ممکن ہے میرے اور آپ کے کم گو ہونے کی وجوہات ایک جیسی ہوں… لیکن میں فطرتاً بہت کم گو ہوں۔میرے سامنے اگر کوئی بحث و مباحثہ کرے، بلند آواز میں دلائل دے کر خود کو درست اور مجھے غلط ثابت کرنے پر مصر ہو جائے، تو میں جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کرتی ہوں۔
یہ خاموشی میرے غرور کی نہیں، بلکہ عاجزی اور خودداری کی علامت ہے۔ کسی سے الجھنا، تلخ کلامی کرنا میرے مزاج کے خلاف ہے۔
جب میں کسی محفل یا سیشن میں شریک ہوتی ہوں، تو -توجہ سے سننا، سوچنا اور بات کی تہہ تک جانا مجھے بے حد پسند ہے۔
لیکن کل کچھ مختلف ہوا…
کل میں غیر معمولی اعتماد کے ساتھ بول رہی تھی — جیسے اپنے قریبی دوستوں سے مخاطب ہوں۔
شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ موضوع میرے دل کے بے حد قریب تھا… اور شاید اس لیے بھی کہ یہ بات کہیں میرے اندر بہت گہرائی میں پہلے سے موجود تھی، صرف اظہار کا انتظار تھا۔
یہ سیشن ذہنی صحت اور اس سے جڑے مسائل پر تھا، جس کی میزبانی محترم ڈاکٹر محمد بابر صاحب نے کی۔ انہوں نے بہت خوشگوار اور دوستانہ انداز میں گفتگو کی، آگاہی فراہم کی اور شرکاء سے دلچسپ سوالات بھی کیے، جن کی بدولت بات کو سمجھنا اور بھی آسان ہو گیا۔ ڈاکٹر شاہد انور صاحب نے بھی معاونت کرتے ہوئے بہت عمدہ انداز میں سوالات کیے اور ہمارے سوالات کے مدلل جوابات دیے۔
انھوں نے تین بنیادی تصورات کا تذکرہ کیا .
نازک (Fragile):
جو دباؤ یا جھٹکے سے فوراً ٹوٹ جائے جیسے شیشہ۔
مضبوط (Robust):
جو دباؤ کو سہہ جائے، مگر خود میں تبدیلی نہ لائے جیسے لوہا۔
ضدِ نازک (Antifragile):
جو دباؤ اور صدمات کے نتیجے میں مزید بہتر، زیادہ طاقتور اور مؤثر ہو جائے .
جیسے ہمارا جسم، جو ورزش کے بعد تھک تو جاتا ہے، مگر پھر اور زیادہ مضبوط ہو جاتا ہے۔
زندگی میں کئی بار ایسے لمحات آتے ہیں جب انسان تھکن، بے بسی اور ذہنی دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ہر چیز کو اپنی مرضی اور ترتیب سے چاہتے ہیں۔ وہ جذباتی طور پر نازک اور حساس ہوتے ہیں، اور معمولی بات یا تنقید بھی انہیں متاثر کر دیتی ہے۔ دوسری طرف کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو بڑے سے بڑا مسئلہ خندہ پیشانی سے جھیل لیتے ہیں، اور کسی دباؤ کو اپنے اوپر سوار نہیں ہونے دیتے۔جو مضبوط بنیادوں پر قائم ہوتے ہیں، قابلِ اعتماد ہوتے ہیں.لیکن اس کے باوجود اپنے اندر کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں لا پاتے.
لیکن اس سے بھی ایک قدم آگے وہ لوگ یا رویے ہوتے ہیں جو دباؤ کو شکست نہیں سمجھتے بلکہ اسے موقع بناتے ہیں۔ وہ مشکلات سے سبق سیکھتے ہیں، خود کو بہتر کرتے ہیں اور ان ہی تجربات سے نکھر کر مزید طاقتور ہو جاتے ہیں۔وہ دباؤ، صدمے، تبدیلی یا مشکل حالات کا سامنا کر کے کمزور ہونے کے بجائے اور زیادہ مضبوط ہو جائے۔
ہمیں زندگی میں اکثر وہ نہیں ملتا جس کے ہم حقدار ہوتے ہیں۔ بعض اوقات ہم ان غلطیوں کی سزا بھی بھگتتے ہیں جو ہم نے کی ہی نہیں ہوتیں۔ ہمیں بلاوجہ تنقید، طنز اور تضحیک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسرے لوگوں کو ہم پر ترجیح دی جاتی ہے، ہمیں بار بار پیچھے دھکیلا جاتا ہے، سرد رویے ہماری خودی کو مجروح کرتے ہیں اور بالآخر ہم اندر سے ٹوٹنے لگتے ہیں۔ ایک وقت آتا ہے کہ ہم خود کو خالی، کمزور اور ہارا ہوا محسوس کرنے لگتے ہیں۔
لیکن یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں ہمیں ہار نہیں ماننی۔ مشکلات، چیلنجز اور آزمائشیں دراصل زندگی کے وہ اسباق ہیں جو ہمیں بناتے اور سنوارتے ہیں۔ یہی سختیاں ہمیں لوگوں کو سمجھنے کا فن سکھاتی ہیں، ہمیں حقیقت سے آشنا کرتی ہیں اور کئی بار ہماری کامیابی کا راستہ بھی یہی بناتی ہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ہمت اور حوصلے کا دامن کبھی نہ چھوڑیں۔
سیشن کے آخر میں کچھ دوستوں نے اپنی رائے کا اظہار کیا کہ اس گفتگو نے انہیں کس قدر متاثر کیا اور وہ اپنی زندگی میں کیا تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں۔ ان کی سیکھنے کی فہرست کچھ یوں تھی:
اب غصہ نہیں کرنا
کسی سے جھگڑا نہیں کرنا
بلاوجہ تنقید سے گریز
منفی اور زہریلے لوگوں سے دوری
خاموشی کو اپنانا
برداشت کو اپنا ہنر بنانا
دوستوں سے تعلق میں توازن رکھنا
خود کو وقت دینا
غیر ضروری وابستگی سے اجتناب
خود شناسی کی طرف سفر
خود کو خوش رکھنا سیکھنا
سکرین ٹائم کو محدود کرنا
گھر والوں کے ساتھ وقت گزارنا
جسمانی سرگرمی کو معمول بنانا
دوسروں کی باتوں کو دل پر نہ لینا
گہرے سانس لینا
مستقل مزاج بننا
خود اعتمادی پیدا کرنا
تربیت اور سیکھنے کا عمل جاری رکھنا
وغیرہ
یہ وہ چھوٹے مگر گہرے اصول ہیں، جو اپنائے جائیں تو انسان نہ صرف ذہنی طور پر بہتر ہو سکتا ہے بلکہ زندگی کو بھی سنوار سکتا ہے۔