سٹیفن ہاکینگ: اللہ کے سربستہ رازوں میں سے ایک راز

14 مارچ 2018ء کو دنیائے سائنس کے ایک چمکتے دمکتے ستارے، سٹیفن ہاکینگ نے بظاہر، ایک خزاں رسیدہ لیکن حقیقت میں عزم و ہمت اور تلاش و جستجو کی حامل ایک بھرپور اور انتھک زندگی کے 76 بہاریں گزار کر موت کی آغوش میں جا سوئے۔ وہ بے حد دلچسپ اور منفرد انسان تھا وہ زندگی بھر حقائق کی "حقائق” تلاش کرتے رہے کچھ چیزیں ملی اور کچھ کے بارے میں سرگرداں دنیا سے رخصت ہوگئے۔

سٹیفن ہاکینگ 8 جنوری 1942ء کو مشہور زمانہ برطانوی مقام آکسفورڈ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ21 برس کی عمر میں ایک اعصابی بیماری کا شکار ہو کر مکمل طور پر معذور ہوگئے تھے، وہ 54 برس تک وئیل چئیر پر ایک بے جان ڈھانچے کی طرح پڑے رہیں۔ ان کے علاج پر مامور ڈاکٹروں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ "سٹیفن زیادہ سے زیادہ دو چار برس تک ہی جی سکے گا”۔

لیکن اس ڈھانچہ نماء انسان کے ساتھ قدرت کا معاملہ علمی، دماغی اور حیاتیاتی اعتبار سے عجیب ترین تھا۔ وہ قدرت کے خزانے سے ذہانت، ہمت، علم، جستجو، ادراک، مستقل مزاجی اور بلند حوصلہ ایسی جوہری خوبیاں وافر مقدار میں پائے تھے، وہ الہیات، طبیعات، کائنات اور وقت کے اندر موجود حقائق اور رازوں کی کھوج میں زندگی بھر سرگرداں رہیں، وہ ایک مفلوج جسم کے اندر ایک توانا روح، بلند حوصلہ، متلاشی رجحان اور تیز ذہن رکھتے تھے۔ عالمگیر شہرت کے حامل دو یونیورسیٹیوں میں سے ایک یعنی آکسفورڈ میں پڑھتے رہیں جبکہ دوسری یعنی کیمرج میں پڑھاتے رہیں۔ 1966ء میں انہوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے علم کائنات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لی، بعد میں تقریباً 30 برس تک کیمرج یونیورسٹی میں ریاضی کے پروفیسر رہیں۔

بلاشبہ وہ عصر حاضر کا ایک بہت بڑا سائنسدان تھا۔ انہوں نے کائنات، ریاضیات اور وقت کو اپنی توجہ اور محنت کا محور بنایا۔ وقت کے موضوع پر ان کی کتاب "آ بریف ہسٹری آف ٹائم” عالمگیر شہرت کی حامل ہے۔ اس کتاب میں انہوں نے وقت کے حوالے سے، کچھ باریک لیکن بہت کچھ دلچسپ توجیہات پیش کی ہے جن کو پہلے شائد ہی کسی کا ذہن گیا ہو۔ ان کا کہنا ہے کہ "جس طرح مادے کی اکائی ذرہ یعنی ایٹم کہلاتا ہے عین اسی طرح وقت کی بھی ایک اکائی ہے اسے "کوانٹم فوگ” کہتا ہے انسان اگر اس پر قابو پا لیں تو توانائی کا ایک لامحدود ذخیرہ اس کے ہاتھ لگ جائے گا”۔

خالق کائنات نے انسان کو اپنے کلام میں جا بجا کائنات کے اوپر غور و فکر کی دعوت دی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے کہ جس سے گزر کر انسان حقائق کی تہہ تک پہنچتا ہے۔ کائنات ایک حقیقت ہے اور خالق کائنات منبع حقیقت۔ اگر نگاہوں میں بصیرت بھری ہو تو یقیناً کائنات اور خالق کائنات کے درمیان موجود "لہروں” اور "لکیروں” کو پانا ذیادہ مشکل نہیں۔

سٹیفن ہاکینگ نے وقت میں سفر، بلیک ہولز، وارم ہولز، کوانٹم فوگ (وقت کی اکائی) اور مصنوعی ذہانت کے حوالے سے کئی دلچسپ نظریات پیش کئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کا بہت بڑا حصہ خود کائنات سے متعلق ہے، آپ علم کا جو بھی شعبہ منتخب کریں گے، وہ کائنات ہی کے کسی نہ کسی حصے یا مقام سے متعلق ہوگا۔ کائنات میں ایسی بے شمار نشانیاں پائی جاتی ہیں جو خالق کائنات کا پتہ دیتی ہیں، علم وہ روشنی ہے جس سے اگر انسان کام لیں تو خدا تک پہنچنا بلکل یقینی ہے۔ خود زندگی کے سفر میں بندے کو ایسے حالات اور مراحل سے واسطہ پیش آتا ہے کہ اگر خدا کے وجود اور یقین کا ساتھ نہ ہو تو اطمینان سے گزرنا ممکن نہیں۔ انسان تھوڑا سا بھی اگر اپنی زندگی، وجود اور ان کے تسلسل پر غور کریں، اور پھر نتیجہ قائم کریں تو مجھے یقین ہے اس نتیجے میں، 100 میں سے خدا کے نمبرز 75 ہوں گے۔

میں اس بات پہ شدید حیران ہوں کہ ایک ایسا فرد جو پوری زندگی تلاش علم، جستجوء حقیقت اور راز کائنات پانے میں سرگرداں رہا اس کا وجدان اور ذہن خدا تک کما حقہ کیوں کر نہ پہنچا، وہ طویل عرصے تک کائنات اور خالق کائنات کی بالکل درمیانی پٹی پر کھڑے ہو کر دیکھ رہے تھے لیکن وہ خالق کو اپنے حقیقی وجود اور حیثیت سمیت نہ پا سکے اگر چہ وہ منکر خدا بالکل نہیں تھے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ پیغمبرانہ معیار اور تعریف کے مطابق خدا کے بارے میں اعتراف بھی نہ کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ کئی چیزیں دنیا میں خدا اور انسان کے درمیان ایسی پائی جاتی ہیں جن کو کوئی دوسرا نہیں جان پاتا اس لیے مذکورہ معاملہ ہم خدا اور موصوف پر چھوڑتے ہیں اور اس لمبے دن کا انتظار کرتے ہیں جس میں خود خالق کائنات بے شمار رازوں سے پردہ اٹھائے گا اور آج کی دنیا میں موجود لا تعداد جھگڑوں کا تصفیہ بھی فرمائے گا۔

جہاں تک علم اور سائنس کی بات ہے تو یہ حوالہ سٹیفن ہاکینگ کا بڑا ہی شاندار اور بے مثال ہے۔ اب ہم ان کے کچھ دلچسپ خیالات اور تصورات کا تذکرہ کررہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا!

"موجودہ کائنات کے علاوہ بہت ساری مذید کائنات بھی موجود ہیں”۔

ان کا کہنا تھا!

"دنیا انسان کا عارضی ٹھکانہ ہے مستقل نہیں”۔

ان کا کہنا تھا!

"موجودہ کائنات کے پیچھے بہت بڑی منصوبہ بندی اور توازن کار فرما ہیں”۔

ان کا کہنا تھا!

"کائنات میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے اس لیے کائنات میں یکتاء کنٹرول کا نظام ہونا چاہیے” انہوں نے اس نظریے پر کام بھی کیا ہے "جس کو "سنگل اسٹیرنگ تھوری” کے نام سے جانا جاتا ہے (یہ ایک سائنسدان کی زبان سے توحید کا برملا اقرار معلوم ہوتا ہے)”۔

ان کا کہنا تھا!

