نیشنل انسٹیٹیوٹ آف میری ٹائم افیئرز (NIMA) نے ٹیم بلوچستان کے اشتراک سے ” بحری معشیت: مسائل اور مواقع” کے موضوع پر چار روزہ تربیتی نشست کا انعقاد بحریہ یونیورسٹی کراچی کے فاطمہ جناح ہال میں کیا۔ اس نشست کا مقصد پاکستان کی بحری معیشت کو درپیش مسائل، مواقع، قانونی پہلوؤں اور خطے میں اس کے تزویراتی کردار کو اجاگر کرنا ہے۔
تقریب کے مہمانِ خصوصی چین کے قونصل جنرل جناب یان یونڈونگ تھے، جنہوں نے پاک چین تعاون، بالخصوص پاک چین اقتصادی راہ داری کے تحت بحری معیشیت کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور دو طرفہ بحری تجارت کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔
تربیتی نشست کا آغاز کموڈور (ریٹائرڈ) محمد مسعود اکرم SI(M) S Bt.، ڈائریکٹر NIMA کراچی کی جانب سے ادارے کا تعارف اور "پاکستان کی نیلی معیشت کی صلاحیت” کے موضوع پر اظہار خیال کیا ، جس میں انہوں نے پاکستان کے سمندری وسائل، قوانینی رکاوٹوں اور ترقی کے ممکنہ راستوں پر روشنی ڈالی۔
ایڈمرل (ریٹائرڈ) احمد سعید HI(M)، صدر NIMA نے افتتاحی خطاب میں کہا کہ بحری شعبے میں تحقیق، قوانین سازی اور پائیدار ترقی کے ذریعے پاکستان اپنی معیشت کو مضبوط بنا سکتا ہے۔ انہوں نے سمندری حکمرانی کو مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
تربیتی نشست کے پہلے دن درج ذیل ممتاز مقررین نے خطاب کیا:
* کموڈور (ریٹائرڈ) عرفان تاج SI(M) نے "یو این مارپول کنونشنز اور ان کے بحری تجارت پر اثرات” کے عنوان سے گفتگو کی اور ماحولیاتی تقاضوں اور قانونی ضوابط پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔
* ڈاکٹر حسن داؤد بٹ، ایسوسی ایٹ پروفیسر بحریہ یونیورسٹی ، نے *”بندرگاہوں اور ہاربرز کی اہمیت – علاقائی رابطہ، تجارتی راہداریوں اور بندرگاہوں کی قومی معیشت پر اثرات” پر لیکچر دیا، جس میں گوادر اور سی پیک کے تناظر میں پاکستان کے تجارتی امکانات کا جائزہ پیش کیا۔
ڈاکٹر ثمینہ قدوائی، ایسوسی ایٹ پروفیسر بحریہ یونیورسٹی کراچی، نے "ماحولیاتی تینہری بحران: موسمیاتی تبدیلی، آلودگی اور حیاتیاتی تنوع میں کمی – بحری حیات پر اثرات” پر سیر حاصل گفتگو کی اور سمندری ماحولیاتی نظام کے درپیش خطرات کو اجاگر کیا۔
پہلے دن کا اختتام شرکاء کے درمیان باہمی روابط کے فروغ کے ساتھ ہوا۔ تربیتی نشست کے اس کامیاب آغاز سے آئندہ دنوں کے سماعت کے لیے مثبت توقعات وابستہ ہو گئی ہیں، جن میں بلوچستان کے ساحلی ترقیاتی امکانات، خطے میں انضمام اور پاکستان کی نیلی معشیت کو فروغ دینے کے موضوعات زیرِ بحث آئیں گے۔