مارچ 2024 میں گوادر کے رہائشی اپنے گھروں سے جمع شدہ پانی نکالنے کے لیے احتجاج کر رہے تھے، اور اب جولائی 2025 میں وہ پانی کی قلت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
فروری 2024 میں، غیر متوقع بارشوں نے گوادر میں تباہی مچا دی۔ سینکڑوں مکانات کو نقصان پہنچا، اور پانی کئی دنوں تک گلیوں اور گھروں میں جمع رہا۔ سردیوں کے موسم میں اس قدر شدید بارش مقامی لوگوں کے لیے ایک مکمل حیرت تھی، کیونکہ انہوں نے ایسی موسلا دھار بارش کی توقع نہیں کی تھی۔
گوادر اور اس کے گردونواح کے علاقے اس وقت شدید پانی کی قلت کا شکار ہیں اور موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات سے دوچار ہیں۔ آبادی میں اضافے اور میگا منصوبوں کی ترقی کے ساتھ پانی کی طلب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ صوبائی سطح پر مؤثر آبی نظم و نسق کو مضبوط کرنا اور سطحی پانی کے ذرائع کو وسعت دینا ناگزیر ہو گیا ہے۔
فی الحال، گوادر شہر کو شدید پانی کی قلت کا سامنا ہے۔ شہر بنیادی طور پر بارش کے پانی پر انحصار کرتا ہے، جبکہ سطحی پانی کے ذرائع محدود اور متبادل ذرائع موجود نہیں ہیں۔ اس وقت سود ڈیم گوادر کے لیے پانی کا واحد فعال ذریعہ ہے۔
محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ گوادر کے مطابق، سود ڈیم فی الحال گوادر اور اس کے گرد و نواح کے علاقوں کے لیے پینے کے پانی کا واحد ذریعہ ہے۔ دریں اثنا، گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی شادی کور ڈیم کو گوادر سے منسلک کرنے پر کام کر رہی ہے تاکہ پانی کی فراہمی کو بہتر بنایا جا سکے۔
گوادر ایک نشیبی ساحلی علاقے میں واقع ہے، جہاں سمندر کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے۔ بعض علاقے تو سطح سمندر سے نیچے بھی واقع ہیں، جو خطے کے لیے سنگین خطرات پیدا کرتے ہیں۔ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ گوادر اور اس کے ملحقہ علاقوں کے لیے مخصوص حکمت عملی تیار کی جائے، جن میں ساحلی پٹی کی حفاظت کے لیے سمندری دیواروں کی تعمیر بھی شامل ہو۔
گوادر میں محکمہ آبپاشی کے ڈپٹی ڈائریکٹر اور موسمیاتی تبدیلی کے ماہر، پذیر احمد کا کہنا ہے کہ گوادر پانی کے تین بنیادی ذرائع پر انحصار کرتا ہے:
زیر زمین پانی
بارش کا پانی
ڈسٹلینیشن (پانی صاف کرنے کا) پلانٹ
تاہم، ان میں سے زیادہ تر ذرائع یا تو غیر فعال ہیں یا محدود صلاحیت پر کام کر رہے ہیں، جو پانی کے بحران کو مزید شدید کر رہے ہیں۔
گوادر کی ایک موسمیاتی کارکن اور” زیمک بلوچستان "کے بانی نفیسہ بلوچ کے مطابق، گزشتہ سال خطے میں شدید بارشیں ہوئیں، لیکن اب علاقہ قحط سالی کا شکار ہے ـ اور اس کی بنیادی وجہ ناقص پانی کا انتظام ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ "حکومت نہ تو ڈیموں کی مرمت کر سکی اور نہ ہی انہیں برقرار رکھا، اور بارش کا پانی مناسب طریقے سے محفوظ نہیں کیا گیا۔ ایک ایسا علاقہ جو چاروں طرف سے سمندر سے گھرا ہوا ہے، وہ اب بھی بغیر فلٹر کیے ہوئے، تیزابیت والے بارش کے پانی پر انحصار کر رہا ہے، بجائے اس کے کہ صاف پانی کے لیے ڈسٹلینیشن ٹیکنالوجی میں سرمایہ کاری کی جاتی۔”