"دنیا میں مذید 1000 سال کا چارج باقی ہے اس کے بعد یہ دنیا ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائی گی”۔

ان کا کہنا تھا!

"انسان سب مل کر اپنے لیے کوئی اور ٹھکانہ تلاش کریں”(اے کاش! انہیں ادراک ہوتا کہ آخرت کا ٹھکانہ آلریڈی موجود ہے)۔

ان کا کہنا تھا!

"مصنوعی ذہانت انسانی ہلاکت خیزی کے خدشات اپنے اندر رکھتے ہیں، انہوں نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ اگر کل کوئی طاقتور کمپیوٹر مہلک وائرس بنالیں اور دوسرے کمپیوٹرز کو بھی ماتحت لائے تو انسانوں کیلیے اس کا مقابلہ ممکن نہیں رہے گا۔ سوچنے سمجھنے والے کمپیوٹرز کیلیے ضابطہ اخلاق کون اور کیسے بنائے گا”۔

ان کا کہنا تھا!

"کہ مصنوعی ذہانت زندگی آسان بنانے کے ساتھ ساتھ انسان کیلیے بہت سے مسائل بھی پیدا کر سکتی ہے جن سے انسانی بقاء کو شدید خطرات لاحق ہوسکتے ہیں”۔

وہ ایک سائنسدان ہونے کے ساتھ ساتھ مفکر اور دانشور بھی تھے جو ہمیشہ اس بات کی تلقین کرتے تھے کہ "ٹیکنالوجی کی اندھا دھند ترقی ایک نہ ایک دن مشینوں اور انسانوں کو مد مقابل لائی گی”۔

ان کا کہنا تھا!

"دنیا میں تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی اورنتیجاً توانائی کی طلب اور پیداوار میں اضافے سے آلودگی نہایت بڑھ جائی گی جو بلآخر دنیا کی تباہی کی ایک طاقتور وجہ بنی گی”۔

ان کا کہنا تھا!

"کائنات کا کوئی اختتام نہیں لیکن آغاز ضروری ہے آج اس آغاز کو بگ بینگ کہتے ہے سوال بنتا ہے کہ بگ بینگ سے پہلے کیا تھا”؟ جواب "کچھ بھی نہیں ایسے ہی جیسے قطب جنوبی کے اس پار کچھ نہیں، (اس خیال سے متفق ہونا ضروری نہیں)۔

ان کا کہنا تھا!

"میں نے یہ دعوی کبھی نہیں کیا کہ خدا موجود نہیں لیکن خدا کی ہستی طبیعاتی قوانین پر مشتمل ہے نہ کہ کوئی شخصی وجود پر، جس سے ذاتی تعلق استوار کرنا ممکن ہو” (یہ بات بطور مسلمان ہضم کرنا ممکن نہیں)۔

ان کا کہنا تھا!

میرا خدا ایک غیر شخصی خدا ہے”۔

ایک موقعے پہ ان سے سوال ہوا آپ خدا کا اقراری ہے یا انکاری؟ انہوں نے فوراً جواب دیا "اقراری” مذید کہا "انسان اپنے آغاز سے لے کر آج تک، جس توجیہ تک پہنچا ہے وہ "خدا” ہے” "اس کے علاوہ انسان کے پاس کوئی قابل قبول توجیہ نہیں”۔

ان کا کہنا تھا!

"کوئی بھی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ خدا موجود نہیں تاہم سائنس نے خدا کو غیر ضروری بنا دیا”۔ یہ ایک بالکل عجیب بات ہے کہ سائنس نے خدا کو غیر ضروری بنا دیا ہے سوال بنتا ہے کہ کیا سائنس نے بیماری اور موت کو بریک لگادی ہے؟ یا جن چیزوں پہ زندگی کا انحصار ہے کیا خدا کے پیدا کردہ چیزوں کے مقابلے میں سائنس نے انسان کو کوئی اور متبادل عطا کی ہے؟ کیا فطرت الٹ چلی ہے؟ کیا زندگی کو آبدیت کا پروانہ مل گیا ہے؟ کیا سائنس کے ذریعے انسان نے خدائی سانچے (تکوینی نظام) سے خود کو آزاد کیا ہے؟ کیا موجودہ دنیا میں اس بات کی گنجائش ہے کہ وہ انسان کی آخری منزل ٹہریں؟ کیا لوگوں کو غم، بیماری اور مایوسی سے کلیتاً نجات مل گئی ہے؟ کیا جوانی، خوشی اور صحت و سلامتی کی نعمتیں ہمیشہ کیلیے انسان کا ساتھ دے گئی؟ اور کیا سائنس ہلاکت خیزی کا سامان بڑھا رہی ہے یا بچاو و سلامتی کا؟ کیا اب لوگوں کو زندہ رہنے کیلیے روح، دیکھنے کیلیے آنکھ، سننے کیلیے کان، سوچنے کیلیے دماغ کی ضرورت نہیں؟

کیا دنیا کی محدودتیں، گردشیں، علتیں اور ہر پل نمودار تبدیلیاں اس حقیقت کی واضح دلیل نہیں کہ سائنس کسی صورت انسان کو خدا سے بے نیاز نہیں کر سکتی۔ اور کیا بنیادی ضرورتیں اب سائنس فراہم کریں گی؟ یقیناً ایسا نہیں ہے میری مراد ہے پانی، ہوا، زمین، زندگی، صحت، جذبات اور عقل و شعور یہ ساری نعمتیں انسان کو عطا ہوئی ہیں انسان کے پیدا کردہ نہیں یہ اور اس طرح کے دوسرے بے شمار معاملات اور چیزیں ایسی ہیں جن میں انسان "کریئٹر” نہیں بلکہ "بنیفشری” ہے۔ اس کے علاوہ زندگی اور کائنات میں جو زبردست نظم و ضبط، ہموار تسلسل، گہری ہم آہنگی اور ارادی مقصدیت جیسی جوہری خوبیاں پائی جاتی ہیں ان حقائق کی موجودگی میں ایک واحد، مکمل، باکمال اور قادر مطلق ہستی پر ایمان کے بغیر انسان اپنے ہی ذہن اور ضمیر سے اٹھنے والے سوالات کے جوابات یقیناً نہیں دے سکتا۔

ایک اور بنیادی معاملہ یہ ہے کہ انسان اپنے ارادے سے دنیا میں آیا ہے نہ ہی اپنے ارادے سے اس دنیا میں رہنے کا مجاز ہے بلکہ کہیں سے آیا ہے اور کہیں پہ جا رہا ہے اس معاملے میں ہماری منشاء کو قطعاً کوئی عمل دخل حاصل نہیں فرض کریں ہم آللہ اور آخرت کا معاملہ کچھ دیر کیلیے بالائے طاق رکھتے ہیں اور یہ خواہش یا اعلان کرتے ہیں کہ کوئی ہے جو مجھے "جیسا ہے جہاں ہے” کے طور پر باقی رکھے تو میرا یقین ہے کوئی جواب بھی "ہاں” میں نہیں آئے گا۔

زندگی میں وجود، گردش اور معدومی ایسی چیزیں ہیں جو ایک قادر مطلق ہستی پر ایمان کیلیے بندے کو مجبور کرتی ہیں۔ مختلف ادوار سے گزرنا، مختلف کیفیتوں کو گزارنا، نہیں، ہے اور تھا ہو جانا، علم و عقل کے صلاحیتوں سے آراستہ ہونا اور جوہر تمیز اس بات کی دلیل ہے کہ انسان مخلوق ہے، محدود ہے، مکلف ہے، ذمہ دار ہے، جواب دہ ہے اور ایک اور طرح کی منزل کا مسافر ہے جب تک انسان خدا اور آخرت کا اعتراف نہ کریں ان پر ایمان نہ لائے ان سے جڑی حقائق کو قبول نہ کریں تو اسے خود اپنے وجود اور زندگی کا کوئی اطمینان بخش توجیہ ہاتھ نہیں آتا۔ تعجب ہے انسان کا ذہن کائنات میں تیزی سے چلتا ہے لیکن خالق کائنات تک نہیں پہنچتا۔

ایک اور پہلو کی جانب بھی مختصر سا اشارہ ضروری سمجھتا ہوں یہ خیال کرنا کہ خدا سائنس سے غیر ضروری ہوگیا ہے ایک بچگانہ بات ہے خدا ضروری اور غیر ضروری کا عنوان ہے ہی نہیں خدا حق ہے اور اس کا ماننا لازم ہے اور جو اس سے اعراض کرے گا وہ حق سے اعراض کرے گا اور جو حق سے اعراض کرے گا اس کا کردار غیر صالحانہ ہوگا جس کے مظاہر دیکھ کر خود سٹیفن ہاکنگ دکھی رہتے تھے اور افسوس کا اظہار بھی کرتے تھے اے کاش! اسے ان مظاہر کے بنیادی سبب کا ادراک ہوتا۔

خدا سے انکار یا خدا سے بے نیازی موجودہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اس مسئلے نے انسانی کردار کو بے حد ظالمانہ، سفاکانہ، حق تلفانہ، خود غرضانہ، منافقانہ اور غیر صالحانہ بنانے میں بنیادی کردار آدا کیا ہے۔ حق و انصاف اور نفع رسانی و اصلاح کا ذہن بنتا ہی خدا پر ایمان سے ہے اس کے علاوہ کسی سائنس، کسی ٹیکنالوجی اور کسی فلسفے سے یہ معجزہ ممکن نہیں۔ اچھا انسان اور اچھا کردار بننا جو اپنی گہرائی، گیرائی اور بلندی میں تاحد کائنات وسیع و عریض اور بلند و بالا ہو صرف اور صرف خدا پر ایمان کی بدولت ممکن ہےاس کے علاوہ کوئی اور صورت نہیں۔ انسان کی ہستی خانہ بہ خانہ ہے اور جو سب سے بڑا خانہ ہے وہ خدا کیلیے مختص ہے جو اس کو خالی چھوڑے گا یا باطل وجود اور تصور سے اس کو بھرے گا تو یقیناً اس کی شخصیت میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگا جو کسی بھی چیز سے نہیں بھرے گا خواہ وہ سائنس و ٹیکنالوجی ہو، تہذیب و ثقافت ہو، نوع بہ نوع فلسفے ہو یا پھر انسان دوستی کے رنگ بہ رنگ نعرے ہو۔

اب آئیے ان کے کچھ اور دلچسپ خیالات ملاحظہ کرتے ہیں

ان کا کہنا تھا!

"کہ میں نے دیکھا ہے کہ جو لوگ یہ اصرار کرتے ہیں کہ ہر چیز تقدیر میں لکھی جا چکی ہے اور ہم اسے قطعاً تبدیل نہیں کرسکتے وہ بھی سڑک پار کرنے سے پہلے دونوں جانب دیکھتے ہیں”۔

ان کا کہنا تھا!

"کہ طبیعات اور ریاضی نے ہمیں کائنات کے آغاز کے بارے میں تو بتایا ہے لیکن انسانی رویے کائنات کی نسبت کہیں زیادہ پیچیدہ ہیں مذکورہ ذرائع میں انسانی رویوں کے حوالے سے کوئی پیشن گوئی موجود نہیں” اس بارے میں، میں خود بھی حیران اور لاعلم ہوں”۔

ان کا کہنا تھا!

"آج کا انسان بےحد بدکردار اور ظالم واقع ہوگیا ہے، اس نے زمین پر مذید اپنے رہنے کا جواز تقریباً ختم کردیا ہے اس کا دامن بربادی کے سامان سے بھرا ہوا جبکہ ہاتھ آبادی کے مواقع یعنی امن اور انصاف سے خالی ہے”۔

ان کا کہنا تھا!

"انسان کا سب سے بڑا دشمن سرمایہ دارانہ نظام ہے اور خاص بات یہ ہے کہ خود سرمایہ دارانہ نظام کا والی وارث بھی انسان ہی ہے”۔

ان کا کہنا تھا!

"پر تشدد رویہ غاروں کے دور میں بھی پایا جاتا تھا جبکہ آج بھی یہ (ذیادہ مہلک پیمانہ پہ) پایا جاتا ہے اس رویے کے بدولت انسان، انسان کا خاتمہ کر دے گا”۔

وقت میں سفر بھی موصوف کا نہایت دلچسپ موضوع تھا وہ ماضی یا مستقبل میں جانے کے حوالے سے ہمیشہ سوچتے رہتے”۔

ان کا کہنا تھا!

"میں ماضی میں سفر کرنا چاہتا ہوں اور مستقبل میں بھی سفر میری بڑی خواہش ہے، میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ کائنات کا خاتمہ کب اور کیسے ہوگا”۔

ان کا کہنا تھا!

"اگر انسان کبھی وقت کے ذرے "کوانٹم فوگ” تک رسائی پالیں تو توانائی کا لامحدود ذخیرہ اس کے ہاتھ لگ جائے گا، لامحدود توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ممکن ہے کہ انسان ماضی اور مستقبل میں سفر کرنے پر قادر ہو جائے”۔ (آپ وقت میں سفر کے نظریے اور واقعہ معراج پر سوچیں تو مطابقت محسوس ہوگی)۔

ایک سنجیدہ علمی اور سائنسی شخصیت ہونے کے باوجود سٹیفن ہاکنگ شگفتہ مزاج اور خوشگوار طبیعت کے مالک بھی تھے۔ وہ لوگوں کو خوش اور پرامید رہنے پر لیکچرز دیتے تھے، وہ کہا کرتے تھے "میں اگر مکمل معذور ہونے کے باوجود خوشی اور کامیابی پاسکتا ہوں اپنے بارے میں ڈاکٹروں کے اندازے غلط ثابت کرسکتا ہوں تو اپ لوگ صحت، طاقت اور سالم اعضاء رکھتے ہوئے بھی مایوس اور ناکام کیوں ہیں”؟ وہ "عورت کو معمہ قرار دیتے تھے”، "انہوں نے زندگی بھر کبھی مایوسی اور پریشانی کا اظہار نہیں کیا تھا”۔

ان کا کہنا تھا!

"زندگی کتنی ہی دشوار اور مشکل کیوں نہ ہو پھر بھی ہمیشہ کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں کہ جو تم کرسکتے ہو اور انہیں سر آنجام دے کر سرخرو بن سکتے ہو۔ "انہوں نے مختلف اوقات میں تین شادیاں کئے تھے جبکہ تین بچوں کے باپ بھی تھے”۔

وہ علمی اور سائنسی تاریخ کا ایک قد آور نام ہے، وہ اپنی شخصیت، نظریات، انداز فکر، مفلوج زندگی اور سائنسی کام کے بدولت سائنس کے طالب علموں کیلیے ابدلاآباد تک روشنی اور حرارت کا کام دے گا، وہ اپنے مفلوج جسم، سائنسی خدمات، دلچسپ تصورات اور مضبوط قوت ارادی کے بدولت ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

سٹیفن ہاکنگ کی موت پر یہ بات مجھے شدت سے محسوس ہوئی کہ کاش حکومت پاکستان ان کو سرکاری مہمان بنا کر طویل دورے کا موقع دیتی تو بہت اچھا ہوتا، ان کو یونیورسٹیوں میں لیکچرز کے مواقع فراہم ہوتے تو غالب امکان تھا کہ وطن عزیز میں ہزاروں دماغ سائنس کے جانب مڑ جاتے اور سائنسی رجحان سازی میں ایک اہم پیش رفت ہوتی، لیکن یہ خیال محض ایک خوش گمانی کے علاوہ کچھ نہیں کیونکہ ہمارے حکمرانوں کے پاس اتنی فرصت ہے کہاں؟ کہ وہ ایک سائنسدانوں کو مدعو کرکے اپنی قوم اور نوجوانوں کو مخاطب کرانے کا انتظام کر دیں۔ ان کو دعووں اور وعدوں، صفائیوں، الزامات، ہارس ٹریڈنگ، ووٹ کے تقدس کی جنگ لڑنے، این آر او نہیں دوں گا کے ورد، کرپشن کی خبروں سے پیدا ہونے والی پریشانیوں، نہیں چھوڑوں گا نہیں دوں گا قسم کے دھمکی آمیز بیانات، اداروں سے پنجہ آزمائی کرنے، ایک دوسرے کا مذاق اڑانے، پروٹوکول کے مزے انجوائے کرنے سے فراغت ملی گی تو پھر سائنسدانوں کی طرف بھی توجہ جائے گی۔

حقیقت یہ ہے ہمارے ذوق و مزاج میں ابھی تک سائنس نے گھر نہیں کیا، علم ہماری ترجیح نہیں، ہم کھیل کود اور شغل میلوں میں خوش ہیں، ہم پی ایس ایل میں اور بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی کی جوش میں کھیلنے کیلیے باہر سے کھیلاڑیوں کو بھاری اخراجات برداشت کرکے بلاتے ہیں اور اتنے خوش ہوتے ہیں کہ گویا چاند پر کمندیں ڈال دی ہو۔ ہم نے شغل مشغلوں میں خود کو اتنا ڈبویا ہوا ہیں کہ سنجیدہ اور اہم معاملات تک ہمارا ذہن جاتا ہی نہیں۔

سنجیدہ اور کامیاب اقوام علم، میرٹ، ٹیلنٹ، امن و امان، ڈسپلن، نظم و ضبط، عمومی انصاف اور سائنس و ٹیکنالوجی کے ہتھیاروں سے لیس ہو کر تسخیر کائنات کے اوپر کام کر رہے ہیں جبکہ ہم بے مقصد کھیلوں، بے ہنگم موسیقیوں، بکواس ڈراموں، عریاں فلموں، نمائشی اقدامات، وحشیانہ مظاہر، غیر ذمہ دارانہ اجتماعی رویوں، بد اخلاقیوں، غیر مہذب سیاسی لڑائیوں اور فضول نوسر بازیوں سے دل بہلا رہے ہیں۔ ہمارا سیاسی ماحول نفرت اور نااہلی، انتظامی ڈھانچہ کرپشن اور کام چوری، سماجی دائرہ جھوٹ اور بے حسی، معاشی سطح سود اور جمود جبکہ اخلاقی رویہ بحران اور لاپرواہی کے نرغے میں گھرا ہوا ہے۔ ہم اپنے اجتمائی زندگی سے خدا کی منشاء دکھانے میں بری طرح ناکام ہوگئے ہیں۔ خدا سے انکاری لوگوں پر خدا کی عظمت، آفادیت اور حقانیت بلند کردار، ٹھوس خدمات، بہترین صلاحیتوں، مطمئن سماج، آسودہ معاش اور بہتر و برتر اجتماعی ڈھانچے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ اس کے علاؤہ اور کوئی راستہ نہیں تب ہمارے ہاں وہ کشش اور اہلیت پیدا ہوگی جو دنیا کی خوشحال اقوام کے دل و دماغ میں جگہ پیدا کرلیں تب کہیں جا کر یہ توقع رکھی جا سکتی ہے کہ وہ بے خدا یا خدا بے نیاز اسلوب زندگی چھوڑ کر خدا پرستانہ حیات نو کی جانب کوچ کر لیں۔

ہم دنیا کی دلچسپ ترین قوم ہے، چاہتے سب کچھ ہیں لیکن کرتے کچھ بھی نہیں، ہم روز ہوائی گھوڑوں پر بیٹھ کر دنیا فتح کرنے نکلتے ہیں اور شام کو واپس آکر سو جاتے ہیں۔ الہامی بصیرت سے دور لوگ اس وقت کنفیوژ ہوجاتے ہیں جب وہ ان سارے عیوب اور علتوں میں خود اسلامی دنیا کو بری طرح ملوث دیکھ رہے ہیں جو خدا اور نبی نے حرام قرار دیئے ہیں اور جو غیر خدا پرستانہ طرز زندگی کا خاصہ ہے۔ ہم نے اجتماعی زندگی کو ان رنگوں میں رنگا ہے جو خدا کے رنگ نہیں۔ سود، جھوٹ، حق تلفی، کاہلی، بے اصولی، بے حسی، خود غرضی، مفاد پرستی، وحشت و بربریت، قتل ناحق اور ناروا رویوں نے کیا ہماری زندگی کا سارا حسن بھیانک قباحت میں نہیں بدلا۔ غرض ہماری ملی سطح پہ وہ چیز ہے ہی نہیں جو ہماری جانب اقوام عالم کو متوجہ کریں۔ ایک اور نہایت تکلیف دہ بات کہ سٹیفن ہاکنگ سے مسیحی پادری تو ملتے تھے لیکن مسلمان علماء کبھی نہیں ملیں ان سے ملنا چاہیے تھا۔ وہ ان معدودے چند سائینسدانوں میں سے ایک تھے جو کہ مذہب پر باقائدہ کلام کرتے تھے اور خدا کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرتے تھے کیا سائنسدان دین حق کے مدعو نہیں؟۔

آخر میں آتے ہیں بحث کے نتیجے پر اور وہ یہ کہ اس بات سے قطع نظر کہ سٹیفن ہاکنگ کا نظریہ خدا کے بارے میں حقیقت پر مبنی تھا یا حقیقت کے بر خلاف۔ یہ بات بہرحال اپنی جگہ ایک حقیقت ہے کہ انہوں نے سائنسی شواہد کے ساتھ یہ حقیقت نہ صرف مان لی بلکہ علی لااعلان اظہار بھی کیا کہ کائنات کے پشت پر ایک ٹھوس منصوبہ بندی اور توازن کار فرما ہے بطور مسلمان میں محسوس کرتا ہوں کہ تخلیق کائنات میں منصوبہ بندی اور توازن کا اعتراف خود ایمان کی جانب ایک ٹھوس پیش رفت ہے اس سے وہ معروف نظریہ باطل ہوا جو عرصہ دراز سے دنیائے سائنس پر حکمرانی کرتا تھا اور سائنسدانوں کی بڑی تعداد کو ایک طرح کے خمار میں مبتلا کیا تھا کہ "کائنات خود سے بنی ہے خود سے چلتی ہے اور خود سے کسی وقت فنا ہو جائے گی اور یہ کہ تخلیق کائنات کا واقعہ محض ایک اتفاق ہے نہ کہ منصوبہ بندی”۔

خود سے اگر معاملہ منصوبہ بندی اور توازن تک پہنچا ہے تو وہ وقت دور نہیں کہ خود سے شروع ہونے والا یہ سفر خدا پر جا کر ختم ہو اور کیا بعید کہ کبھی پوری انسانیت ایک نہ ایک دن کم از کم خدا کے بارے میں مبنی بر حق نظریے پر اتفاق کر لیں اور آگے بڑھ کر کسی موقعے پہ اس کی منشاء کو بھی دیکھنے اور قبول کرنے کی تحریک بھی کبھی ضمیر انسانیت کے اندر انگڑائی لیں اور یوں انسانیت ترقی کے ساتھ ساتھ کبھی شاہراہ ہدایت پر بھی گامزن ہو جائے گی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے