فطرت سے بغاوت یا آزادی؟

فیمنزم کا نعرہ جب ایک عورت کی زبان پر آتا ہے تو بظاہر یہ ایک پُرکشش جملہ لگتا ہے: "مجھے اپنے حقوق چاہییں، مجھے مرد کے برابر ہونا ہے۔” لیکن درحقیقت، اس ایک نعرے کے پیچھے ایک طویل نظریاتی جنگ، سماجی فریب، اور فطری ترتیب سے بغاوت چھپی ہوئی ہے۔ عورت جب یہ سوال اٹھاتی ہے کہ اسے برابری کا درجہ کیوں نہیں دیا جاتا؟ وہ یہ کہنا چاہتی ہے کہ وہ صدیوں سے مرد کے ظلم کا شکار رہی ہے، اور اب وہ باشعور ہو چکی ہے۔ لیکن یہ باتیں کیا واقعی اُس کی اپنی سوچ ہیں؟ یا اس کے دماغ میں ایک مخصوص ویکسین، ایک مخصوص بیانیہ، انجیکٹ کر دیا گیا ہے؟

فیمینزم ایک ویکسین کی مانند ہے جو بظاہر عورت کو "آزادی” اور "برابری” کا تاثر دیتی ہے، مگر اس کے اثرات نہ صرف وقتی ہیں بلکہ طویل مدتی طور پر تباہ کن بھی ہیں۔ اس ویکسین کو عالمی سطح پر تیار کیا گیا، وقتاً فوقتاً اس کا اپڈیٹڈ ورژن معاشرے میں اتارا گیا اور عورت کو یہ باور کروایا گیا کہ اب وہ مرد کے بغیر، معاشرے میں مکمل خودمختار زندگی گزار سکتی ہے۔ یہ نعرہ حقیقتاً عورت کو خود اس کے اصل مقام، اس کی فطرت، اس کی عزت اور تحفظ سے دور لے جاتا ہے۔

عورت اور مرد کے درمیان فرق ایک سادہ مثال سے سمجھا جا سکتا کیا قلم اور تلوار ایک جیسے کام کر سکتے ہیں؟: نہیں! کیونکہ دونوں کی انجینئرنگ مختلف ہے۔ عورت اور مرد کی فطری ساخت، جسمانی نظام، نفسیاتی کیفیات، اور سماجی کردار الگ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالأُنثَىٰ” (آلِ عمران: 36) یعنی مرد اور عورت برابر نہیں۔ فطرت کی یہ تقسیم برابری کے خلاف نہیں بلکہ عدل کے اصول پر مبنی ہے — ہر فطرت کو اس کے مطابق کردار دینا ہی اصل انصاف ہے۔

جس ذات نے انسان کو تخلیق کیا، اُس نے عورت کو نرم مزاج، جذباتی، اور تخلیقی قوتوں سے مزین کیا، جبکہ مرد کو جسمانی مضبوطی، قیادت اور کفالت کے فرائض دیے۔ اگر کوئی آ کر اللہ کے اس نظام کو چیلنج کرے اور کہے کہ "یہ تقسیم غلط ہے”، تو کیا یہ خالق کی حکمت پر اعتراض نہیں؟ جب خالق نے عورت کو ایک نازک فطرت دے کر اس کے مطابق ذمہ داریاں سونپی ہیں، تو پھر مصنوعی برابری کا مطالبہ نظامِ فطرت کے خلاف جنگ ہے۔

فیمینزم کوئی اتفاقی تحریک نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی ہے۔ اس کے اہداف یہ تھے کہ عورت کو خاندان سے جدا کیا جائے، مرد کو ظالم ثابت کیا جائے، خاندانی نظام کو توڑا جائے، اور مذہب کو عورت کے خلاف دکھایا جائے۔ یہ ویکسین عورت کے ذہن میں یہ تصور بٹھاتی ہے کہ مرد دشمن ہے، خاندان قید ہے، اور مذہب ایک جبر ہے۔ لیکن درحقیقت، یہی تینوں ادارے مرد، خاندان، مذہب ہی اس کے سب سے بڑے محافظ تھے۔

فیمینزم کے اثرات معاشرے میں واضح نظر آتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، خواتین میں ڈپریشن، بے چینی، اور خودکشی کا رجحان مردوں سے دوگنا زیادہ ہو چکا ہے۔ خاندانی نظام بکھر چکا ہے۔ خواتین گھروں سے دور، مرد الگ، بچے تنہا۔ نانی، دادی، ماموں، خالہ جیسے رشتے قصہ پارینہ بن چکے ہیں۔ عورت کی آزادی کے نام پر بے راہ روی کو فروغ ملا ہے۔ جنسی تشدد کے کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔

اسلام نے عورت کو جو عزت دی، وہ کسی دوسرے نظام نے نہیں دی۔ وہ بیٹی ہو تو رحمت، بہن ہو تو عزت کی علامت، بیوی ہو تو سکون کا ذریعہ، اور ماں ہو تو جنت کے دروازے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا: "جس نے تین بیٹیوں کی پرورش کی، ان کی اچھی تربیت کی، ان سے حسن سلوک کیا، تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی۔” (ابو داؤد) قرآن میں عورت کو وراثت، نکاح، حقِ رضاعت، حقِ طلاق، خلع، پردہ، اور مالی کفالت کے حقوق دیے گئے ہیں۔ یہ سب اُس وقت دیے گئے جب دنیا کی بڑی تہذیبیں عورت کو زندہ دفن کرتی تھیں۔

آج کی عورت جسے فیمینزم کا انجیکشن لگا دیا گیا ہے، وہ خود کو ہر رشتہ، ہر تعلق، اور ہر اصول سے آزاد سمجھتی ہے۔ وہ سمجھتی ہے کہ وہ اکیلی ہر محاذ پر لڑ سکتی ہے۔ نتیجہ؟ معاشی دباؤ، جذباتی عدم استحکام، صحت کے مسائل، خاندانی ناکامی۔ جدید میڈیکل سائنس بھی بتاتی ہے کہ آج کی عورت کا ہارمونی نظام شدید متاثر ہے۔ اس کی نفسیات اُس کے جسمانی نظام سے ہم آہنگ نہیں، اور یہی اسے مستقل ڈپریشن اور ذہنی دباؤ کی حالت میں رکھتا ہے۔

آج جب ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں تو ہر طرف بگاڑ نظر آتا ہے۔ اکیلی رہنے والی خواتین کے فلیٹس سے بدبو آتی لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔ رشتوں کی پہچان مٹ چکی ہے۔ خاندان اجڑ چکے ہیں۔ لڑکیاں نشے، ریپ، فحاشی، اور ذہنی بیماریوں کا شکار ہیں۔ یہ سب اس زہریلے انجیکشن کا نتیجہ ہے جسے فیمینزم کہا جاتا ہے۔ یہ تحریک عورت کو اصل تحفظ سے دور کر کے مصنوعی طاقت دیتی ہے، جو نہ اس کے لیے فائدہ مند ہے، نہ معاشرے کے لیے۔

اس کا حل یہ ہے کہ عورت اپنی اصل پہچان کو پہچانے وہ اللہ کی تخلیق ہے، کمزور نہیں، قیمتی ہے۔ اسلامی نظام کو اپنائے، جو واحد نظام ہے جو عورت کو اس کی فطرت کے مطابق مکمل تحفظ اور عزت دیتا ہے۔ خاندانی نظام کو مضبوط کیا جائے کیونکہ مرد اور عورت ایک دوسرے کے دشمن نہیں بلکہ ایک دوسرے کے محافظ ہیں۔ مغرب سے آنے والے ہر نظریے کو اندھا دھند قبول نہ کیا جائے بلکہ قرآن اور سنت کی روشنی میں پرکھا جائے۔

اے عورت! تو "النساء” ہے قرآن کا مکمل باب تیرے نام ہے۔ تیرے قدموں تلے جنت ہے، تیرے لیے نبی کریم ﷺ نے انقلاب برپا کیا۔ تو کمزور نہیں، قیمتی ہے۔ تو مظلوم نہیں، معتبر ہے۔ فیمینزم کی جھوٹی ویکسین کو اتار پھینکو، اور اللہ و رسولؐ کی دی ہوئی اینٹی بایوٹک کو اختیار کرو۔ یہی تمہاری نجات ہے، یہی تمہاری عزت، اور یہی تمہاری بقاء کا راز ہے۔
تم خاص ہو، تم "ان نسا” ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے