ہمارے ہاں بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ عصرِ حاضر میں جب پوری دنیا کی معیشت سود کی بنیادوں پر کھڑی ہے، تو ایسے حالات میں پاکستان میں اسلامی نظامِ معیشت کا قیام کیسے ممکن ہو سکتا ہے؟
اس سوال یا اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ان دوستوں کے طرزِ عمل کا جائزہ لینا ضروری ہے—کہ آیا ان کا عملی رویہ بھی اس اعتراض کے ساتھ مطابقت رکھتا ہے یا نہیں؟
جب ہم ان معترضین کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو سرمایہ دارانہ نظام کے سخت ناقد ہیں۔ ان میں کچھ ایسے بھی ہیں جو ملک میں جاری بدامنی کو "ڈالری جنگ” قرار دیتے ہیں۔
بلاشبہ ان میں جو سب سے زیادہ سرمایہ دارانہ نظام اور ملک میں جاری بدامنی کے مخالف ہیں، ہم ان سے اس مخالفت میں ذرہ برابر بھی پیچھے نہیں۔ ہمیں بھی دہشت گردی اور سرمایہ دارانہ نظام سے سخت نفرت ہے، کیونکہ ہم خود براہِ راست ان کے اثرات سے متاثر ہیں۔
اب ذرا سود کے حوالے سے ان حضرات کا تضاد ملاحظہ فرمائیے: ایک طرف وہ سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین پر، جو اسلامی معتدل معاشی نظام کی بات کرتے ہیں، یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ سرمایہ دارانہ نظام کے حمایتی ہیں؛ اور دوسری طرف، جب یہی مذہبی طبقہ سود کے خاتمے کی بات کرتا ہے، تو وہی لوگ سرمایہ دارانہ نظام کے سب سے بڑے ہتھیار "سود” کے دفاع میں کھڑے ہو جاتے ہیں، اور فرماتے ہیں کہ آج کی دنیا میں سود کے بغیر کوئی معاشی نظام نہیں چل سکتا، کیونکہ پوری عالمی معیشت سود پر کھڑی ہے۔
غور فرمایئے! ایک طرف تو وہ سرمایہ دارانہ نظام کے نقصانات گنواتے نہیں تھکتے، اور دوسری طرف اسی نظام کے سب سے تباہ کن ہتھیار—یعنی سود—کو اس بنیاد پر جواز فراہم کرتے ہیں کہ اگر عصرِ حاضر میں زندہ رہنا ہے، تو سود کو معیشت کا لازمی جزو تسلیم کرنا ہوگا، ورنہ دنیا کے ساتھ چلنا ممکن نہیں۔
جب اسلامی نظامِ معیشت کے قیام کی بات ہوتی ہے تو یہ حضرات موجودہ عالمی حالات کو بنیاد بنا کر اسے ناممکن قرار دے دیتے ہیں، لیکن یہی لوگ جب اُس بدامنی کے خلاف بولتے ہیں جسے وہ خود "ڈالری جنگ” کہتے ہیں—یعنی ایسی جنگ جو معاشی مفادات کی خاطر امریکہ اور دیگر عالمی قوتوں کی ایما پر مسلط کی گئی ہے—تو اگر ایک چھوٹا بچہ بھی اس کے خلاف آواز بلند کرے، تو یہ اس کی حمایت میں قصیدے لکھتے ہیں، خاص طور پر جب وہ بچہ مذہب کے حوالے سے غیر جانب دار ہو، یا کوئی ایسا شخص ہو جو مذہب مخالف رویہ رکھتا ہو۔
اس موقع پر یہ سوال نہیں اٹھایا جاتا کہ "آپ امن کی بات کیسے کر سکتے ہیں، جب کہ یہ بدامنی تو عالمی قوتوں نے اپنے مفاد کے لیے مسلط کر رکھی ہے؟” حالانکہ یہی لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ یہ بدامنی دراصل معاشی مفادات کے لیے ہے۔ بھائی، اگر بدامنی سرمایہ دارانہ مفادات کے لیے ہے، تو سود بھی انہی مفادات کا سب سے طاقتور ہتھیار ہے—پھر اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو تم ملعون کیوں قرار دیتے ہو؟
یعنی ایک طرف ڈالری جنگ کے خلاف جدوجہد قابلِ تحسین ہے، مگر جب اسلام کے نام پر کوئی شخص سود کے خلاف بات کرتا ہے تو اعتراضات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہم جس طرح سود کے خلاف جدوجہد کے نتیجے میں اس سے نجات کو ممکن سمجھتے ہیں اور اسلامی نظامِ معیشت کو عصرِ حاضر میں قابلِ عمل مانتے ہیں، بالکل اسی طرح ہم عالمی طاقتوں کی ایما پر جاری بدامنی کے خاتمے کو بھی، اخلاص پر مبنی جدوجہد کے ذریعے، ممکن سمجھتے ہیں۔
یہ تفصیل محض اس لیے پیش کی گئی ہے تاکہ یہ واضح ہو کہ عصرِ حاضر میں اسلامی نظامِ معیشت کا قیام اتنا ہی ممکن ہے جتنا کہ بدامنی کا خاتمہ—بشرطیکہ مقتدر طبقہ سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اس کے لیے متحرک ہو۔
اس کی ایک اور مثال لیجیے: اگر "خپلہ خاورہ، خپل اختیار” کا نعرہ کسی قوم کا حق مانا جا سکتا ہے، تو "اپنا اسلام، اپنا نظام” کا نعرہ کیوں قابلِ اعتراض ہو جاتا ہے؟
ایک اور دلچسپ بات ملاحظہ کیجیے: جو حضرات سود کے خلاف مذہبی بیانیے کو یہ کہہ کر رد کرتے ہیں کہ "عالمی طاقتیں اس نظام کے پیچھے ہیں، اس لیے تم سود کے خلاف بات کر کے گویا ان سے ٹکر لینے چلے ہو، اور تمہاری اتنی حیثیت نہیں کہ ایسا کر سکو”—وہی لوگ جب کمیونزم کی بنیاد پر ماسکو کے لیے عالمی طاقتوں سے ٹکرا جاتے ہیں، تو اسے زمانے کی ضرورت قرار دیتے ہیں۔
یعنی ان کے نزدیک اسلام کی خاطر عالمی طاقتوں سے ٹکر لینا تو "غیر عملی” ہے، مگر ماسکو کی خاطر لینا "عقل و حکمت” کا تقاضا ہے!
ایسے رویے کی کیا توجیہ ہو سکتی ہے، سوائے اس کے کہ یہ یا تو اسلام سے بے خبری ہے یا دیگر اقوام کی اندھی تقلید؟
نوٹ:زبان میں جدید ذرائع سے معاونت لی گئی ہے.