ڈیجیٹل دنیا کے پیچھے کیا ہو رہا ہے
آج میری نظر سے ایک ویڈیو گزری ۔ جس میں بتایا گیا کہ یو ٹیوب مونا ٹائزیشن کے لیے ہزاروں گھنٹوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔ ظاہر ہے ان ہزاروں گھنٹوں کے لیے سینکڑوں ویڈیوز بنانی پڑتی ہیں۔ اور یہ ہزاروں، لاکھوں ویڈیوز جن ڈیٹا سرورز پر محفوظ ہوتی ہیں۔ ۔ ایک اندازے کے مطابق ایک ڈیٹا سنٹر کا سائز تیس سے ستر فٹبال گراؤنڈز کے برابر ہوتا ہے۔ ان کے لیے کافی توانائی، یعنی، بجلی، پانی اور زمین درکار ہوتی ہے۔ اتنے بڑے ڈیٹا سنٹر ماحولیات پر بری طرح اثرانداز ہوتے ہیں۔ کلائمنٹ ایکشن ”اقوام متحدہ کے عالمی اہداف” میں سے ایک ہے۔ اور دنیا میں موسمیاتی تبدیلی پر اثر انداز ہونے والی صنعت میں ڈیٹا سنٹرز بھی شامل ہیں۔
کیا ہماری ڈیجیٹل دنیا زمینی وسائل پر اثرانداز ہو رہی ہے
گوگل پر ہی تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان بڑے بڑے ڈیٹا سنٹر میں لاکھوں کمپیوٹرزاور سرورز ہیں جو بغیر کسی بریک کےدن رات چلتے ہیں۔ اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کے لیے بےتحاشا پانی استعمال ہوتا ہے۔ صرف گوگل کا آئیووا میں موجود ایک ڈیٹا سینٹر ہر سال 1.3 ارب گیلن پانی استعمال کرتا ہے! یعنی اتنا پانی کہ 28 ہزار گھر اپنی سال بھر کی ضروریات پوری کر سکتے۔ یہ ایک ایسا انکشاف تھا جس نے مجھے ویڈیوز کو سٹاپ کرنے پر مجبور کر دیا۔ کیونکہ ان ویڈیوز کے پیچھے لاکھوں لیٹر پانی بخارات میں بدل رہا تھا ۔ صرف اس لیے کہ کمپیوٹرز گرم نہ ہو جائیں۔
بجلی جو نظر نہیں آتی، مگر ختم ہو رہی ہے
مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ 2022 میں دنیا بھر کے ڈیٹا سینٹرز نے 460 ٹیرا واٹ آور بجلی استعمال کی- سادہ الفاظ میں اتنی بجلی سے پورے فرانس کے لیے ایک سال میں درکار ہوتی ہے۔ یعنی جب ہم صرف ایک فلم اسٹریم کرتے ہیں، تو 150 سے 1000 گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں شامل ہو جاتی ہے، اور 12 لیٹر تک پانی صرف کولنگ میں خرچ ہو سکتا ہے۔ مجھے ایسا لگا جیسے میرے ہاتھوں میں پکڑا موبائل فون، زمین کی سانسیں سست کر رہا ہو۔
وہ علاقے جہاں پیاس ہے، اور ہم ٹھنڈک مانگ رہے ہیں
یہ ڈیٹا سینٹرز کئی وجوہات کی بنیاد پر ان جگہوں پر بنائے جا رہے ہیں جہاں پہلے ہی پانی کی قلت ہے ، ان ممالک میں برازیل، ایریزونا، مشرق وسطیٰ۔ یعنی جہاں پہلے ہی پانی کی شدید کمی ہے ، وہاں کمپیوٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے پانی نچوڑا جا رہا ہے۔ ان وجوہات میں، سستی زمین، محدود ٹیکس اور سبسڈیز شامل ہیں۔
اگرچہ یہ ڈیٹا سنٹرز ایسے علاقوں میں اس لیے بنائے جا رہے ہیں تا کہ وہاں شمسی توانائی یا ونڈ سے بجلی پیدا کی جا سکے۔ اور رینیو ایبل انرجی کی وجہ سے ڈیٹا سنٹرز کم گرم ہوں گے۔ جب کہ راتیں ٹھنڈی ہونے کا بھی فائدہ ہوگا۔ اور ایسے علاقوں میں نمی بھی کم ہوتی ہے – لیکن قابل غور بات یہ ہے کہ ان پر جو پانی خرچ ہو گا وہ ایسے ریسورسز سے خرچ ہو گا ۔ جو انسانی ضرورت کے لیے بھی ناکافی ہیں۔
عالمی ادارے کیا کہتے ہیں ؟
گوگل کے ڈیٹا سینٹرز کے پانی کے استعمال پر NASUCA (National Association of State Utility Consumer Advocates) کی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ آئیووا کے ڈیٹا سینٹر نے سالانہ 1.3 ارب گیلن پانی استعمال کیا۔ ICEF (Innovation for Cool Earth Forum) اسی طرح ایک اور تحقیق کے مطابق 2022 میں دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز نے 292 ملین گیلن روزانہ پانی استعمال کیا، جو 2027 تک کئی گنا بڑھنے کا امکان ہے۔ بجلی کے حوالے سے International Energy Agency (IEA) کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ڈیٹا سینٹرز نے 2022 میں 460 TWh بجلی استعمال کی، اور یہ مقدار 2026 تک 1000 TWh تک پہنچ سکتی ہے
EESI کی رپورٹ میں Water Usage Effectiveness (WUE) اور Power Usage Effectiveness (PUE) جیسے معیارات کو وضاحت سے بیان کیا گیا ہے، جو ڈیٹا سینٹرز کی کارکردگی جانچنے میں مدد دیتے ہیں۔ ان حوالوں کی بنیاد پر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال ماحولیاتی وسائل پر براہ راست اثر ڈال رہا ہے۔
کمپنیاں کیا کر رہی ہیں؟
گوگل، مائیکروسافٹ، اوپن اے آئی جیسے ادارے وعدہ کرتے ہیں کہ 2030 تک وہ "واٹر پازیٹیو” ہو جائیں گے یعنی جتنا پانی لیں گے، اتنا واپس بھی دیں گے۔ اقوامِ متحدہ کے رہنما اصول برائے کاروبار اور انسانی حقوق کے مطابق ان کمپنیوں کے لیے ضرور ہے کہ اپنی سرگرمیوں کے ذریعے انسانی حقوق پر منفی اثرات ڈالنے سے گریز کریں، اور اگر ایسے اثرات پیدا ہوں تو ان کا ازالہ کریں
ایسی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے یا ان کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش کریں جو ان کی کاروباری سرگرمیوں، مصنوعات یا خدمات سے براہِ راست جڑی ہوئی ہوں .چاہے وہ خود ان اثرات کے ذمہ دار نہ بھی ہوں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ عالمی کمپنیوں کے وعدے ہیں یا ان پر عمل درآمد بھی ہوگا
ہم کیا کر سکتے ہیں؟
ایسا نہیں کہ ہم یہ سارا بوجھ ان کمپنیوں پر ڈال کر بے غم ہو جائیں۔ ہم اس سارے معاملے میں اپنا کردار ادا کر سکتے ہیں
• ہر بار یوٹیوب یا نیٹ فلکس پر ویڈیو دیکھنے سے پہلے سوچوں: کیا یہ واقعی ضروری ہے؟
• چیٹ جی پی ٹی سے بار بار ایسے سوالات نہ کروں جو تفریح کی بجائے سنجیدہ استعمال میں آ سکتے ہیں۔
• ویڈیو کو HD کے بجائے SD یا Low Quality میں دیکھوں — فرق شاید آنکھ کو نہ لگے، مگر زمین کو ضرور لگے گا۔
• ان کمپنیوں کو سپورٹ کریں جو ماحول دوست منصوبوں میں سنجیدہ ہیں۔
اس بلاگ کو پڑھنے کے بعد اپنے موبائل کو سائیڈ پر رکھیں۔ ایک کتاب کھولیں اور چائے اور بارش انجوائے کرتے ہوئے خود سے یہ سوال کریں.
کیا آنے والی نسلیں بھی اس بارش کو دیکھ سکیں گی؟ یا ہم نے انہیں صرف اسکرین اور ڈیٹا بیچ رہے ہیں؟