تیرہ 13, جولائی 19931 کی وہ اذان جسے 22 موذنین نے جان دے کر مکمل کیا

کشمیری مسلمانوں کی تحریکِ آزادی کسی وقتی ردِ عمل یا محدود مطالبے کا نتیجہ نہیں بلکہ دو صدیوں پر محیط ایک ایسی مسلسل جدوجہد ہے جس کی بنیاد قربانی، استقلال اور ایمان پر رکھی گئی۔ تاریخ کے صفحات گواہ ہیں کہ جب بھی کسی قوم نے اپنے حقِ خودارادیت کے لیے آواز بلند کی، اسے ظلم و ستم، جبر و تشدد اور ریاستی دہشتگردی کا سامنا کرنا پڑا۔ کشمیر کی سرزمین بھی ایسی ہی قربانیوں کی امین ہے جہاں ہر گھڑی، ہر لمحہ، کسی نہ کسی ماں کی گود اجڑتی ہے، کسی بہن کی چادر چھینی جاتی ہے، اور کسی باپ کے سامنے اس کے لعل کو گولیوں سے چھلنی کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ سب ظلم و ستم قربانیاں دیتے کشمیری عوام کے حوصلوں کو کمزور نہیں کر سکا، بلکہ مزید مضبوط کر دیا۔ تاریخ کے ہر موڑ پر جب ظلم نے اپنے پنجے گاڑنے چاہے، تو کشمیریوں کے ایمان، غیرت اور حریت نے اسے للکارا۔

کشمیر کی تاریخ میں 13 جولائی 1931 کا دن وہ تاریخی دن ہے جو مسلمانوں کی مذہبی آزادی، قومی غیرت اور اجتماعی شعور کے احیاء کا دن بن کر ابھرا۔ ایک جانب مذہبی خطبے کو بغاوت قرار دیا جا رہا تھا اور دوسری طرف قرآن کریم کی توہین، عید کی نماز پر پابندی، اور شعائرِ اسلام کی کھلم کھلا توہین کی جا رہی تھی۔ ایسے میں قوم کے نمائندگان نے سیاسی بصیرت، دینی حمیت اور قومی شعور کا مظاہرہ کیا اور ظلم کے خلاف ڈٹ گئے۔ اُس دور کے مجاہد عبد القدیر کی پرجوش تقریر ہو یا اس کی گرفتاری، ہر واقعہ اس تحریک کو ایندھن فراہم کرتا گیا۔ 13جولائی کی قربانیوں کی داستان آج تک کشمیریوں کے جذبۂ آزادی کو تازہ رکھے ہوئے ہے اور یہی واقعہ دراصل تحریک آزادی کی بنیاد بنا۔ یہ واقعہ اس طرح پیش آیا کہ 13 جولائی 1931 کو مسلمان عبد القدیر خان کے خلاف نا جائز ریاستی مقدمے کی سماعت کے موقع پر اکٹھے ہوئے تھے، اور احتجاج کر رہے تھے کہ نماز ظہر کا وقت آن پہنچا، ظہر کے وقت احتجاجی ریلی کے شرکاء کے اذان دینے پر پولیس نے گولی مار کر مؤذن کو شہید کر دیا تھا، پہلے مؤذن کی شہادت پر دوسرے مؤذن نے جگہ لے لی، اسے بھی گولی مار دی گئی۔ پھر تیسرے ، چوتھے جگہ لیتے چلے گئے جب تک اذان مکمل نہ ہو گئی، جب مؤذنین کو اذان سے باز رکھنے کی کوشش ناکام ہوئی تو پولیس نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی، جس کے نتیجے میں یکے بعد دیگرے 22 مؤذنین جام شہادت نوش کر گئے اور سو سے زائد زخمی ہو گئے۔ خواجہ بہاؤ الدین نقشبندی کے مزار کے ساتھ ملحقہ قبرستان میں شہداء کو دفنانے کے بعد سے یہ مزار شہدا کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس سانحے کی یاد میں دنیا بھر میں کشمیریوں سمیت عالمی برادری ہر سال یہ دن مناتی ہے جبکہ اس دن مقبوضہ کشمیر میں عام تعطیل ہوا کرتی تھی مگر مودی سرکار نے 2019ء میں 13 جولائی کی سرکاری تعطیل ختم کر کے کشمیر کی تاریخ کو بدلنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ وادیٔ کشمیر جتنی خوبصورت ہے، وہاں کے باسی اتنے ہی بھارتی ظلم و ستم کا شکار ہیں۔ قابض حکومت اور انتہا پسند ہندوؤں نے اس جنت نظیر وادی کو ظلم کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔ ماضی میں 1832ء کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی خالصہ فوج کے خلاف لڑنے والے بہادر رہنماؤں جیسے سردار سبز علی خان اور سردار ملی خان سمیت کئی حریت پسندوں کی کھالیں تک اتار لی گئیں۔ 1846ء میں انگریز سامراج نے ظلم کی ایک نئی مثال قائم کی جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے کشمیر کو صرف پچھتر لاکھ روپے (تقریباً ایک لاکھ پاؤنڈ) کے عوض ڈوگرا راجہ گلاب سنگھ کے ہاتھ بیچ دیا، یہ تاریخ کی ستم ظریفیوں میں سے ایک ہے۔

مقبوضہ کشمیر میں ظلم و جبر کی کہانیاں نہ صرف طویل ہیں بلکہ ناقابلِ یقین حد تک دردناک بھی ہیں۔ یومِ شہدائے کشمیر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ان قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ خاص طور پر 13 جولائی 1931ء کا دن کشمیریوں پر ڈھائے گئے مظالم کی ایک خونی تاریخ ہے، جسے نئی نسل کو ضرور جاننا چاہیے تاکہ وہ اپنی شناخت، جدوجہد اور شہداء کی قربانیوں سے آگاہ ہو۔
مقبوضہ کشمیر اور ہندوستان میں سخت پابندی کے باوجود ہر سال مقبوضہ کشمیر میں 13 جولائی کو یومِ شہدائے کشمیر منایا جاتا ہے، تاکہ ان شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھا جا سکے جنہوں نے مذہب، تہذیب اور آزادی کی شمع کو اپنے خون سے روشن رکھا۔ مائیں اپنے بچوں کو ان شہداء کی کہانیاں سناتی ہیں، اور یہ باور کرواتی ہیں کہ اقوام کو کچھ عرصہ کے لیے ظلم کی زنجیروں میں تو قید رکھا جا سکتا ہے، لیکن ان کے خواب، ان کا جذبہ اور ان کا ایمان قید نہیں کیا جا سکتا۔ شہداء کے لہو نے کشمیر کی مٹی میں ایسی حرارت بھردی ہے جو آج بھی وہاں کے بچوں، نوجوانوں اور بزرگوں کے لہجے میں حریت کی خوشبو بن کر مہکتی ہے۔ بزرگ اپنے نواسوں کو بتاتے ہیں کہ غلامی کا لباس کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، عزت کی زندگی صرف آزادی میں ہے۔

یوم شہدائے کشمیر صرف ایک تاریخ یا علامتی دن تو ہے نہیں، بلکہ یہ ہمارے بہادر مجاہدین کی حقیقی تاریخ ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بتائیں کہ کسی بھی قوم کو آزادی کی قیمت ایسی ہی کئی قربانیوں سے چکانی پڑتی ہے، مسلمان کا دکھ اور غم سانجھا ہوتا ہے، اور پھر کشمیری عوام تو پاکستان سے نہ صرف محبت کرتے ہیں بلکہ وہ پاکستان ہی کو اپنا حقیقی دیس سمجھتے ہیں، اپنے شہداء کو پاکستان کے پرچم میں کفن دے کر دفن کرتے ہیں، بطور پاکستانی ہمیں اپنے کشمیری شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے اس عہد کی تجدید کرنی ہے کہ جب تک کشمیری مسلمان اپنی سرزمین پر آزاد فضا میں سانس نہ لے سکیں، نہ صرف ہماری آواز، ہمارے قلم، اور ہمارے دل ان کے ساتھ رہیں گے۔ بلکہ ہم ہر سفارتی و ریاستی سطح پر کشمیری عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ شہداء کا خون ہمارا قرض بھی ہے اور ہمارا عزم بھی، جسے ہم کبھی بھول نہیں سکتے۔ کشمیر کی صبحِ آزادی ان شاءاللہ طلوع ہو کر رہے گی، کیونکہ ظلم کی رات جتنی بھی طویل ہو، سورج کی کرنوں کو روک نہیں سکتی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے