گلوبل شیپرز پشاور ہب نے جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں گلوبل شیپرز انوویشن پرائز 2025 جیت کر تاریخ رقم کر دی

گلوبل شیپرز پشاور ہب نے جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ ورلڈ اکنامک فورم میں گلوبل شیپرز انوویشن پرائز 2025 جیت کر تاریخ رقم کر دی ہے۔ یہ اعزاز انہیں ان کے انقلابی کلائمٹ ٹیک منصوبے ClimaSynth پر دیا گیا، جو پاکستان میں اپنی نوعیت کا پہلا منصوبہ ہے۔

ClimaSynth ایک جدید AI پر مبنی پلیٹ فارم ہے جو موسمیاتی معلومات کو سادہ انداز میں مقامی زبان میں چیٹ بوٹ، کاربن کیلکولیٹر، اور تعلیمی مواد کے ذریعے عوام تک پہنچاتا ہے۔ اس کا مقصد کمزور طبقات کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے بااختیار بنانا ہے۔

شہاب الدین، جو گلوبل شیپرز پشاور ہب کے کیوریٹر ہیں، نے ورلڈ اکنامک فورم کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ گلوبل شیپرز اینول سمٹ میں پاکستان کی نمائندگی کی۔ انہوں نے دنیا بھر سے آئے ہوئے سینکڑوں نوجوان رہنماؤں اور فورم کی امپیکٹ ٹیم کو ClimaSynth منصوبے کے بارے میں بریفنگ دی اور کہا:

"ہم صرف موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ حل نہیں کر رہے، ہم اُن زندگیوں کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں جو پہلے ہی خطرے میں ہیں۔”

یہ منصوبہ اعزاز احمد کی قیادت میں تشکیل دیا گیا، جسے رضوان، عدنان، عبید، روحیل، اور عرفہ پر مشتمل ایک پُرعزم ٹیم نے مکمل کیا۔ اس پوری کاوش کی نگرانی کیوریٹر شہاب الدین کریں گے۔

اس عالمی اعزاز سے پاکستان کے مقامی نوجوانوں کی محنت کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے، اور یہ کامیابی ملک کے دیگر موسمیاتی خطرے سے دوچار علاقوں میں ClimaSynth کو توسیع دینے کی راہ ہموار کرے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے