پاکستانی سیاست میں آصف علی زرداری کا نام ہمیشہ سے ایک زیرک، چالاک اور گہری سیاسی حکمت عملی کے حامل رہنما کے طور پر لیا جاتا ہے۔ وہ جہاں بظاہر خاموش نظر آتے ہیں، وہیں پس پردہ طاقتور سیاسی چالیں چل رہے ہوتے ہیں۔ اب جبکہ ملک ایک بار پھر سیاسی غیر یقینی اور معاشی بحران کا شکار ہے، آصف زرداری ایک بار پھر سرگرم ہو گئے ہیں ۔ اس بار اُن کا فوکس پنجاب ہے، جہاں وہ مسلم لیگ (ن) کو گھیرنے، پیپلز پارٹی کو دوبارہ زندہ کرنے، اور سیاسی توازن کو اپنے حق میں کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
سیاسی ملاقاتوں اور جوڑ توڑ کا نیا سلسلہ
ذرائع کے مطابق آصف زرداری نے حالیہ دنوں میں جنوبی پنجاب، وسطی پنجاب اور چند اہم شہری حلقوں میں بااثر سیاستدانوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ وہ اُن electables کو قائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جو اگلے انتخابات میں ٹکٹ کے لیے پُراعتماد پلیٹ فارم کی تلاش میں ہیں۔ خصوصاً مسلم لیگ (ن) کی داخلی کشمکش اور مہنگائی کی وجہ سے عوامی بےزاری کے تناظر میں زرداری کو موقع نظر آ رہا ہے کہ وہ اس خلا کو پُر کریں۔
مخلوط حکومت میں موجودگی: فائدہ یا بوجھ؟
یہ سوال اہم ہے کہ پیپلز پارٹی موجودہ وفاقی اور پنجاب حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے کس حد تک خود کو "اپوزیشن نما متبادل” کے طور پر پیش کر سکتی ہے؟ زرداری کی کوشش ہے کہ وہ اس حکومت کے معاشی بوجھ سے خود کو علیحدہ ظاہر کریں، جبکہ اختیارات میں شریک بھی رہیں۔ یہ ایک مشکل توازن ہے، مگر زرداری کی مہارت یہی ہے کہ وہ بیک وقت حکومت اور اپوزیشن دونوں کا تاثر دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بلاول بمقابلہ زرداری: نظریاتی یا عملی سیاست؟
یہ بھی واضح ہوتا جا رہا ہے کہ بلاول بھٹو ایک نظریاتی بیانیے کے ذریعے سیاست کرنا چاہتے ہیں جبکہ آصف زرداری اب بھی روایتی جوڑ توڑ اور مقتدرہ کے ساتھ مفاہمت کے ماہر کھلاڑی کے طور پر میدان میں ہیں۔ پنجاب میں زرداری کا یہ پلان دراصل بلاول کے نظریاتی بیانیے کی نفی بھی ہے، اور اس میں زمینی سیاست کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
مستقبل کی سیاست: پنجاب سے سنبھالنے کی کوشش
آصف زرداری کا ماننا ہے کہ اگر پیپلز پارٹی کو قومی سطح پر دوبارہ اہمیت دلانی ہے تو اس کی شروعات پنجاب سے ہونی چاہیے۔ سندھ میں پارٹی پہلے ہی برسرِاقتدار ہے، جبکہ بلوچستان میں اثر و رسوخ موجود ہے۔ پنجاب میں قدم جمانے کے بعد ہی وفاقی سیاست میں پارٹی مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔
آصف زرداری کی پنجاب میں واپسی محض سیاسی سرگرمی نہیں بلکہ ایک گہری حکمت عملی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کی پوزیشن فیصلہ کن ہو گی۔ اگر وہ یہاں کچھ سیاسی قلعے دوبارہ فتح کر لیتے ہیں تو نہ صرف پیپلز پارٹی کی وفاق میں واپسی ممکن ہو گی، بلکہ ملک کی سیاست کا پاور سینٹر بھی دوبارہ توازن کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، عوامی پذیرائی، تنظیمی ڈھانچہ، اور نوجوان ووٹرز کا اعتماد حاصل کرنا اب بھی ان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