٹا کی مقدار کم ہو لیکن تاخیر کی ضروریات زیادہ ہوں، جیسے کہ کمیونیکشن ایکسچینج نیٹ ورکس اور ڈرون سوارمز۔

CPU اور GPU میں فرق کیا ہے ؟

اب چونکہ اس قدر سائنسی اختراعات کا حوالہ دیا گیا ہے تو کیوں نہ یہ دیکھ لیں کہ CPU اور GPU میں فرق آخر کیا ہوتا ہے ؟ پاکستان کےعوام سی پی یو سے تو عمومی طور پر واقف و آگاہ ہیں لیکن آج جی پی یو س کی بات کر لیتے ہیں۔ جیسا کہ زیادہ تر افراد جانتے ہیں کہ سی پی یو یعنی(Central Processing Unit) یہ کمپیوٹر کا "دماغ” ہے جو عمومی کاموں جیسے نظام چلانے، ایپلیکیشنز کو پروسیس کرنے، اور منطقی فیصلے کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ کم تعداد میں پیچیدہ ٹاسکس کو تیزی سے انجام دیتا ہے۔

اب بات کرتے ہیں GPU کی یعنی (Graphics Processing Unit) یہ بنیادی طور پر پیرالل پروسیسنگ (متوازی حساب کتاب) کے لیے ہوتا ہے، جیسے گرافکس رینڈرنگ، AI ٹریننگ، یا سائنسی شماریات۔ یہ ہزاروں چھوٹے ٹاسکس کو ایک ساتھ چلا سکتا ہے۔

CPU ایک کم طاقتور پروسیسنگ ہوتے ہیں جبکہ GPU میں ہزاروں چھوٹے پروسیسنگ یونٹس CUDA ہوتے ہیں جو ڈیٹا کو بیک وقت پروسیس کرتے ہیں۔مثال کے طور پر NVIDIA کے جدید GPU جیس اے آئی H100 ٹریننگ میں CPU سے 100 گنا تک تیز ہو سکتے ہیں۔

CPU روزمرہ کے کام (جیسے ویب براؤزنگ، آفس ایپس)، ڈیٹا بیس مینجمنٹ کیلئے کام کرتے ہیں جبکہ GPU گیمنگ، مصنوعی ذہانت (AI)، کریپٹو مائننگ، موسمیاتی ماڈلنگ کیلئے کام کرتا ہے۔

چینی کمپیوٹنگ سسٹم کا عالمی مقابلے میں موازنہ

چین کے Sunway TaihuLight اور Tianhe-2 ماضی میں دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹرز تھے۔2023 تک امریکہ کے Frontier 1.1 ایکسافلاپس نے پہلی پوزیشن حاصل کی، جبکہ چین کے OceanLight 1.05 ایکسافلاپس دوسرے نمبر پر تھا۔ اب چین ایکسافلاپس سپر کمپیوٹرز تیار کر رہا ہے جو امریکہ اور جاپان کے مسابقتی نظاموں کے برابر ہیں۔

کوانٹم کمپیوٹنگ (Quantum Computing):

چین نے Zuchongzhi 2.0 )62(کیوبٹس اور) Jiuzhang 3.0255(فوٹونک کیوبٹس جیسے کوانٹم پروسیسرز بنائے ہیں، جو گوگل اور IBM کے مسابقتی ماڈلز کے قریب ہیں۔امریکہ اب بھی کوانٹم اعتبار (error correction) میں آگے ہے، لیکن چین فوٹونک کوانٹم کمپیوٹنگ میں لیڈر ہے۔اس کے علاوہ فوٹونک کمپیوٹنگ مستقبل کی ٹیکنالوجی ہے، جہاں چین امریکہ سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین سپر کمپیوٹنگ اور کوانٹم ٹیکنالوجی میں دنیا کے ساتھ برابری کر رہا ہے، لیکن سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ اور ہائی اینڈ GPU میں ابھی قدرے پیچھے ہے۔ اگر چین آپٹیکل کمپیوٹنگ میں کامیاب ہو جاتا ہے، تو یہ مستقبل میں AI اور ڈیٹا سینٹرز کے میدان میں امریکہ کو پیچھے چھوڑ سکتا ہے اور پھر چین کا عالمی ٹیکنالوجی پر راج کا دور شروع ہو جائے گا جو چین کی حالیہ ایجادات دیکھ کر بعید نظر نہیں آتا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے