ہمیں ہمارے مسائل کے حل کے بجائے ہر قدم پر ایک نئے کاغذی جال میں جکڑ دیا جاتا ہے۔ ایک ایسی ہی الجھن کا نام ہے: ڈومیسائل۔ یہ ایک سرکاری دستاویز ہے جو آپ کے "مستقل پتے” کو ثابت کرتی ہے، مگر اس کے پیچھے کی حقیقت بس اتنی سی نہیں۔ یہ ایک احمقانہ رکاوٹ ہے، ایک امتحان سے پہلے دوسرا امتحان۔ ایک ایسی دیوار جو طالبِ علم، امیدوار یا عام شہری کے سامنے کھڑی کر دی گئی ہے، جس کے پیچھے اصل قابلیت، ذہانت اور محنت چھپ جاتی ہے، اور کسی کو نظر نہیں آ سکتی یا شاید ایک مخصوص طبقہ دیکھنا ہی نہیں چاہتا۔
ڈومیسائل کیوں بنوایا جاتا ہے؟
کیونکہ ریاست کو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ آپ کس صوبے یا ضلع کے ہیں، اور آپ کو کس خانے میں فٹ کیا جا سکتا ہے۔ آپ کی خوبی، صلاحیت، کردار یا وژن اہم نہیں۔ اہم یہ ہے کہ آپ کا پتہ کہاں کا ہے۔ نوکریاں کوٹہ سسٹم پر دی جاتی ہیں، داخلے مخصوص علاقوں کے لیے مختص ہوتے ہیں، اور آپ کی محنت و قابلیت ڈومیسائل کے نیچے دب کر رہ جاتی ہے۔
ہم نے قابلیت کا جنازہ نکال کر اسے سرکاری مہروں، کاغذی فائلوں اور تھانے کچہری کے چکر میں دفن کر دیا ہے۔ ڈومیسائل کے حصول کے لیے سرکاری دفاتر کی خاک چھاننا، لمبی قطاریں، رشوت، سفارش، جھوٹے پتہ جات، اور پھر بھی "نامکمل کاغذات” کا راگ سننا — یہ سب کچھ ہمارے اس غیر ضروری نظام کی تلخ حقیقتیں ہیں۔
دنیا میرٹ، ذہانت، مقابلہ اور جدت پر یقین رکھتی ہے، لیکن ہم آج بھی علاقائی شناخت کے سرٹیفکیٹ کی بیساکھیوں پر لڑکھڑا رہے ہیں۔
کتنے ہی طالب علموں کا خواب صرف اس لیے چکنا چور ہوا ہو گا کہ وہ اِس ضلعے کے بجائے اُس ضلعے کے ہیں؟
کتنے ہی محنتی نوجوان صرف اس لیے نظرانداز ہوئے ہوں گے کہ ان کا ڈومیسائل اس مخصوص علاقے کا نہیں جہاں نشست خالی ہے؟
کتنے ہی ذہین طلبہ جنہوں نے میٹرک میں ٹاپ کیا، صرف اس لیے مسترد ہوئے کہ ان کے والد کا تبادلہ کئی بار ہوا اور مستقل پتہ کسی ایک ضلع میں نہ رہا؟
کیا ایک محنت کش نوجوان جو بچپن سے کسی شہر میں پل بڑھ رہا ہے، صرف اس لیے پیچھے رہ جائے کہ اس کے شناختی کارڈ پر پتہ کسی اور ضلع کا ہے؟
ڈومیسائل کا وجود صرف شناخت کا مسئلہ نہیں بلکہ سماجی ناانصافی اور علاقائی تعصب کا استعارہ ہے۔ اگر میرٹ واقعی ہمارے نظام کا اصول اور ترجیح ہوتا تو پھر ڈومیسائل جیسے فرسودہ، تفریق پر مبنی کاغذی ہتھیار کو اب تک ختم ہو جانا چاہیے تھا۔
ہمارا مستقبل ان لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہیے جن کے پاس قابلیت ہے، نہ کہ ان کے جو "صحیح” ضلع میں پیدا ہوئے۔ ہم ذہنی مجہولوں اور مجذوبوں کی طرح ایک کاغذ پر یقین کرتے ہیں، انسان کی صلاحیت پر نہیں۔
قابلیت کی پیٹھ میں پیوست اس نامعقول ڈومیسائل کا خاتمہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ ۔۔۔۔