نسلِ جدید کی خوبیاں

نسلِ جدید کے نفسیات اور رویّوں پر اگر نگاہ ڈالی جائے تو ان میں بہت سی کارآمد خوبیاں ہمیں نظر آتی ہیں۔

موجودہ نسل کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ انقلابی ذہنیت کی حامل ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بآسانی لگایا جا سکتا ہے کہ جو بھی انقلاب کا نعرہ لگاتا ہے، اس کے گرد سب سے پہلے اور تعداد میں سب سے زیادہ نوجوان ہی جمع ہوجاتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ نعرہ لگانے والے کی صلاحیت، قابلیت اور بااعتماد ہونا کس حد تک انقلاب کے لیے موزوں ہے، لیکن نوجوان بہرحال انقلاب ہی کے لیے ان کے گرد جمع ہوتے ہیں۔ اگر کوئی نوجوانوں کے اس جذبے کا استحصال نہ کرے تو یقیناً یہ جذبہ انقلاب کا محرک بن سکتا ہے۔

نوجوان نسل کی ایک اور اچھی عادت سوال کرنے کی ہے۔ اگرچہ اس ضمن میں ان کی طرف سے کبھی کبھی ایسے سوالات کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جن کے سر پیر نہیں ہوتے، لیکن اس کے باوجود سوال کرنے کی عادت بذاتِ خود ایک مثبت رویہ ہے۔ ایک اور اہم بات اس حوالے سے یہ ہے کہ جہاں معاشرے میں کئی قسم کی دونمبری پائی جاتی ہو، اُسے نوجوان بڑے عمدہ طریقے سے ایکسپوز کرتے ہیں۔ اگرچہ اس میدان میں نوجوان اکثر افراط و تفریط کا شکار ہوکر اعتدال پر قائم نہیں رہتے، لیکن معاشرے کے لیے اس میں مثبت پہلو بھی ہے۔

ایک اور قیمتی چیز جو موجودہ نوجوانوں میں نوٹ کی گئی ہے، وہ بحث کرنا ہے۔ چونکہ بحث علم اور مسائل کے حل کا اہم ذریعہ ہے، اس لیے یہ خوبی معاشرے کے مسائل کے حل اور درست علم کے عام ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

اس حوالے سے جو فکر کرنے کی بات ہے، وہ نوجوانوں میں ان خوبیوں کا نوخیز ہونا ہے۔ اور اس نوخیز صفت کی وجہ سے یہ خوبیاں منفی رنگ میں بھی سامنے آ سکتی ہیں، بلکہ سوسائٹی میں نوجوانوں کے ان خوبیوں کے منفی اثرات دکھائی بھی دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے نوجوانوں کے والدین اور اساتذہ کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ انہیں یہ خوبیاں استعمال کرنے کے مثبت دائرے بتائیں اور ان کے منفی سمت میں استعمال ہونے کے نقصانات سے آگاہ کریں۔

مثلاً انہیں یہ سمجھایا جائے کہ جب تم دونمبری کو ایکسپوز کرتے ہو تو اس دوران کن کن آداب و روایات کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہیں اصولی طور پر سمجھایا جائے کہ کس قسم کی دونمبری کو ایکسپوز کرنے کی ضرورت ہوتی ہے اور کس قسم پر پردہ ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپ کے دونمبری کو ایکسپوز کرنے کے نتیجے میں معاشرے پر کیا مثبت اثرات مرتب ہوں گے، اور بلا ضرورت کسی کو ایکسپوز کرنا بری بات ہے۔ الغرض، انہیں وہ حدیں بتائی جائیں اور اس حوالے سے عملی تربیت بھی دی جائے تاکہ ان کی یہ ایکسپوز کرنے کی خوبی منفی اثرات سے پاک رہے۔

اسی طرح انقلابی ذہنیت کو بھی تربیت دینے کی اشد ضرورت ہے۔ انہیں پہلے انقلاب کا مفہوم اور معقول طریقہ کار بتانے کی ضرورت ہے، پھر علمی اور عملی طور پر ایسے لیڈرز کی پہچان کرانے کی نوجوان نسل کو ضرورت ہے جو واقعی انقلاب لانے کے لیے مطلوبہ اوصاف کے حامل ہوں۔ نوجوانوں کے سامنے مخلص، ایماندار، اور حقیقی معنوں میں نیک راہنما کے اوصاف کو اس طریقے سے رکھنا چاہیے کہ مستقبل میں انقلاب کے نام پر کوئی انہیں ذاتی اغراض کے لیے استعمال نہ کر سکے۔ اس ضمن میں ان کے اندر پائیدار انقلاب اور وقتی طور پر شور مچانے میں فرق کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے۔

انہیں انقلاب کے مقاصد سے روشناس کرایا جائے، ایسا نہ ہو کہ ان کی توانائیاں ایسے انقلاب کے حصول میں صرف ہو جائیں جس کے مقاصد میں زندگی کی معنویت مفقود ہو۔

جہاں تک سوال کرنے کی خوبی میں نکھار لانے کا تعلق ہے تو اس خوبی کو پراثر بنانے کے لیے بھی نوجوان نسل کو سوال کرنے کا موقع، طریقہ اور حساس سوالات کی نوعیت سے باخبر کرنا چاہیے تاکہ ان کے سوال سے ماحول پر مثبت اثرات مرتب ہوں۔ انہیں یہ سمجھایا جائے کہ کسی چیز کی بنیاد سے لاعلم ہونے کی صورت میں جزیات کے بارے میں سوال کرنا علم کا ذریعہ نہیں، بلکہ سوالات کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے کی ابتداء ہے۔ نوجوانوں کو اس بات کی عملی مشق کرائی جائے کہ کسی concept کو سیکھنے کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے انسان اس کے مقدمات اور مقدمات کے دلائل کو سمجھے، اس کے بعد جزیات پر ان بنیادی اصولوں کو اپلائی کرے۔

نوجوانوں کی خوبیوں میں ہم نے بحث کرنے کی خوبی کو بھی شمار کیا ہے۔ یہ خوبی اگرچہ اپنی ذات میں علم اور مسائل کے حل کا بہترین ذریعہ ہے، مگر بے جا ابحاث کرنا یا دلیل سے خالی بحثوں میں پڑنا صلاحیت کا ضیاع بھی ہے۔ والدین اور اساتذہ کے ذمے ہے کہ وہ نئی نسل کو دلیل سے قائل کرنا اور دلیل کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا سکھائیں۔ نوجوانوں کو مثبت مکالمے کے اصولوں سے روشناس کرانا بڑوں ہی کی ذمہ داری ہے۔مگر اس process میں نوجوانوں کا کردار بھی بہت اہم ہے۔ نوجوانوں کو اپنی پوزیشن ٹھیک طرح سمجھنی ہوگی۔

انہیں انقلاب کا ساتھ دیتے وقت، دونمبری کو ایکسپوز کرتے وقت، سوال اور بحث کرتے وقت یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ہم ابھی علم، تجربے اور عملی میدان میں نوخیز ہیں۔ ہم عمر کے جذباتی دور سے گزر رہے ہیں۔ اس گزرگاہ کے کیل کانٹوں سے جس طرح واقفیت بڑوں کو ہے، اسی طرح کی واقفیت ہمارے پاس نہیں ہے۔ اگر نوجوان اس حقیقت پسندی کا مظاہرہ کریں اور کسی مصنوعی خول میں اپنے آپ کو بند کرنے کی کوشش نہ کریں تو ان کی یہ خوبیاں ان کی ذات اور اجتماعیت کے لیے مفید ثابت ہوں گی۔ کیونکہ اس حقیقت پسندانہ رویے کے نتیجے میں وہ اپنے فیصلوں میں اس فطری طریقہ کار کی طرف رجوع کریں گے، جس کا اختیار کرنا درست فیصلوں کے لیے ناگزیر ہے، جیسے والدین، اساتذہ اور اہل علم سے سیکھنا اور رہنمائی لینا وغیرہ۔

یہ ایسی خوبیاں ہیں جن سے اگر ہم بالفعل مستفید ہوئے تو بہت ہی تھوڑے عرصے میں ہم اپنے ماحول میں ان کے مثبت اور خوشگوار اثرات کو دیکھ سکیں گے۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اب تک ہم نوجوانوں کی ان خوبیوں سے فائدہ حاصل کیوں نہ کر سکے؟

چونکہ ہمارا معاشرہ مجموعی طور پر مغربی افکار اور تہذیب کے زیرِ اثر ہے، اور خصوصاً وہ نوجوان جو تعلیم یافتہ ہیں اور ان خوبیوں سے مزین ہیں، وہ تو مغربی افکار اور تہذیب کو اپنانے کو امرِ لازمی سمجھتے ہیں۔ جبکہ مغربی تہذیب کے پاس نہ انقلاب کا کوئی متعین اور متفقہ معنی و مفہوم ہے، اور نہ ہی اس کے پاس انقلاب کے حصول کے لیے کوئی اصول ہیں۔ بلکہ اس کے برعکس، اس حوالے سے مغربی دنیا میں ہمیں ژولیدہ فکری اور انتشار نظر آتا ہے۔ کوئی ریاست کو خدا بنانے کو انقلاب کہتا ہے اور کوئی فرد کی بے لگام آزادی کا قائل ہے، اور وہ ان مقاصد کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز ذرائع کے استعمال کو نہ صرف جائز خیال کرتے ہیں بلکہ جھوٹ، فریب، ظلم جیسے معاشرتی برائیوں کو عین انقلاب کے لوازمات میں شمار کرتے ہیں۔

لہٰذا مغربی معاشرے کے لیے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ اپنی نوجوان نسل کی اس حوالے سے تربیت کر سکے کیونکہ اس کے پاس سرے سے وہ بنیادیں ہی نہیں جن کی مدد سے وہ اپنی نئی نسل کو تیار کر سکیں۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو مغرب کا انقلاب کے حوالے سے اپنے نوجوانوں کو آزاد چھوڑنا ایک فطری امر ہے۔

اسی طرح غلطیوں کو ایکسپوز کرنے کے پہلو کو لے لیں: مغربی تہذیب میں اچھائی اور برائی کی کوئی خاص متعین تعریف نہیں ہے۔ مغربی فکر قطعی طور پر اس وسعت سے محروم ہے کہ وہ نوجوانوں کو غلطیوں کے ایکسپوز کرنے کے اصول بتائے کیونکہ غلطی اور دونمبری کو جانچنے کے لیے ان کے پاس کوئی متعین پیمانہ نہیں ہے۔ لہٰذا ہر شخص وہاں آزاد ہے کہ کس چیز کو غلطی کہہ کر ایکسپوز کرے اور کس چیز کو نیکی تصور کر کے سپورٹ کرے۔ نہ ہی ان کے پاس غلطیوں کو ایکسپوز کرنے کے لیے کوئی اصول ہیں، اور نہ ہی کسی شخص یا بات کو سپورٹ کرنے کے لیے کوئی واضح اور ٹھوس بنیادیں موجود ہیں۔

جہاں تک سوال اور بحث کا تعلق ہے، اس ضمن میں بھی مغربی تہذیب کے پاس کوئی مدلل اور عقلی دائرہ نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ طے کیا جا سکے کہ کہاں بحث اور سوال کرنا ضروری ہے اور کہاں پر بحث و سوال کرنا بے معنی اور فضول ہے۔ جو لوگ مغربی فکر و تہذیب سے شعوری طور پر متاثر ہیں یا فیشن کے طور پر اس تہذیب کے ثناخواں ہیں، ان بے چاروں کے ساتھ مسئلہ یہ ہے کہ وہ اس فکر و تہذیب کو اس سوسائٹی میں اپنانے کی کوشش کرتے ہیں جہاں پر ہر شے کے تولنے اور ناپنے کا ایک مدلل اور معقول پیمانہ ہے۔

یہاں مغربی طرز کی آزادی کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی اجازت۔ مغربی تہذیب و فکر کو اجازت نہ دینے کی وجہ اسلامی تہذیب و فکر کی تنگ دامنی نہیں، بلکہ یہ مغربی تہذیب و فکر کی کمزوری ہے کہ اسلام جیسے آفاقی دین میں یہ اپنے لیے جگہ بنانے میں ناکام ہے۔ مسلمانوں کے معاشرے میں مغربی رویوں کو اپنانے کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی دن کی روشنی میں ایک چراغ روشن کرے اور لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کرے کہ یہ جو زمین سے آسمان تک تمہیں روشنی دکھائی دے رہی ہے، یہ میرے ہی اس چھوٹے سے چراغ کی بدولت ہے۔ ظاہر ہے کہ اس بندے کے اس صریح ناراوا رویے سے کوئی معقول شخص اتفاق نہیں کر سکتا، اور نتیجتاً وہ پورے معاشرے کے ساتھ الجھے گا اور معاشرے میں باہمی تصادم کی فضا پیدا ہوگی۔

اس تصادم کی بنیادی ذمہ داری سورج کے مقابلے میں اپنے چراغ کو فوقیت دینے والے شخص ہی پر ہوگی۔ مندرجہ بالا دلائل اور مذکورہ مثال سے یہ بات آسانی سے سمجھ میں آتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں تصادم کی فضا قائم کرنے میں انہی مغربی زدہ مفکرین اور پیروکاروں کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ کیونکہ وہ ایک ایسی معاشرتی سوچ اور تہذیب کو اس معاشرے میں practice کرنے کی کوشش کرتے ہیں جس میں اپنے مدلل، معقول اور ٹھوس علمی دلائل کی بنیاد پر سرے سے ایسی سوچ اور عملی رویے کی ضرورت ہی نہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے