لیہ جولائی یا اگست 2004ء کی کوئی تاریخ تھی۔ اس وقت میں مرکز علوم اسلامیہ راحت آباد پشاور میں زیر تعلیم تھا۔ میں نماز عصر کے بعد کمرے میں بیٹھا مولانا مودودی رحمہ اللہ پر شائع ہونے والے ایک میگزین کے خصوصی شمارے کا مطالعہ کر رہا تھا کہ اسی اثناء میں کسی نے دروازے پر دستک دی، میں نے اندر آنے کی اجازت دی تو کیا دیکھتا ہوں کہ پست قامت، معتدل جسامت، گہری گندمی رنگت، مسکرائے ہوئے چہرے، کشادہ سینے اور روشن ماتھے کے ساتھ ایک نوجوان نہایت خوشگوار موڈ میں داخل ہوا۔
آتے ہی کہنے لگے عنایت! میں آپ کے لیے ایک بڑی خوشخبری لایا ہوں۔ میں نے حیرت اور مسرت کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ پوچھا کیا خوشخبری لائے ہو نوجوان؟ فوراً جیب سے جنگ اخبار کا ایک اشتہاری ٹکڑا نکالا، میری طرف بڑھایا، چہرے پر دل آویز مسکراہٹ سجایا اور ساتھ ہی کہنے لگا دینی مدارس کے طلبہ کے لیے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد نے سکالرشپس کا اعلان کیا ہے۔ وہ طلبہ جنہوں نے درجہ خاصہ (میٹرک کے بعد چار سالہ درس نظامی) تک پڑھا ہیں اور پانچ سرکاری طور پر تسلیم شدہ بورڈز میں سے کسی بورڈ سے امتحان دے کر کامیاب ہوئے ہیں وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔
اخباری اشتہار دیکھنے اور مذکورہ نوجوان کی باتیں سن کر خوشی سے میرا دل باغ باغ ہوگیا کیونکہ اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد میں داخلہ ہم دونوں کی درینہ خواہش تھی جس کو بھر لانے کا موقع اللہ تعالیٰ نے غیر متوقع طور پر پیدا کیا جس کی تفصیل میں نے گزشتہ کئی کالموں میں بیان کیا ہے۔ یہ نوجوان جس کو اللہ تعالیٰ نے میرے لیے دینی مدرسے سے انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی تک پہنچنے کا ذریعہ بنایا افتخار احمد جان تھا جس کے ساتھ میری گہری دوستی پر بائیس سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔
افتخار احمد جان سے میرا تعارف شعبان المعظم 2003ء کو مسجد عمار بن یاسر ایف ٹین اسلام آباد میں ہوا تھا جہاں ہم دونوں جمعیت طلبہ عربیہ کے ڈیڑھ ماہ پر محیط سالانہ پروگرام "لغتہ العربیہ” میں شریک ہوئے تھے۔ اس وقت افتخار احمد جان جامعہ تفہیم القرآن مردان اور میں مرکز علوم اسلامیہ راحت آباد پشاور میں پڑھ رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ جمعیت طلبہ عربیہ جو کہ دینی مدارس کی ملک گیر طلبہ تنظیم ہے سے بطور رفقاء منسلک تھے وہ دن اور آج کا دن وہ میرا ایسا گہرا جگری، قلبی، روحانی، نظریاتی، نسبی اور جذباتی دوست بن گیا ہیں جیسا کہ ایک جان دو قالب۔ وہ باہمت، بے باک، خوش مزاج، ہنس مکھ، متحرک، پر امید، سوشل ورکر، علم کا متلاشی، علماء کا قدردان، دلائل سے بحث کرنے پر قادر، بختہ جماعتی (رکن جماعت اسلامی پاکستان)، ایک دانشمند مشیر، ایک مخلص مددگار اور کبھی کسی پر بوجھ نہ بننے والا خوددار اور وفادار ساتھی ہے۔
افتخار احمد جان جس کی قامت پست لیکن استقامت بلند، جس کی رنگت گہری لیکن نیت روشن، جس کی کامیابیاں محدود لیکن جدوجہد لامحدود ہے۔ جذبوں، ولولوں، تمناؤں، حوصلوں اور امیدوں سے بھرا وہ مضبوط چٹان ہے جس کو زندگی کے کسی اتار چڑھاؤ، ناموافق حالات، جبر، دباؤ یا مایوسی نے پل بھر کے لیے بھی نہیں ہلایا۔ وہ خوش مزاج اتنا کہ جب ہنسانے پہ ائے تو بس ہنساتا ہی چلا جائے، وہ سنجیدہ اتنا کہ جب کسی سنجیدہ موضوع پہ زبان کھولیں تو پل بھر کے لیے بھی ادھر ادھر نہ ہونے پائے، وہ مستقل مزاج اتنا کہ کئی ناکامیوں سے گزرنے کے باوجود بھی کسی نئی کامیابی کے لیے ہر دم بے چین اور متحرک نظر آتا ہے۔
افتخار احمد جان عالم دین، ایم اے اسلامیات، کئی برس تک بطورِ معلم خدمات انجام دینے والے، تلاش معاش کے سلسلے میں لیبیا جیسے خطرناک ملک تک کا سفر کرنے والے، شعبہ طب سے برسوں منسلک رہنے والے، 2002ء میں والد محترم کی وفات پر خاندان کی بھاری ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے نبھانے والے گوں ان حالات میں اسے اپنے عزیزوں کی شفقت بھی برابر حاصل تھی لیکن پھر بھی گھر میں بڑے ہونے کے ناطے مشکل حالات کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا۔ آج وہ چار بیٹوں کا شفیق باپ، دو انجینئر بھائیوں کا سرپرست، پانچ بہنوں کا مشفق بھائی، اپنی بزرگ والدہ ماجدہ کا خدمت گار و تابعدار بیٹے اور اپنے ایک قریبی دوست سلمان فاروق کے ساتھ میڈیسن کی مارکیٹنگ میں سرگرم عمل شاہراہِ حیات پہ کامیابی کے لیے ہر دم کچھ نہ کچھ کرنے، کچھ نہ کچھ سوچنے اور بہت کچھ کر گزرنے کے لیے آمادہ اور تیار نظر آرہا ہے (چند ماہ قبل موصوف سعودی عرب چلا گیا ہے جہاں ایک کمپنی سے منسلک ہوگیا)۔
افتخار احمد جان کو بوجوہ معاشی اور سماجی آزادی میسر نہیں۔ وہ ہر چھوٹے بڑے معاملے میں دوسروں کی طرف دیکھنے اور ان کی مرضی کو اپنی منشاء پر ترجیح دینے کے لیے مجبور ہے لیکن ایسے حالات میں بھی وہ صبر اور ہمت سے کام لے کر اعتدال کے دامن کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ وہ انتہاؤں سے دور اور راہِ اعتدال پر دلجمعی سے گامزن ہے۔ وہ مایوس ہے نہ بیزار، اشتعال میں آتا ہے نہ نفرت کی وادی میں جاتا ہے، وہ پیہم عمل پر یقین رکھتا ہے اور دھیرے دھیرے آگے بڑھتا ہے۔ محنت، مطالعہ، عبادات، مشاورت اور اجتماعیت پسندی وہ بنیادی وسائل ہیں جن سے افتخار احمد جان کارگاہ حیات میں برابر کام لیتا ہے۔ وہ ایک بہترین دوست، ایک مہربان ساتھی، ایک بااعتماد شراکت دار اور ایک جذباتی (جنونی نہیں) سیاسی کارکن ہے۔ مجھے امید ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور انہیں اوصاف کی بدولت وہ کامیابیاں بھی سمیٹ لے گا جن سے ابھی تک اس کا دامن خالی ہے۔
ہم نے بے شمار راتیں ایک چھت کے نیچے بسر کیے ہیں، لاتعداد دعوتیں ایک ہی دسترخوان پر اڑائی ہیں، حساب میں نہ آنے والے پروگراموں اور سٹڈی سرکلز میں شریک ہوئے ہیں، مختلف علمی، فکری، تاریخی، سماجی اور سیاسی موضوعات پر زور بیان آزمایا ہے۔ طویل اور قلیل فاصلوں والے اسفار اکھٹے طے کیے ہیں ایسے تمام مواقع پر ہم ایک دوسرے کے لیے حقیقی خوشی اور سکون کا باعث بنے ہیں۔ ہم میں بہت سارے قدریں، جذبات، خیالات اور نظریات مشترک ہیں۔ مثلاً صابرانہ اور شاکرانہ روش، بے ضرری، اسلامی نظام زندگی کا قیام، مولانا مودودی رحمہ اللہ سے بے انتہا محبت و عقیدت، مطالعہ و مباحثہ، سیاحت و چہل قدمی، تکلفات سے بے نیاز طرزِ زندگی، قوموں کی آبادی اور بربادی میں لیڈر شپ کے فیصلہ کن کردار پر اتفاق وغیرہ ایسے معاملات ہیں جن میں ہمارا نقطہ نظر ایک دوسرے سے قریب تر ہے۔ ہماری قربت میں ایک دوسرے کے لیے حلاوت کا بھرپور احساس ہر دم تازہ رہتا ہے ایسا بھی نہیں کہ ہم ایک دوسرے کا تنقیدی جائزہ بالکل نہیں لے رہے اللہ تعالیٰ کا شکر ہے ہم موقع و محل کے مطابق ایک دوسرے کو خیر خواہی کا مشورہ دیتے اور نصیحت کرتے رہتے ہیں۔
معروف شاعر شیخ ابراہیم ذوق کا ایک مقبول شعر ہے کہ
اے ذوق کسی ہمدمِ دیرینہ کا ملنا
بہتر ہے.! ملاقات مسیحاوخضرسے
اس شعر میں ان لوگوں کے جذبات کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے جن کے قلوب باہم پیوست اور اجسام کچھ فاصلے پر واقع ہوں۔ افتخار احمد جان جمعہ (کچھ عرصہ قبل کی بات ہے) کو ہمارے گھر اسلام آباد تشریف لائے جس سے ہم دونوں کو وہ موقع میسر آیا کہ کچھ دیر کے لیے ہی سہی لیکن ماضی کی یادوں اور مستقبل کے عزائم میں غوطہ زن ہو جائیں۔ اسے اچانک اپنے پاس دیکھ کر سچ یہ ہے کہ بے حد خوشی محسوس ہوئی۔ ہم نے مدارس میں گزرے اوقات اور احوال کا مزے لے لے کر تذکرہ کیا، بعض کاروباری آئیڈیاز زیر بحث لائیں، کھل کر گپ شپ کی، گلوبل انٹرنیشنل کنسلٹنسی سے سرینا ہوٹل میں مشاورت کی، لنڈے بازار کا دورہ کیا، جماعت اسلامی اسلام آباد کے دفتر حاضری دی اور موجود ذمہ داروں سے ملاقات بھی کی، فیصل مسجد گیے، ضیاء الحق کے قبر پر فاتحہ پڑھنے اور ان کی سیاست اور کردار کے بعض پہلوؤں پر روشنی ڈالی، کویت ہاسٹل میں دوستوں (الفت، حسن وغیرہ) اور کزن (سید وقار احمد شاہ جان) سے ملاقات اور گپ شپ کے علاوہ ان کی مخلصانہ مہمان نوازی سے خوب لطف اندوز ہوئے، سینٹورس بھی وزٹ کیا، رات کا کھانا سیور فوڈز سے کھایا جو ہم دونوں کا من پسند کھاجا ہے۔ اسلام آباد کے ماحول، سرسبزی، پہاڑیوں، نظم و ضبط، رونق اور چہل پہل، صفائی ستھرائی اور خاموشی میں موجود حسن اور سکون کو نہ صرف محسوس کیا بلکہ فراخدلی سے تعریف بھی کی۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی بے حد مختصر اور تیزی سے گزرنے والی ہے یہ اچھائی، سچائی، خلوص، خوشی اور باہم خیر خواہی سے بسر ہو جائے تو کیا ہی بات ہے۔ دعا ہے اللہ تعالیٰ افتخار احمد جان کو دین و دنیا کی تمام سعادتیں نصیب فرمائے اور اس پر اہل خانہ سمیت اپنی رحمت کا سایہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے دراز رکھے۔