آج کے نوجوان جو جوانی کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں اور مستقبل کے حوالے سے فکرمند ہیں کہ انہیں کس ہنر پر توجہ دینی چاہیے، تو انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آج سے محض پانچ سال بعد پاکستان میں سب سے زیادہ مانگ سبز توانائی (Green Energy) کی ہوگی۔ اس سے جڑی ایک بڑی انڈسٹری تشکیل پائے گی، جس میں اگر آپ آج کسی ایک شعبے پر مہارت حاصل کرلیں، تو مستقبل میں آپ کی کامیابی یقینی ہے۔
میری یہ پیش گوئی کسی خیالی تصور پر مبنی نہیں، بلکہ حالیہ حکومتی پالیسیوں، سرمایہ کاری کے عالمی رجحانات اور عالمی منڈی کی ضروریات پر گہری نظر کے بعد کی گئی ہے۔ 2030 کے بعد پاکستان میں سب سے منافع بخش اور تیزی سے ترقی کرنے والا کاروبار سبز توانائی اور برقی موبیلیٹی (Renewable Energy & e-Mobility Value Chain) ہوگا۔ اس میں شمسی توانائی، بیٹری اسٹوریج، برقی گاڑیوں (خصوصاً موٹر سائیکل اور رکشے) کی مقامی تیاری، فنانسنگ اور چارجنگ نیٹ ورکس جیسے شعبے شامل ہیں۔
یہ شعبہ کیوں سب سے آگے ہوگا؟ اس کی متعدد وجوہات ہیں۔ سب سے پہلے، قومی سطح پر حکومت کی یہ حکمتِ عملی ہے کہ 2030 تک ملک میں بجلی کا 60 فیصد حصہ قابلِ تجدید ذرائع (Renewables) سے حاصل کیا جائے گا، اور نئی گاڑیوں کا 30 فیصد حصہ برقی ہوگا۔ اس کے علاوہ حکومت نے درآمدی ڈیوٹی میں کمی، سبسڈی اسکیمیں، اور 100 ارب روپے کا ای وی فنڈ متعارف کروا کر اس شعبے کو نئی سمت عطا کی ہے۔ دوسری طرف، سولر ماڈیولز کی درآمد میں پچھلے برسوں کی نسبت پانچ گنا اضافہ ہوا ہے، اور شہروں میں فیول کی قیمتوں اور فضائی آلودگی میں اضافے نے شہریوں کو برقی گاڑیوں کی جانب متوجہ کیا ہے۔
ورلڈ بینک کی جانب سے 20 بلین ڈالر کے تعاون سے جاری CPF پروگرام، سی پیک کا دوسرا مرحلہ، اور اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے قائم کیے جانے والے گرین انڈسٹریل زونز اس بات کی دلیل ہیں کہ اس شعبے میں سرمایہ کاری کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ لی آئن بیٹریز کی قیمتوں میں واضح کمی اور نیٹ میٹرنگ جیسے ماڈلز کی بدولت اب شمسی توانائی کے نظام گھریلو اور کاروباری طبقے کے لیے مزید قابلِ حصول ہو چکے ہیں، جن کا واپسی کا عرصہ محض 3 سے 5 سال رہ گیا ہے۔
مزید برآں، اگر ہم مقامی صنعت کے تیار کردہ سولر پینلز، بیٹری پیک، اور الیکٹرک گاڑیوں کے پرزہ جات کو سی پیک لاجسٹک روٹس کے ذریعے برآمد کریں، تو ہمیں جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ کی بڑی منڈیوں میں قدم جمانے کا موقع مل سکتا ہے۔
عملی طور پر کئی کاروباری ماڈلز نوجوانوں کے لیے بہترین مواقع پیش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، ”رووف ٹاپ سولر + اسٹوریج ESCO“ ماڈل کے تحت آپ شمسی توانائی کے نظام نصب کر کے صارفین کو بجلی بطور خدمت فراہم کر سکتے ہیں، جس میں وہ صرف استعمال شدہ یونٹ کا بل ادا کرتے ہیں۔
اسی طرح، چینی سیلز درآمد کر کے مقامی سطح پر بیٹری پیک تیار کرنے، اور برقی گاڑیوں کی فوری بیٹری سویپنگ جیسی خدمات فراہم کرنے سے نہ صرف مقامی ضرورت پوری کی جا سکتی ہے بلکہ ملازمتوں کے بھی نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ اس کے علاوہ برقی موٹر سائیکلوں کی تیاری میں پاور ٹرین، موٹر کنٹرولرز اور IOT ٹریکنگ جیسے اجزاء شامل کر کے معیاری اور کم خرچ مصنوعات تیار کی جا سکتی ہیں۔ اسپیشل اکنامک زونز میں ”گرین حبز“ قائم کیے جائیں، جہاں صنعتوں کو شمسی، ونڈ، اور بیٹری اسٹوریج کے ذریعے 24/7 بجلی مہیا کی جا سکے، تو یہ علاقائی ترقی اور برآمدات کا نیا باب کھول سکتا ہے۔
اس میدان میں مسابقتی برتری حاصل کرنے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، فِن ٹیک کے ساتھ انضمام کی اشد ضرورت ہے، جس کے ذریعے سستی قسطوں پر فنانسنگ، موبائل والٹ بلنگ اور شریعت کے مطابق لیزنگ سروسز فراہم کی جا سکیں۔ اسٹیٹ بینک کے ڈیجیٹل بینکنگ وژن کو بروئے کار لاتے ہوئے یہ سہولت ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، مقامی سپلائی چین کو فروغ دینا بھی نہایت ضروری ہے۔ کاپر اور لیتھیم کی ری سائیکلنگ، سولر گلاس کی مقامی تیاری، اور PCSIR جیسے تحقیقی اداروں کی مدد سے بیٹری کی مقامی تحقیق و ترقی (R&D) کے ذریعے ہم درآمدی انحصار کم کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، آفٹر سیلز سروس کا مؤثر نیٹ ورک قائم کیا جائے، جو آن سائٹ سروس اور وارنٹی کلیمز کی فوری تکمیل کو یقینی بنائے۔ اور سب سے بڑھ کر، گرین سرٹیفیکیشن کا حصول آپ کو نہ صرف مقامی سطح پر سبقت دے گا، بلکہ عالمی منڈی میں سستے گرین بانڈز اور کاربن کریڈٹس کی برآمد کے مواقع بھی میسر آئیں گے۔
اگرچہ سبز توانائی اور برقی نقل و حمل کا شعبہ مستقبل میں مرکزی حیثیت اختیار کرے گا، تاہم چند دیگر ابھرتے ہوئے شعبے بھی اپنی جگہ خاص اہمیت کے حامل ہیں۔ جیسے کہ ڈیجیٹل خدمات اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا شعبہ، جو آنے والے سالوں میں پاکستان کی IT ایکسپورٹ کو 15 سے 20 فیصد سالانہ ترقی دے سکتا ہے، اور AI سے حاصل ہونے والی آمدنی 10 سے 20 بلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اسی طرح ایگری ٹیک اور ورٹیکل فارمنگ جیسے ماڈلز، خاص طور پر چاول و کپاس کی پیداوار میں IoT اور ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال، پاکستان کو خوراک کی سلامتی اور زرعی برآمدات میں مدد دے سکتے ہیں۔ فارماسیوٹیکل اور بایوٹیکنالوجی کا شعبہ بھی متحرک ہے، جہاں API کی مقامی تیاری، حلال فارما مصنوعات، اور ویکسین کی تیاری سے نہ صرف درآمدات پر انحصار کم ہو گا بلکہ 5 بلین ڈالر تک کی برآمدات ممکن ہو سکیں گی۔ آخر میں، لازمی لاجسٹکس اور کوئیک کامرس جیسے ماڈلز، جہاں 30 منٹ میں آرڈر کی ترسیل کا ہدف ہو، مستقبل کی ای کامرس معیشت میں مرکزی کردار ادا کریں گے۔
یقیناً یہ تمام شعبے مستقبل میں مضبوط رہیں گے، مگر گرین انرجی + برقی موبیلیٹی سب سے جامع اور پائیدار ”ٹریلین روپے“ کا ایکو سسٹم تشکیل دے گا، جس میں توانائی، ٹرانسپورٹ، مینوفیکچرنگ، فنانسنگ اور ڈیجیٹل سروسز جیسے تمام بڑے شعبے ایک دوسرے سے جُڑ جائیں گے۔ اگر آپ ابھی سے R&D، ٹیلنٹ، اور پارٹنرشپ میں سرمایہ کاری شروع کر دیں تو 2030 کے بعد کا سماجی و مالی فائدہ یقینی طور پر آپ ہی کو حاصل ہوگا۔