پذیر احمد کے مطابق، گوادر کی زمین ناہموار ہے اور کچھ علاقوں میں زیر زمین پانی زمین کی سطح سے صرف چند فٹ نیچے پایا گیا ہے۔ انہوں نے 45 دنوں کے دوران 427 نمونے اکٹھے کیے، جن سے ظاہر ہوا کہ زیر زمین پانی کے حد سے زیادہ استعمال سے سمندری پانی زمین میں داخل ہو سکتا ہے۔ زیر زمین پانی کی کمی بھی سطح سمندر میں اضافے کی ایک وجہ ہے۔
غیر منصوبہ بند شہری ترقی، قدرتی آبی گزرگاہوں کی بندش، ناقص نکاسیٔ آب اور سیوریج کے نظام، اور زمین کی کم پانی جذب کرنے کی صلاحیت نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ دشت دریا اور تلار جیسے علاقے فلیش فلڈ (اچانک سیلاب) زون میں آتے ہیں، جہاں پہاڑوں سے پانی تیزی سے بہتا ہے اور تباہی پھیلتی ہے۔ گوادر کے شمالی حصے میں شدید کٹاؤ دیکھنے میں آیا ہے، جبکہ دیہی علاقوں پر اس کا اثر نسبتاً کم رہا ہے۔
پذیر احمد کا کہنا ہے کہ گوادر اور اس کے گردونواح میں چار اقسام کے سیلاب آتے ہیں، جن سے بچاؤ کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے ، یہاں کی زمین زیادہ تر ناقابلِ نفوذ ہے، جس کی وجہ سے پانی زمین میں جذب نہیں ہو پاتا۔
نفیسہ بلوچ نے مزید کہا کہ گوادر، خاص طور پر ساحلی اور دور دراز علاقوں میں موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے آگاہی کی کمی ہے۔ ان کی تنظیم تعلیمی اداروں اور دیگر فورمز میں آگاہی سیشنز منعقد کر رہی ہے اور کمیونٹیز کو موسمیاتی تبدیلی کے خلاف متحرک کر رہی ہے۔ ان کے مطابق، خواتین اس بحران سے غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں ـ وہ اکثر سیلاب کے بعد بے گھر ہو جاتی ہیں، پانی لانے کے لیے طویل فاصلے طے کرتی ہیں اور موسمیاتی بحران کے دوران خوراک، بچوں اور خاندان کی دیکھ بھال کی مکمل ذمہ داری ان پر آ جاتی ہے۔
نفیسہ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر موجودہ ڈیموں کی مرمت کرے، نئے سطحی پانی کے ذرائع تعمیر کرے، سمندری پانی کو میٹھا کرنے والے پلانٹس لگائے، اور طویل المدتی آبی ذخائر پر کام کرے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ حکومت کو موسمیاتی تعلیم کو فروغ دینا چاہیے، مقامی آوازوں کو منصوبہ بندی میں شامل کرنا چاہیے، اور پائیدار انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے تاکہ گوادر کے ساحلی علاقے مستقبل کے موسمی خطرات کا سامنا کر سکیں۔
پذیر احمد کا کہنا ہے کہ بڑے ڈیم ہر جگہ ممکن نہیں، کیونکہ وہ مہنگے ہوتے ہیں اور ان کی عمر محدود ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، چھوٹے ڈیمز اور تالاب ایک زیادہ پائیدار متبادل ہو سکتے ہیں۔ اگرچہ گوادر میں سطحی پانی کو ری چارج کے لیے مؤثر طریقے سے استعمال نہیں کیا جا سکتا، لیکن زیر زمین پانی کو متبادل طریقوں سے ری چارج کرنا ممکن ہے — جنہیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
گوادر میں قدرتی، جغرافیائی اور سماجی تنوع نمایاں ہے، جسے کسی بھی منصوبہ بندی میں مدِنظر رکھنا ضروری ہے۔ مزید برآں، اعداد و شمار کا حصول، کیس اسٹڈیز، کمیونٹی کی شمولیت، اور موسمیاتی لحاظ سے پائیدار انفراسٹرکچر کی منصوبہ بندی طویل مدتی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہو چکی ہے۔