فون فارمنگ: سیاسی پراپیگنڈا کا ہتھیار

دورِ حاضر میں جہاں ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو سہل اور تیز تر بنایا ہے، وہیں اس نے ایسے دروازے بھی کھول دیے ہیں جن سے سچ اور جھوٹ کی تمیز مٹتی جا رہی ہے۔ انہی دروازوں میں سے ایک "فون فارمنگ” کا ہے ایک ایسا طریقہ جو بظاہر کم آمدنی والی ڈیجیٹل سرگرمی معلوم ہوتا ہے، مگر حقیقت میں اس کے اندر جھوٹ، فریب، اور رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کا ایک گہرا کھیل چھپا ہوتا ہے۔

فون فارمنگ ایک ایسا عمل ہے جس میں متعدد موبائل فونز کو ایک ساتھ استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مختلف آن لائن پلیٹ فارمز پر ویڈیوز دیکھی جائیں، اشتہارات چلائے جائیں، یا ایپس انسٹال کی جائیں۔ بظاہر یہ سرگرمیاں مالی فائدے کے لیے کی جاتی ہیں، لیکن اکثر ان کے پیچھے سیاسی مقاصد اور پراپیگنڈا کی مہمات چھپی ہوتی ہیں۔

آج کے سیاسی منظرنامے میں "ڈیجیٹل پراپیگنڈا” ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے۔ دنیا بھر میں سیاسی جماعتیں اور ریاستی ادارے فون فارمنگ، ٹرول فارمز اور بوٹ نیٹ ورک جیسے طریقوں سے مصنوعی بیانیے تشکیل دیتے ہیں، اور عوام کی رائے کو متاثر کرتے ہیں۔

پاکستان میں پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا ونگ اور "ہیش ٹیگ وارز” کے ذریعے مخصوص موضوعات کو مصنوعی طور پر ٹرینڈ کروایا جاتا رہا ہے، جیسے: #FakeNews اور #JournalismNotAgenda — جنہیں Volunteer اکاؤنٹس اور بعض اوقات حکومتی اکاؤنٹس سے فروغ دیا جاتا ہے (حوالہ: روزنامہ ڈان)۔

بھارت میں بی جے پی کا IT Cell WhatsApp، Twitter اور Facebook پر منظم troll farms چلاتا ہے، جو جھوٹی ویڈیوز، نفرت انگیز مواد اور فرقہ وارانہ تقسیم کو فروغ دیتے ہیں (حوالہ: میڈیا بدھی)۔ 2019 کے انتخابات میں Mass coordination کے ذریعے Hashtag manipulation کیا گیا (حوالہ: arXiv)۔

امریکہ میں 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران روسی "Internet Research Agency” نے ہزاروں جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بنا کر امریکی عوام کو گمراہ کیا، اور ٹرمپ کی حمایت میں مواد پھیلایا۔ ان اکاؤنٹس نے Facebook، Twitter اور Instagram پر نسلی، مذہبی اور سیاسی تقسیم کو بڑھایا (حوالہ: US Senate Intelligence Committee Report)۔

روسی حکومت پر الزام ہے کہ وہ نہ صرف داخلی پراپیگنڈا کے لیے بلکہ دیگر ممالک میں انتخابی عمل کو متاثر کرنے کے لیے بھی سوشل میڈیا نیٹ ورکس اور ٹرول فارمز استعمال کرتی ہے۔ روسی "troll farms” یوکرین، یورپ اور امریکہ میں مسلسل پراپیگنڈا پھیلاتے رہے ہیں۔

فرانس میں بھی انتخابات کے دوران جعلی نیوز ویب سائٹس اور Twitter Bots کے ذریعے مخصوص امیدواروں کے خلاف مہمات چلائی گئیں۔ Emmanuel Macron کے خلاف 2017 میں ایک fake document leak مہم چلائی گئی تھی جسے "MacronLeaks” کہا گیا (حوالہ: Atlantic Council)۔

یہ فونز اور ان سے جُڑے جعلی سوشل میڈیا اکاؤنٹس نہ صرف مخصوص بیانیے کو فروغ دیتے ہیں بلکہ سیاسی مخالفین کے خلاف کردار کشی، بدنامی اور جھوٹے الزامات کی مہم بھی چلاتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مخصوص ہیش ٹیگز کو ٹرینڈ کروانا، جعلی عوامی رائے کا تاثر دینا، اور سچائی کو دفن کرنا یہ سب اسی منظم نظام کا حصہ ہیں۔

سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ عام لوگ، جو سوشل میڈیا کو اپنی معلومات کا اہم ذریعہ سمجھتے ہیں، جھوٹ اور سچ میں فرق نہیں کر پاتے۔ انہیں جو دکھایا جاتا ہے، وہی وہ سچ مان لیتے ہیں۔ یوں فون فارمنگ محض مشینوں سے کمائی کا ذریعہ نہیں رہتی بلکہ انسانی ذہنوں پر قابو پانے کا ہتھیار بن جاتی ہے۔

اگرچہ کچھ ممالک میں ان سرگرمیوں کے خلاف سائبر قوانین موجود ہیں، مگر ان پر مؤثر عملدرآمد کی کمی کے باعث ایسے نیٹ ورکس آزادانہ سرگرم رہتے ہیں۔ جعلی شناختوں، جھوٹے مواد اور بدنامی پر مبنی مہمات کا استعمال نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ اکثر غیر قانونی بھی ہوتا ہے۔

فون فارمنگ ٹیکنالوجی کا وہ پہلو ہے جو بظاہر بے ضرر دکھائی دیتا ہے، مگر درحقیقت یہ رائے عامہ کو متاثر کرنے، سچائی کو دباتے ہوئے جھوٹ کو پروان چڑھانے، اور جمہوری عمل کو مسخ کرنے کا ایک عالمی ذریعہ بن چکا ہے۔

سوشل میڈیا پر ہر چیز کو تنقیدی نظر سے دیکھیں۔
اپنے دل، دماغ اور سوچوں کو دوسروں کے کنٹرول میں نہ دیں۔کیونکہ جو کچھ آپ کے سامنے ہے، وہ ایک فریب بھی ہو سکتا ہے۔

کیا ہم سچ کی تلاش میں آگے بڑھیں گے یا سوشل میڈیا کے فریب کو ہی حقیقت مان لیں گے؟ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے