"ہم پاکستان” سیمینار پشاور: گورنر خیبرپختونخوا کا نوجوانوں کی قیادت میں قیامِ امن پر زور

پشاور؛ شیف انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم (UNODC) یورپی یونین (EU) اور نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی (NACTA) کے تعاون سے صوبائی سطح کا ایک سیمینار "ہم پاکستان” اقدام کے تحت پشاور کے سرینا ہوٹل میں منعقد ہوا جس کا عنوان تھا.

"پاکستان میں قومی یکجہتی اور خوشحالی کے فروغ میں نوجوانوں کا کردار”

یہ سیمینار "ہم پاکستان” اقدام کا اختتامی موقع تھا جو کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور امن کے فروغ پر مبنی ایک پروگرام ہے جس کا مرکز خیبر پختونخوا کے نئے ضم شدہ اضلاع (NMDs) تھے اس تقریب میں دو سو سے زائد افراد نے شرکت کی جن میں قبائلی نوجوان، سول سوسائٹی کے رہنما، میڈیا کے افراد، سرکاری حکام، اور بین الاقوامی شراکت دار شامل تھے .

تقریب کا آغاز شیف انٹرنیشنل کے سی ای او جناب سہیل ایاز خان کی استقبالیہ تقریر سے ہوا جنہوں نے قبائلی نوجوانوں میں سرمایہ کاری کی فوری ضرورت پر زور دیا تاکہ ایک پُرامن اور ہم آہنگ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے اُنھوں نے کہا "ہمارے نوجوان صرف تنازعات کے شکار نہیں بلکہ امن کے معمار ہیں ‘ہم پاکستان’ نے یہ کرکے دکھایا ہے کہ جب اعتماد، تربیت اور مواقع یکجا ہوں تو کچھ بھی ناممکن نہیں ".

اس کے بعد "ہم پاکستان امید کا سفر” کے عنوان سے ایک مختصر دستاویزی فلم دکھائی گئی جس میں قبائلی نوجوانوں کے ساتھ کیے گئے امن کے سفر اور ان کے تاثرات کو اجاگر کیا گیا فلم کے بعد "رہنماۓ نوجوان” نامی ایک رہنما کتاب کا باقاعدہ اجراء ہوا جو نوجوانوں کے لیے شہری شمولیت، قیادت کی ترقی، اور پرتشدد انتہا پسندی کے خلاف مزاحمت کے عملی اوزار فراہم کرتی ہے پروجیکٹ ڈائریکٹر اور کتاب کے شریک مصنف جناب غلام مرتضیٰ نے کہا "یہ کتاب محض الفاظ نہیں بلکہ قبائلی اضلاع کے نوجوان تبدیلی کے علمبرداروں کے لیے ایک نقشہ راہ ہے تاکہ وہ اپنی کمیونٹی کو امن کی طرف لے جا سکیں”.

ایک پُر مغز پینل ڈسکشن بعنوان "قومی یکجہتی کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانا تعلیم، ڈیجیٹل خواندگی اور جامع قیادت” کا انعقاد بھی کیا گیا جس میں مختلف شعبہ ہائے فکر کے نمایاں افراد شامل تھے:

رضوان اللہ باجوڑی نوجوان سماجی کارکن (NMDs)
ڈاکٹر جمیل چترالی ڈائریکٹر جامعہ پشاور
ڈاکٹر سویرا پرکاش سیاسی رہنما
محمد سعید وزیر ایڈیشنل آئی جی بلوچستان

مرتضیٰ محسود قبائلی یوتھ آرگنائزیشن
محمد حسیب خان نوجوانوں ٹرینر

اس سیشن کی نظامت ڈاکٹر عامر رضا نے کی اس میں نوجوانوں کے احساس محرومی کی وجوہات، ڈیجیٹل شمولیت، مساوی تعلیم اور مقامی قیادت کی ضرورت پر زور دیا گیا .

بین الاقوامی اور قومی شراکت داروں نے اس اقدام کی بھرپور حمایت کا اظہار کیا اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسداد منشیات و جرائم کے نمائندے جناب اسد نصراللہ خان نے کہا؛

"نوجوانوں کی شمولیت پرتشدد انتہا پسندی کے خاتمے میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے یہ اقدام ایک مضبوط مثال ہے کہ نوجوان کس طرح امن کے شراکت دار بن سکتے ہیں”

نکٹا سے جناب تیمور خٹک صاحب نے نمائندگی کرتے ہوئے کہا”ہمیں فقط نعروں سے آگے بڑھنا ہوگا اور نوجوانوں کو حقیقی شرکت کے پلیٹ فارمز مہیا کرنے ہوں گے۔”

KPCVE سےڈاکٹر ایاز خان صاحب نے نمائندگی کرتے ہوئے کہا حساس علاقوں میں سماجی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے بلاشہ یہ ایک بہت بڑا اقدام ہے جبکہ کئی نوجوان شرکاء نے "ہم پاکستان” پروگرام کے ذریعے اپنی ذاتی تبدیلی کی کہانیاں بھی پیش کیں تقریب کا اختتام معزز مہمان خصوصی گورنر خیبر پختونخوا جناب فیصل کریم کنڈی کے کلیدی خطاب سے ہوا۔

اُنھوں نے کہا "قبائلی اضلاع کے نوجوانوں نے بہت طویل انتظار کیا ہے کہ انہیں پہچانا جائے۔ اب وقت آگیا ہے کہ ہماری ترقیاتی ترجیحات میں ان کی آوازوں کو مرکزیت دی جائے حکومت ان کے ساتھ کھڑی ہے تاکہ ان کی توانائی قومی یکجہتی کی طاقت بن جائے۔”

اُنھوں نے شیف انٹرنیشنل، یورپی یونین، UNODC اور NACTA کی مشترکہ کوششوں کو سراہا جنھوں نے تاریخی طور پر نظر انداز کیے گئے علاقوں میں امن اور خوشحالی کے فروغ کے لیے بھرپور کردار ادا کیا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے