چین نے جہاز کی رفتار سے چلنے والی ٹرین بنا دیا

چین لمحہ موجود میں جس برق رفتاری سے ترقی کے راستے پر گامزن ہے دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ معاشی ترقی ہو یا پھر تجارتی توسیع، سائنس و ٹیکنالوجی کا میدان ہو یا مواصلاتی نظام میں نت نئے اہداف کا حصول، مصنوعی ذہانت میں قوت آزمائی ہو یا دفاعی شعبے میں کمالات کا ظہور چین ہر میدان میں آگے ہے ایسا کہ پیچھے مڑ کر نہیں دیکھتا۔

چین نے ترقی کے یہ معجزے سنجیدہ، مخلص، مضبوط اور بصیرت یافتہ قیادت، سیاسی استحکام اور دنیا کے دوسرے ممالک سے پائدار دوستی، تعاون اور عالمگیر شراکت داری کے اصول پر عمل درآمد ممکن بنا کر دکھائے ہیں۔ حال ہی میں چین نے مواصلاتی نظام میں ایک بہت بڑی کامیابی اپنے نام کر دیا اور وہ یہ کہ اس نے چھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی میگلیو (مقناطیسی لیویٹیشن) ٹرین تیار کی ہے، جو کہ دنیا کی تیز ترین ریل گاڑیوں میں سے ایک ہے۔

یہ ٹرین چھ سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ سکتی ہے۔ بیجینگ سے شنگھائی تک سفر عام تیز رفتار ریل سے ساڑھے پانچ گھنٹے، جبکہ میگلیو ٹرین سے یہ سفر صرف ساڑھے تین گھنٹے میں طے ہوگا۔ اس کی رفتار یورپی یورواسٹار ٹرین سے دگنی ہے، جو لندن سے پیرس کا فاصلہ انچاس منٹ میں طے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

میگلیو ٹرین مقناطیسی لیویٹیشن ٹیکنالوجی استعمال کرتی ہے، جس میں ٹرین مقناطیس کی مدد سے ٹریک کے اوپر ہوا میں معلق ہوکر سفر کرتی ہے۔ اس طرح رگڑ کم ہونے سے رفتار بڑھ جاتی ہے اور توانائی کی بچت بھی ہوتی ہے۔

ٹرین کا پروٹو ٹائپ چین کے شانڈونگ صوبے کے شہر چنگ ڈاؤ میں تیار کیا گیا ہے اور اسے چائنا ریلوے رولنگ اسٹاک کارپوریشن (سی آر آر سی) نے بنایا ہے۔ دو ہزار اکیس میں تجارتی پیداوار شروع ہونے کی توقع تھی، لیکن اب تک اس کے وسیع پیمانے پر تعیناتی کے لیے مزید ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔

چین کی یہ ٹرین جاپان کی میگلیو ٹرین (جو چھ سو تین کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار تک پہنچ چکی ہے) کے ساتھ مقابلے میں ہے۔ فی الحال، چین میں صرف ایک میگلیو لائن عملی طور پر استعمال ہو رہی ہے، جو شنگھائی کے ہوائی اڈے کو شہر سے جوڑتی ہے اور چار سو تیس کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے۔

چین 2030 تک 600 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والی میگلیو ٹرینوں کو بیجنگ-شنگھائی جیسے اہم راستوں پر تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، چین فائیو جی نیٹ ورک سے لیس ہائپر لوپ ٹرینوں پر بھی کام کر رہا ہے، جو مسافروں کو انتہائی تیز انٹرنیٹ کنکشن مہیا کرے گی. آئیے چینی میڈیا کے آئینے میں مزکورہ ٹرین سے متعلق شائع ہونے والے تفصیلات دیکھتے ہیں۔

چینی اخبار "دی پرنٹ” کے مطابق اس میگلیو ٹرین کو چائنا ریلوے رولنگ سٹاک کارپوریشن (سی آر آر سی) نے تیار کیا ہے۔ ٹرین ایک سلیک، ایروڈائنامک شکل کی ہے جس کی نوکیلی ناک ہے تاکہ ہوا کی رکاوٹ کو کم کیا جا سکے۔ اس طرح سرکاری نشریاتی ادارے سے جاری ویڈیو میں مستقبل کی اس ٹرین کے اندرونی حصے کو دکھایا گيا ہے جس میں ایک بڑی ویڈیو سکرین نظر آتی ہے۔

ٹرین کی رونمائی کے موقع پر اس کمپنی کے نمائندوں نے بتایا کہ انجینئرنگ کا پہلا مرحلہ گذشتہ سال جولائی میں مکمل ہوا تھا۔ ٹرین کے کمرشل سروس میں جانے سے پہلے مزید روٹ، سیفٹی ٹیسٹ اور انجینئرنگ کے مختلف پہلوؤں سے قابل عمل ہونے کے جائزے لیے جائیں گے۔

شنگھائی میں واقع نیوز ویب سائٹ "دی پیپر” کے مطابق یہ ٹرین موجودہ ریلوے نیٹ ورک میں بڑے شہروں کے درمیان "ایک مرکز سے دوسرے مرکز تک رابطے” کے طور پر کام کرے گی۔ مثال کے طور پر ابھی بیجنگ سے شنگھائی کے درمیان کا 1200 کلومیٹر کا فاصلہ ساڑھے پانچ گھنٹے میں طے کیا جاتا ہے، جو اس نئی ٹرین کے متعارف ہونے کے بعد صرف ڈھائی گھنٹے میں طے کیا جا سکے گا۔

ٹرین کی خالق کمپنی سی آر آر سی کے سینیئر انجینئر شاو نن کا کہنا ہے کہ "سپر کنڈکٹنگ الیکٹرک ہائی سپیڈ مقناطیسی لیویٹیشن ٹیکنالوجی زیادہ ماحول دوست ٹرانسپورٹ ہے اور اس سے ایندھن کی بچت میں بھی کامیابی ملی گی۔ اس کے علاوہ طویل مدتی لحاظ سے اس کی دیکھ بھال کا خرچ بھی کافی کم ہے”۔

مقناطیسی لیویٹیشن سُپر کنڈکٹنگ مقناطیس ریل اور ٹریک کے درمیان برقی مقناطیسی انڈکشن کا استعمال کرتا ہے، جس سے ٹرین پٹریوں سے اوپر اٹھ کر چل سکتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے ٹرین میں نصب ربڑ کے پہیے اسے اڑائے لیے جا رہے ہیں۔

"ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ” کی ایک رپورٹ کے مطابق شاؤ نے بتایا کہ "ففتھ جنریشن نیٹ ورک کمیونیکیشن، مصنوعی ذہانت کے ذریعے ویڈیو بنانے کی صلاحیت اور ایکوسٹک سینسنگ کے انضمام جیسی مختلف ٹیکنالوجیوں کی وجہ سے یہ نئی ٹرین مکمل طور پر خودکار ڈرائیونگ کی صلاحیتوں سے لیس ہے”۔

اس سے قبل 20 اکتوبر 2022 کی سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیلی کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ "چینی انجینیئروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے ایک ایسا تجرباتی نظام تیار کیا ہے جس میں کسی ٹیوب کے اندر ایک ٹرین کی رفتار کو فی گھنٹہ 1000 کلومیٹر تک بڑھایا جا سکتا ہے جو کہ موجودہ میگلیو ٹرین سے بھی کہیں زیادہ تیز ہوگی”۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک ایسی ٹرین بنا رہے ہیں جو زمین پر ہی اڑ رہی ہوگی اور اس کی رفتار طیارے کی رفتار کے برابر ہوگی۔

تاریخ میں تیز رفتار ٹرین بنانے کا سہرا جاپان کے سر ہے۔ سب سے پہلے یعنی 1964 میں جاپان نے ہائی سپیڈ ٹرین (ایچ ایس آر) چلائی تھی جس کو عرفِ عام میں "بلٹ ٹرین” کہا گیا اور یہ ٹوکیو سے اوساکا کے درمیان چلی تھی۔ اس کے بعد 1977 میں اٹلی میں ایسی ہی ہائی سپید ٹرین متعارف کروائی گئی۔ پھر کیا تھا دیکھتے ہیں دیکھتے فرانس، جرمنی، سپین، برطانیہ، جنوبی کوریا اور تائیوان میں بھی ہائی سپیڈ ٹرینیں نظر آئیں۔

چین کی یہ میگلیو ٹرین نہ صرف رفتار میں انقلاب لائے گی بلکہ یہ ہوائی سفر کے متبادل کے طور پر بھی کام کرے گی، جس سے وقت اور توانائی دونوں کی بچت ہوگی۔ اس ٹیکنالوجی کی کامیابی چین کو عالمی ریل ٹیکنالوجی کے میدان میں ایک اہم کھلاڑی بنا دے گی۔ چین میں اس بات کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہے کہ دنیا اس کو ایک دوست، استاد یا شراکت دار کے طور پر لیں۔ چین ملکی یا علاقائی ترقی کا نہیں بلکہ بین الاقوامی ترقی کا علمبردار ہے۔ "مشترکہ مستقبل” چین کا بنیادی وژن ہے۔ دنیا میں جس ملک نے اس حقیقت کو سمجھا اور چین کا ساتھ دینے لگا تو وہ کامیاب ہوگا اور جو گومگو میں پڑا وہ پیچھے رہ جائے گا۔

پاکستان کی خوش قسمتی ہے کہ چین اس کا سدا بہار دوست بھی ہے اور قریب ترین پڑوسی بھی یوں پاکستان زیادہ بہتر انداز میں چین سے مستفید ہو سکتا ہے لیکن اس کے لیے سیاسی استحکام، امن و امان کا قیام اور طے شدہ پراجیکٹس پر مکمل یکسوئی سے توجہ مبذول کرانا ہوگا ورنہ اکیسویں صدی میں پہنچ کر اور چین کے قریب ترین پڑوسی اور ہونے کے باوجود ہم ترقی کے حصول میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے