جنریشن گیپ اور میرے ادھورے خواب

ساجدہ ایک ذہین اور باصلاحیت لڑکی تھی، جس کے خواب بلند اور حوصلے جوان تھے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں اُڑنا چاہتی تھی، اپنے قدموں پر کھڑا ہونا چاہتی تھی۔ اس کے کچھ ادھورے خواب تھے جو اسے مسلسل آگے بڑھنے، کچھ بننے اور کچھ کر دکھانے پر اُکساتے تھے۔ لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ خوابوں کی ایک قیمت بھی ہوتی ہے اور بعض اوقات وہ قیمت بہت بھاری ہوتی ہے۔

بالآخر، ایک دن اُس نے ہمت کر کے اپنے والدین کے سامنے پائلٹ بننے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مگر جواب اس کی امید کے برعکس تھا۔ والدین نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور روایتی سوچ کے تحت صاف انکار کر دیا۔ معاشرتی توقعات اور والدین کے نظریات نے اُس کے خوابوں کو چکناچور کر دیا۔ ان کا فیصلہ حتمی تھا:

"بس بہت پڑھ لیا، اب شادی کی فکر کرو۔”

یوں ساجدہ کی خواہشیں اور خواب وقت کی گرد میں دب گئے، ماضی کی تاریکی میں دفن ہو گئے۔

آج وہ پانچ بچوں کی ماں ہے، اور مشترکہ خاندانی نظام میں اپنی پہچان کی تلاش میں سرگرداں ہے۔ کہیں دل کے کسی کونے میں وہ خواب آج بھی سانس لیتے ہیں، مگر اب وہ صرف خاموش حسرت بن کر رہ گئے ہیں۔

یہ صرف ساجدہ کی کہانی نہیں، بلکہ ہمارے معاشرے کی ہر دوسری لڑکی یا نوجوان کی داستان ہے، جہاں نسلوں کے درمیان بڑھتا ہوا ذہنی فاصلہ جسے ہم ’جنریشن گیپ‘ کہتے ہیں ناقابلِ فہم رکاوٹ بن چکا ہے۔ والدین اور اولاد کے درمیان رویوں، ترجیحات، سوچنے کے انداز اور زندگی کے اصولوں میں اتنا تضاد پیدا ہو چکا ہے کہ دونوں ایک ہی چھت تلے رہ کر بھی ایک دوسرے کی بات سمجھنے سے قاصر ہیں۔

گزشتہ نسل، جسے ہم "جنریشن ایکس” کے نام سے جانتے ہیں، نے ایک ایسا دور دیکھا ہے جہاں خط کے جواب کے لیے ہفتوں انتظار کیا جاتا تھا، رشتے وقت اور توجہ سے پروان چڑھتے تھے، اور کامیابی کا معیار سرکاری ملازمت یا سادگی میں پوشیدہ تھا۔ ان کا بچپن کتابوں، محلے داری، جسمانی کھیلوں اور ایک مضبوط خاندانی نظام میں گزرا۔ انہوں نے سادگی کے دَور سے لے کر ڈیجیٹل انقلاب تک کا سفر خاموشی سے طے کیا ہے۔ مگر آج وہ خود کو ایک ایسی دنیا میں پاتے ہیں جہاں جذبات کی گہرائی کی جگہ تصویری ایموجیز نے لے لی ہے، اور حقیقی رشتوں کی جگہ سوشل میڈیا کنکشنز نے لے لی ہے۔

دوسری طرف آج کی نسل، جو ٹیکنالوجی کے ساتھ پل رہی ہے، ان کے لیے فیصلے کی رفتار تیز ہے، معلومات کی دنیا انگلیوں کی پوروں پر ہے، اور ذاتی رائے و آزادی کا تصور سب سے مقدم ہے۔ انہیں لگتا ہے کہ پچھلی نسل ان کی سوچ کو سمجھنے سے قاصر ہے، جبکہ پرانی نسل کو شکایت ہے کہ نئی نسل بے ادب، خود سر اور جذبات سے خالی ہے۔

درحقیقت، دونوں نسلیں اپنی اپنی جگہ سچ کہہ رہی ہیں، مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ درمیان میں ایک پل کی کمی ہے ،” سمجھنے، سننے، برداشت کرنے اور جگہ دینے کا پل”۔ نئی نسل کو جہاں بڑوں کے تجربات سے سیکھنا چاہیے، وہیں بڑوں کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو اپنی سوچ، خواہشات اور جذبات کے اظہار کا حق دیں۔

والدین کو ایک داروغہ نہیں بلکہ ایک دوست بن کر اولاد کے قریب آنا چاہیے تاکہ وہ ان سے اپنے خواب اور مسائل شیئر کر سکیں۔

اس تیز رفتار دور میں اگر ہم واقعی اس ’جنریشن گیپ‘ کو کم کرنا چاہتے ہیں تو ضروری ہے کہ ہم ایک دوسرے کے مقام، زمانے اور ضرورت کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ نہ پرانی نسل کو دیوار سے لگائیں، نہ نئی نسل کی پرواز کے پر کاٹیں۔ تعلیم، برداشت اور محبت کے ساتھ، ہم ماضی، حال اور مستقبل کے درمیان ایک مضبوط رشتہ قائم کر سکتے ہیں۔ یہی ہمارے معاشرے کی بقاء اور ترقی کی ضمانت ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے