اسے آتے ہوئے کسی نے نہیں دیکھا۔
نہ اس کے قدموں کی چاپ سنائی دی،
نہ کسی پاسپورٹ پر اس کی مہر لگی،
نہ کوئی بورڈنگ پاس…
پھر بھی وہ آ گیا — ایئرپورٹ کے اس حصے میں جہاں مسافر صرف کچھ ہی گھنٹوں کے لیے ٹھہرتے ہیں،
لیکن وہ… سالوں کے لیے ٹھہر گیا۔
ایک لمبا، دبلا شخص۔
چہرہ ایسا جیسے کوئی پرانی۔
بات کرے تو ماضی کی کسی سرگوشی کا گماں ہو ۔
کبھی اخبار میں چھپے الفاظ کو گھنٹوں گھورتا،
اور کبھی چھت کو۔
نام پوچھو تو کہتا: سر الفریڈ مہران
پاسپورٹ مانگو تو جیبیں الٹ دیتا۔
"کھو گیا ہے…”
اور جب اس کا اصل نام پوچھتے — تو اس کی آنکھیں بدل جاتیں۔
"تم کہاں کے رہنے والے ہو؟”
"کسی جگہ کا نہیں…
یا شاید کسی ایسی ریاست کا جو اب دنیا کے نقشے پر نہیں۔”
وہ بات ختم کر دیتا،
رفتہ رفتہ اس کا وجود شارل ڈی گال ایئرپورٹ ایک حصہ بنتا گیا۔
لوگ کہتے،
وہ اس ایئرپورٹ پر رہ رہا تھا لیکن وہ بے گھر تھا
ریسٹورنٹ والے بچا کھچا کھانا چھوڑنے لگے۔
کریو ممبر چائے کا کپ رکھ جاتے۔
اور وہ سب کچھ خاموشی سے قبول کرتا۔
نہ شکریہ، نہ مطالبہ۔
جیسے یہ سب مقدر میں لکھا ہو۔
کبھی کبھار، کوئی فضول سا مسافر اس سے پوچھ لیتا
"تم یہاں رہتے ہو؟”
تو وہ ہنستا — ہلکی، خالی ہنسی —
اور جواب دیتا:
"یہاں نہیں… میں کہیں بھی نہیں رہتا۔”
پھر ایک دن خبر چلی کہ ہالی ووڈ والے اس کی کہانی پر فلم بنا رہے ہیں، تو سب حیران رہ گئے۔
"یہ شخص؟”
لیکن ہاں —
سٹیون سپیل برگ نے فلم ٹرمینل بنائی جس میں اس بے نام اور بے گھر کا کردار ٹام ہینکس نے ادا کیا۔
اور اسے فلم کے حقوق کے بدلے ڈھائی لاکھ ڈالر ملے۔
لیکن…
پھر بھی وہ وہیں رہا —
اسی بینچ پر،
اسی روزمرہ کے رش بھرے سناٹے میں۔
کوئی پوچھتا:
"اب تو جا سکتے ہو؟”
تو وہ جواب دیتا:
"جانا کہاں ہے؟
وہ کاغذ جو مجھے میرا غلط نام بتاتا ہے،
وہ سچ نہیں۔
میں تو سر الفریڈ ہوں…
ایک ایسا شہری، جس کا ملک صرف اُس کے دماغ میں موجود تھا
اور پھر، وہ رات آئی۔
ایئرپورٹ کی روشنیوں میں سب کچھ ویسا ہی تھا —
جب ٹرانزٹ لاؤنج کے بینچ پر بیٹھے اس بے نام بے گھر شخص نے اخری ہچکی لی
آنکھیں بند…
اور سانس بند۔
کسی نے نوٹس نہ کیا۔
صبح ایک صفائی والا آیا، اس نے اسے بے حس و حرکت پایا
آواز دی۔ ۔
رات کے نہ جانے کون سے پہر اس کی روح اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ چکی تھی
اس کا کوئی ماضی نہ تھا۔
نہ وہ کسی حال میں تھا نہ مستقبل کی کوئی امید تھی
بس ایک خالی شناخت،
ایک بے نام ریاست کا آخری شہری —
مر چکا تھا۔
لوگ حیران تھے: 18 سال ٹرانزٹ لاؤنج میں
کبھی کسی رشتہ دار نے رابطہ نہیں کیا
نہ کوئی عورت اس کی زندگی میں تھی
جیسے اس کا کوئی گھر نہیں تھا کوئی شناخت نہیں تھی ایسے ہی اس کا کوئی اپنا بھی نہیں تھا
18 سال،
بس سائے، دیواریں،
اور ایک غائب شدہ شناخت کا تماشا۔
کیا وہ پاگل تھا؟ کوئی فلسفی تھا؟
ایئرپورٹ کی پرانی سی سی ٹی وی ریکارڈنگز میں، مرنے سے ایک رات پہلے، وہ ہوا سے باتیں کر رہا تھا…
ہم؟ ہر روز اپنا پاسپورٹ لہراتے ہوئے بورڈنگ پاس دکھا کر کسی نہ کسی جہاز میں سوار ہو رہے ہوتے ہیں، کیا کبھی کسی نے سوچا کہ اگر سب کچھ چھن جائے، گم ہو جائے تو ہمیں کوئی نہیں مانے گا
ہم وجود رکھتے ہوئے بھی باقی نہیں رہیں گے
ایک اور مہران بن جائیں گے جو ہوائی جہازوں کی آمد و رفت کے درمیان لاکھوں آتے جاتے لوگوں کے درمیان اپنی شناخت کے بغیر بے نام اور بے گھر بیٹھے رہ جائیں گے۔
ہم جو وجود رکھتے ہیں لیکن کاغذ کے ایک پنے
ایک کاپی کے محتاج ہیں اپنی شناخت کے لیے
جس کے بغیر سب سرحدیں بند ہیں اور سب دروازے مقفل۔
ہم کتنے بے وقعت اور کتنے حقیر ہیں۔