حقیقی انقلابی راہنما

جو شخص انقلاب کے لیے اٹھتا ہے، اُسے اُس سوسائٹی کے مثبت خیالات، رجحانات اور مثبت روایات کا عنوان ہونا چاہیے، جس کے لیے وہ انقلاب کا مطالبہ کر رہا ہو۔ تاکہ معاشرے میں اسے مجموعی قبولیت حاصل ہو سکے۔ سوسائٹی میں مقبولیت کے اور بھی ذرائع ہوتے ہیں، مگر ان ذرائع سے حاصل ہونے والی مقبولیت، قبولیت کی ضمانت نہیں ہوتی۔ مثلاً: کسی گروہ کو اپنی مقبولیت کے لیے ایسا ہدف بنانا کہ اُس کے مثبت پہلوؤں کو بھی منفی رنگ دے دیا جائے یہ رویہ وقتی طور پر زندہ باد کے نعرے تو دلا سکتا ہے، لیکن یہ معاشرے میں باہمی تناؤ کو جنم دیتا ہے، جس کے نتیجے میں معاشرہ مزید مسائل کا شکار ہو جاتا ہے۔ اور یوں پچھلے مسائل جوں کے توں رہ جاتے ہیں، بلکہ بعض اوقات تو جن مسائل کے حل کے لیے کوئی اٹھتا ہے، وہی ان مسائل کو مزید گھمبیر بنا دیتا ہے۔

انقلاب کا دعویٰ کرنے والا راہنما اپنے دعوے میں اُسی وقت سچا سمجھا جائے گا جب وہ معاشرے میں موجود مجموعی مثبت چیزوں کو اپنے دل و دماغ میں جذب کرے۔ ایسا راہنما درحقیقت ایک حقیقی راہنما اس لیے ہوتا ہے کہ جب وہ معاشرے میں موجود مختلف طبقات کی مثبت اقدار کا قائل اور حامل ہوگا تو لوگ اُس سے انہی اقدار کی بنیاد پر جڑ جائیں گے۔ اور جب کسی راہنما سے لوگوں کا تعلق مثبت بنیادوں پر قائم ہو، تو وہ تعلق ایک منظم اور فعال طاقت کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ یہی طاقت جب جماعت کی شکل میں انقلاب کی بات کرتی ہے تو وہ محض ایک دعویٰ نہیں رہتی، بلکہ انقلاب کی اذان بن جاتی ہے۔ جیسے اذان کے بعد نماز کا قیام لازمی ہوتا ہے، اسی طرح ان اصولوں کی بنیاد پر قائم ہونے والی جماعت انقلاب کی جانب ایک عملی اور خوشگوار پیش رفت ثابت ہوتی ہے۔

حقیقی انقلابی راہنما میں جہاں سوسائٹی کی مجموعی مثبت اقدار کے حوالے سے لچک ہونی چاہیے، وہاں اُسے کسی بھی فرد یا گروہ کی منفی آراء اور رجحانات کے حوالے سے سخت موقف اور ردعمل بھی رکھنا چاہیے۔ تاہم، اس ردعمل میں اُسے حکمت سے کام لینا ہوتا ہے تاکہ اس کا رویہ جوابی تشدد کی شکل اختیار نہ کرے۔ منفی رجحانات کے حوالے سے راہنما میں حساسیت اس لیے ضروری ہے کہ اگر وہ کسی ایک گروہ کی کسی منفی بات کو قبول کر لے، تو معاشرے کے دیگر طبقات کے لیے وہ راہنما ناقابلِ قبول ہو جائے گا۔ اسی طرح، ایسا راہنما جو کسی گروہ کے منفی رویّوں کو اپنا لے، وہ معاشرے میں پہلے سے موجود اختلافات کو مزید بڑھا کر انہیں عملی جنگ میں بدل دیتا ہے۔

یہ ایسی ہی مثال ہے جیسے کوئی شخص کسی جگہ گندگی صاف کرنا چاہے، تو وہ وہاں مزید گند ڈال کر گندگی ختم نہیں کر سکتا۔ اسی طرح، اگر انقلاب کے لیے اٹھنے والا راہنما کسی منفی چیز کو معاشرے سے لے کر اسے اپنا شعار بنا لیتا ہے، تو وہ دراصل پہلے سے موجود خرابیوں میں اضافہ کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے: راہنما کے لیے "صبر” ایک بنیادی صفت ہے اور یہ صفت خاص طور پر ایسے ہی مواقع پر کام آتی ہے جب لوگ منفی طریقوں سے وقتی ابھار پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر حقیقی راہنما وہی ہوتا ہے جو صبر کے ساتھ صرف مثبت اقدار کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔

یہی خوبیاں ہمیں حضور نبی کریم ﷺ کی سیرتِ طیبہ میں نظر آتی ہیں کہ آپؐ نے معاشرے میں موجود مثبت چیزوں کو نہ صرف برقرار رکھا، بلکہ خود بھی ان خوبیوں سے آراستہ تھے۔ مثلاً عرب معاشرے میں مہمان نوازی ایک اہم روایت تھی، اور آپؐ اس قدر سخی تھے کہ بہت سے لوگ صرف آپ کی سخاوت سے متاثر ہو کر آپ کے قریب آئے اور آپ کو اپنا ہادی و راہنما تسلیم کیا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کے ذہنوں میں تہذیبی طور پر یہ بات پہلے سے موجود تھی کہ مہمان نوازی اور سخاوت اعلیٰ صفات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب قیصرِ روم نے ابوسفیان سے نبی کریم ﷺ کے اخلاق کے بارے میں دریافت کیا، تو ابوسفیان نے ان خوبیوں کا برملا اعتراف کیا، جنہیں اُس زمانے میں بھی اعلیٰ انسانی صفات سمجھا جاتا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے