"ارے! لڑکی ہو اور اسکوٹی چلا رہی ہو؟ ایسا نہیں ہونا چاہیے!”
"یہ کیا پہناوا ہے؟ ہیلمٹ کیوں نہیں لگا رہی؟”
"کیا گھر والے جانتے ہیں کہ تم کہاں جا رہی ہو؟”
یہ وہ آوازیں ہیں جو ہر اس لڑکی کو سننے کو ملتی ہیں جو اسکوٹی چلاتی ہے۔ شاید پڑھنے میں یہ باتیں سخت یا پریشان کن لگیں، لیکن جو لڑکیاں روزانہ سڑکوں پر اپنی اسکوٹی لے کر نکلتی ہیں، وہ ہزاروں بار یہی باتیں سن چکی ہوتی ہیں۔ یہ آوازیں ان کے حوصلے کو کمزور نہیں کرتیں، بلکہ ان کے عزم کو اور مضبوط کر دیتی ہیں۔ پھر بھی، یہ صرف وہی آوازیں نہیں جن کا سامنا کرنا پڑتا ہے، بلکہ سڑکوں پر چھپے اور بھی کئی چیلنجز ہوتے ہیں۔
اسلام آباد جیسے شہر میں جہاں ترقی اور تعلیم کی باتیں ہوتی ہیں، وہاں اسکوٹی چلانے والی لڑکیوں کے لیے سڑکوں پر چلنا کوئی آسان کام نہیں۔ ان کی ہر روز کی یہ چھوٹی بڑی جدوجہد درحقیقت خودمختاری اور آزادی کی جنگ ہے۔
سب سے بڑا مسئلہ سڑکوں پر ہراسانی ہے۔ لوگ گھورنے سے لے کر آوازیں کسنے، پیچھا کرنے اور جان بوجھ کر پریشان کرنے تک کے واقعات روزمرہ کی کہانی ہیں۔ خاص طور پر شام کے بعد، جب سڑکیں سنسان ہوتی ہیں، لڑکیوں کا خوف بڑھ جاتا ہے۔ یہ خوف اور دباؤ ان کی خوداعتمادی کو کمزور کر دیتا ہے۔
اس کے علاوہ، پولیس کا غیر مناسب رویہ بھی ایک رکاوٹ ہے۔ کئی بار بغیر وجہ روک کر کاغذات چیک کرنا، اور لڑکیوں سے خاص سوالات کرنا ان کے اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔ وہ محسوس کرتی ہیں کہ صرف ان کی جنس کی وجہ سے انہیں الگ سلوک کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سڑکوں کی حالت بھی ان کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہے۔ خراب سڑکیں، گڑھے، ناقص سگنل اور ٹریفک کا بے ترتیبی ان کی حفاظت کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ علاوہ ازیں، کوئی خاص خواتین کے لیے الگ لین یا سہولت موجود نہیں جس سے وہ محفوظ محسوس کر سکیں۔
لباس اور ہیلمٹ کے حوالے سے معاشرتی دباؤ بھی ان کی راہ میں رکاوٹ ہے۔ لوگ اکثر ان کی پوشاک پر سوال اٹھاتے ہیں یا طنز کرتے ہیں، جس سے وہ پریشان ہو جاتی ہیں اور کبھی کبھار اپنے حق سے پیچھے ہٹ جاتی ہیں۔
خاندان کی طرف سے بھی اکثر مخالفت ہوتی ہے۔ "لوگ کیا کہیں گے؟”، "یہ کام لڑکیوں کے لیے مناسب نہیں” جیسے جملے ان کے حوصلے کو کمزور کرتے ہیں۔ لیکن پھر بھی، وہ اپنے خوابوں کو زندہ رکھتی ہیں اور سڑکوں پر نکلتی ہیں۔
ان تمام مشکلات کے باوجود، اسلام آباد کی سڑکوں پر اسکوٹی چلانے والی لڑکیاں اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ انہیں چاہیے کہ ان کے حوصلے کو سراہا جائے، ان کی حفاظت کی جائے، اور معاشرہ ایسے ماحول کے لیے کام کرے جہاں وہ بلا خوف اپنی زندگی گزار سکیں۔
آخر میں یہ سوال سوچنے پر مجبور کرتا ہے:
اگر یہی سڑکیں، یہی راستے، اور یہی شہر لڑکیوں کے لیے بھی وہی محبت، تحفظ اور عزت دے سکیں جو وہ خود اپنی اسکوٹی پر محسوس کرنا چاہتی ہیں، تو کیا ہم واقعی ترقی یافتہ معاشرہ نہیں بن جائیں گے؟