جب ہمارا کوئی اپنا، کوئی پیارا اپنے گھر سے، اپنے وطن سے دور انتقال کر جاتا ہے، تو ہماری پہلی اور آخری خواہش یہی ہوتی ہے کہ میت کو واپس وطن لایا جائے۔
اس کا آخری دیدار کر لیا جائے۔
اسے اپنے آبائی قبرستان میں، اپنے والدین کے پہلو میں دفن کیا جائے بس، کسی طرح وہ وطن واپس آ جائے۔
اور پھر ہم لگ جاتے ہیں قانونی اور کاغذی کارروائیوں میں، تاکہ میت کو واپس لایا جا سکے۔
لیکن یہ کارروائی صرف قانونی یا کاغذی نہیں ہوتی۔
اس کارروائی میں اس میت کے ساتھ جو کچھ کیا جاتا ہے، وہ شاید کبھی کسی نے سوچا ہی نہیں۔
جب آپ کہتے ہیں، "میت کو واپس لے کر آنا ہے”، تو ہوائی جہاز میں میت ایسے نہیں آتی جیسے وہ سو رہی ہو۔
اس سے پہلے لاش کے ساتھ جو کچھ ہوتا ہے، وہ لمحہ بہ لمحہ، ایک سوچی سمجھی، خاموش اور منظم اذیت ہوتی ہے۔
ایسی اذیت جس پر میت نہ بول سکتی ہے، نہ کراہ سکتی ہے بس سہتی ہے۔
سب سے پہلے، لاش کو برہنہ کر کے ایک پتھر جیسے اسٹیل کے ٹیبل پر ڈال دیا جاتا ہے۔
پھر اس کے جسم کو جراثیم کش پانی اور صابن سے دھویا جاتا ہے بغیر کسی لحاظ، حیا یا احساس کے، بس کسی بے جان شے کی طرح۔
آنکھوں کو بند رکھنے کے لیے ان میں پلاسٹک کے سخت ٹکڑے ٹھونس دیے جاتے ہیں۔
منہ کو بند کرنے کے لیے یا تو دھاگے سے سی دیا جاتا ہے، یا ایک نوک دار دھات کی تار جبڑے سے گزار کر سر کے اندر لپیٹ دی جاتی ہے۔
چہرہ… وہ چہرہ جسے آپ آخری بار دیکھنا چاہتے ہیں، اُسے "تیار” کیا جاتا ہے جیسے کوئی پلاسٹک کی گڑیا بنائی جا رہی ہو۔
پھر جسم کو مختلف مقامات سے چیرنے کا عمل شروع ہوتا ہے۔
گردن کے پاس یا ران کے اوپر ایک لمبا چیرا دیا جاتا ہے۔
اندر کی نازک نالیوں کو باہر نکالا جاتا ہے پھر ایک طرف سے لاش میں کیمیکل دھکیلا جاتا ہے، اور دوسری طرف سے خون بہنا شروع ہو جاتا ہے…
بالکل ویسے، جیسے کوئی پانی نالی میں بہا رہا ہو۔
جو کیمیکل جسم میں پمپ کیا جاتا ہے، وہ مردہ جانوروں کو محفوظ کرنے والا زہر ہوتا ہے فارملڈیہائیڈ، میتھانول، رنگ اور دیگر زہریلے سیال۔
یہ سب زبردستی پورے جسم میں اتارا جاتا ہے، یہاں تک کہ وہ جسم جو مر چکا ہوتا ہے، اب اندر سے مکمل طور پر مصنوعی ہو جاتا ہے۔
لیکن یہ سب ابھی کافی نہیں ہے۔
ابھی میت کے مقدر میں مزید اذیت باقی ہے۔
اب ایک لمبا، نوک دار چاقو نما آلہ لیا جاتا ہے جسے Trocar کہتے ہیں۔
اسے ناف کے پاس پیٹ میں گھسا دیا جاتا ہے۔
ہڈیوں، گوشت اور اعضاء کو چیرتا ہوا یہ اندر تک جاتا ہے۔
پھر پھیپھڑوں، جگر، معدے اور آنتوں سے گیس اور سڑا ہوا پانی نکالا جاتا ہے وہ سب کچھ جو عام تدفین میں خود ہی مٹی میں گھل جاتا ہے، یہاں باہر نکال لیا جاتا ہے۔
اس عمل کے بعد وہی آلہ دوبارہ میت کے پیٹ میں داخل کر کے ایک گاڑھا، زہریلا کیمیکل اندر ڈالا جاتا ہے — تاکہ نہ کوئی بدبو آئے، نہ کوئی عضو پھولے۔
اب مردہ جسم، جس میں کبھی زندگی تھی، ایک کیمیکلز سے بھرا ہوا بند کنستر بن چکا ہوتا ہے۔
پھر لاش کے چہرے کو سنوارنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہونٹوں میں سوئیاں ماری جاتی ہیں تاکہ وہ زندہ جیسے لگیں، گالوں میں مائع بھر دیا جاتا ہے تاکہ وہ اندر کو دھنسے ہوئے نہ لگیں۔
جہاں کوئی زخم ہو، وہاں روئی یا ویکس ٹھونسی جاتی ہے۔
بال سنوارے جاتے ہیں، ناخن کاٹے جاتے ہیں — جیسے کسی مردہ جسم کی تصویر بنانے کی تیاری ہو رہی ہو۔
آخر میں، اس "محفوظ” لاش کو ایک پلاسٹک شیٹ میں لپیٹا جاتا ہے، تاکہ اس میں سے کچھ رس نہ جائے۔
پھر اسے ایک خاص قسم کے تابوت میں بند کیا جاتا ہے جسے باہر سے ایئرٹائٹ کر دیا جاتا ہے۔
اس تابوت کو اب کبھی کھولا نہیں جا سکتا۔
وہ لاش، جسے آپ واپس لانے کے خواہشمند تھے، اب ایک بند ڈبہ ہے اندر ایک ایسا جسم، جسے ہم نے اپنی آنکھوں کے سامنے مصنوعی، سرد، اور زہریلا بنا دیا۔
اب بتائیے
کیا مرنے والا انسان یہ سب چاہے گا؟
کیا ہم صرف اپنی "تسلی” کے لیے اُس لاش کے ساتھ یہ سب کچھ کرنے کا حق رکھتے ہیں؟
قرآن کہتا ہے:
"اور ہم نے بنی آدم کو عزت دی…” (سورۃ الاسراء: 70)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"میت کی ہڈی توڑنا ایسا ہی ہے جیسے زندہ کی ہڈی توڑنا” (ابن ماجہ)
تو کیا لاش کو چیرا لگانا، کاٹنا، اس کے اندر انواع و اقسام کے کیمیکلز بھر دینا… کیا یہ عزت ہے؟
اگر میت کسی اور ملک میں فوت ہو گئی ہو…
کیا وہیں دفن کرنے میں کوئی شرعی یا اخلاقی رکاوٹ ہے؟
کیا اپنے جذبات کی تسکین کے لیے ہم ایک لاش کو چیر پھاڑ کر، پلاسٹک میں بند کر کے، کیمیکل سے بھر کے، طیارے میں لے آئیں . کیا یہی ہماری محبت ہے؟
دنیا کے دکھاوے کے لیے .ایک مصنوعی اور فضول ضد .جو کسی کے جسم پر گھنٹوں کا اذیت ناک عمل بن جاتی ہے۔
صرف اس لیے کہ "دیدار کرنا ہے” یا "قبر والدین کے ساتھ ہونی چاہیے”۔
لیکن ذرا تصور کیجئے…
ہماری ایک جذباتی ضد کی قیمت وہ میت اذیت، دردناک عمل اور چیر پھاڑ سے ادا کرتی ہے۔