میڈیا اور انفارمیشن لٹریسی فریم ورک پر قومی مکالمہ

اسلام آباد، 11 جولائی 2025 ؛ ادارہ فروغِ قومی زبان اسلام آباد میں میڈیا اور انفارمیشن لٹریسی (MIL) پالیسی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے قومی مکالمے کا انعقاد کیا گیا، جس میں حکومتی نمائندوں، ماہرینِ تعلیم، میڈیا سے وابستہ شخصیات اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ اس مکالمے کا مقصد پاکستان میں بڑھتی ہوئی غلط معلومات (مِس انفارمیشن) اور گمراہ کن معلومات (ڈس انفارمیشن) کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی پر غور کرنا تھا۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات پروفیسر احسن اقبال نے افتتاحی خطاب میں غلط اور گمراہ کن معلومات کے بڑھتے ہوئے خطرات کو سنجیدگی سے لینے اور ان کے تدارک کے لیے مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے اس مکالمے کے نتیجے میں تیار ہونے والے میڈیا اور انفارمیشن لٹریسی فریم ورک کو حکومتی سطح پر پیش کر کے اسے ضروری پالیسی اقدامات کا حصہ بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

یہ پروگرام یونیسکو کے اس اقدام کے تحت منعقد ہوا جو پاکستان میں میڈیا اور انفارمیشن لٹریسی پالیسی فریم ورک کو مضبوط بنانے کے لیے جاری ہے۔ اس میں یونیسکو کے اشتراک سے میڈیا فاؤنڈیشن 360، زیبسٹ یونیورسٹی اسلام آباد اور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ڈیجیٹل میڈیا نے معاونت کی۔

یونیسکو کے نیشنل پروگرام آفیسر حمزہ سواتی نے شرکاء کو خوش آمدید کہا، شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کیا اور قومی سطح پر MIL فریم ورک کی تیاری کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یونیسکو میڈیا لٹریسی، تنقیدی سوچ اور ذمہ دارانہ ڈیجیٹل مصروفیت کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے، خاص طور پر آج کے تیزی سے بدلتے ہوئے اطلاعاتی ماحول میں۔

پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ڈیجیٹل میڈیا کی چیئرپرسن اور اس منصوبے کی ریسرچ لیڈ ڈاکٹر سویرا مجیب شامی نے منصوبے کا جامع جائزہ پیش کیا اور ملک بھر میں صوبائی اور ضلعی سطح پر ہونے والی مشاورتوں سے حاصل کردہ اہم سفارشات شرکاء کے سامنے رکھیں۔

زیبسٹ یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس کے سربراہ خُسرو پرویز خان نے بھی خطاب کیا۔ انہوں نے اس اہم اقدام کی حمایت کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ادارے میڈیا خواندہ، تنقیدی سوچ رکھنے والے شہری بنانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے طلبہ کو مضبوط میڈیا لٹریسی اور ڈیجیٹل ذمہ داری سے آراستہ کرنے کے لیے زیبسٹ کی وابستگی کو دہرایا۔ اس موقع پرپولیٹیل کونسلر کینیڈین ہائی کمیشن ڈینیل آرسینالٹ نے بھی خطاب کیا اور میڈیا انفارمیشن لٹریسی پالیسی فریم ورک کو سراہا اور وقت کی ضرورت قرار دیا۔

اس قومی مکالمے میں معروف سینئر صحافی محترمہ عاصمہ شیرازی، محمد مالک، عامر الیاس رانا اور حامد میر سمیت سابق صدر پی ایف یو جے نواز رضا،سی ای او پاکستان آبزرور فیصل زاہد ملک اور سابق ڈائیریکٹر پپس ظفر اللہ نے بھی خیالات کا اظہار کیا۔ شرکا نے اس اقدام کو وقت کی اہم ضرورت اور غلط معلومات کے خلاف جدوجہد میں ایک مؤثر قدم قرار دیا۔انہوں نے معاشرتی رویوں میں وسیع تبدیلی کی ضرورت، پرائمری تعلیمی نظام میں بہتری، اور بزرگ نسل کے کردار کو بھی اجاگر کیا جو بعض اوقات غلط معلومات کے پھیلاؤ میں کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ صحافیوں اور میڈیا پیشہ ور افراد کو اس قومی مکالمے کی قیادت کرنی چاہیے تاکہ ڈیجیٹل خواندگی اور باخبر شہری تشکیل دیئے جا سکیں۔

تقریب میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، بشمول تعلیمی ماہرین، میڈیا نمائندگان اور پالیسی سازوں نے بھرپور شرکت کی اور اس اقدام کو خوش آئند اور وقت کی ضرورت قرار دیا۔ شرکاء نے اس جامع اور ہمہ گیر قومی مکالمے کے انعقاد پر منتظمین کی کاوشوں کو سراہا۔ اس موقع پر حاصل ہونے والی سفارشات اور آراء آئندہ ایک جامع MIL پالیسی کی تشکیل میں مددگار ثابت ہوں گی، جو ڈیجیٹل خواندگی کو فروغ دینے، جمہوری اقدار کو مضبوط کرنے اور غلط معلومات و گمراہ کن پروپیگنڈے کے خلاف معاشرتی مزاحمت پیدا کرنے میں معاون ہوگی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے