پھر سے فرقہ وارانہ فسادات؟

گلگت بلتستان کی فضاؤں میں ایک بار پھر نفرت کا زہر گھولا جا رہا ہے۔ نفرت پھیلانے اور فرقہ وارانہ فسادات کرانے اور کرنے کی مکمل سعی کی جارہی ہے، مختلف سمتوں سے اُٹھنے والی چنگاریاں اس بات کی خبر دے رہی ہیں کہ خطے کو ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ آگ میں جھونکنے کی مکمل تیاری کی جا چکی ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ماضی کے زخم ابھی بھرے نہیں تھے کہ سازشوں کی نئی فصل تیار ہو گئی ہے بلکہ اس فصل نے باقاعدہ پکنا شروع کیا ہے۔

ہر باشعور شخص جانتا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ فسادات محض اتفاق نہیں ہوتے۔ یہ سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہوتے ہیں، جہاں کچھ ہاتھ پسِ پردہ ہوتے ہیں، اور کچھ چہروں کو آگے کر کے خون بہانے کا سامان کیا جاتا ہے۔ آج پھر گلی کوچوں میں نفرت پھیلائی جا رہی ہے، نوجوانوں کو جذبات کے طوفان میں بہا کر تشدد کی راہ پر ڈالا جا رہا ہے، اور ہر کوئی اپنی طاقت کے زور پر دوسروں کو زیر کرنے کی تیاری میں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو فرقہ جتنا زیادہ طاقتور ہے، وہ اتنا ہی زیادہ ان فسادات میں ملوث ہے اور ہر ممکن راہ ہموار کررہا ہے۔ اپنی اکثریت، اثر و رسوخ، افرادی قوت یا وسائل کے بل پر ہر ایک دوسرے پر غالب آنے کی کوشش میں ہے۔ یوں امن، عقل، اور رواداری کو کچل کر طاقت کے نشے میں نسلیں قربان کی جا رہی ہیں۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ بار بار مرنے، جلنے، تباہ ہونے کے باوجود ہم عقل کی روشنی سے منہ موڑے کھڑے ہیں۔ نہ ماضی کی تباہ کاریاں ہمیں سبق دیتی ہیں، نہ ہزاروں بے گناہ جانوں کا ضیاع ہمیں جھنجھوڑتا ہے۔ ہر بار چند دن کی آگ، اور پھر برسوں کی راکھ، امن معاہدے، ضوابط اخلاق ،روایتی جرگے، امن پریس کانفرنسز اور سیمینارز، دکھاوے کی یکجہتی، یہی ہماری تاریخ بن چکی ہے۔ تاریخ کیا، یہی منافقت کی روش عشروں سے یہاں عروج پر ہے۔

کوئی مانے یا نہ مانے! یہ حالات خودبخود نہیں بنتے۔ کوئی نہ کوئی بڑی طاقت اس کھیل کی ہدایتکاری کر رہی ہے۔ گلگت بلتستان کے قدرتی وسائل، معدنیات ، اس کی جغرافیائی اہمیت، اور اس خطے کی سیاسی بے سمتی کو دیکھ کر بیرونی ہاتھوں نے فیصلہ کیا ہے کہ یہاں کی زمین کو نفرت سے بھر دیا جائے۔ جمشید دکھی مرحوم نے سچ کہا تھا کہ بڑی زرخیز گلگت کی زمین ہے۔

لیکن ابھی بھی وقت ہے۔ اگر کوئی صاحبِ دل، صاحبِ ایمان اور صاحبِ بصیرت قیادت اٹھے، تو ہم اس دلدل سے نکل سکتے ہیں۔ اگر عوام، دانشور، علماء اور سیاسی قیادت نے مل کر سچ کو پہچان لیا، تو یہ خطہ تباہی سے بچ سکتا ہے۔

ہمیں فیصلہ کرنا ہے، کیا ہم ایک بار پھر اپنے بچوں کے جنازے اٹھائیں گے؟ کیا ہم پھر اپنی نسلوں کو فساد کی راکھ میں دفن کریں گے؟ یا اس بار عقل، اتحاد اور حکمت کو اپنا ہتھیار بنا کر دشمن کی چال کو ناکام بنائیں گے؟

فیصلہ آج کرنا ہے، ورنہ کل شاید بہت دیر ہو جائے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے