اسسٹنٹ کمشنر فتح جنگ محترمہ سورٹھ مبشر سے ایک گزارش

سب سے پہلے، تحصیل فتح جنگ میں بطور اسسٹنٹ کمشنر تعیناتی پر دلی مبارکباد قبول کیجیے۔ آپ جیسی تعلیم یافتہ، نوجوان انرجیٹک اور پرعزم خاتون کو اس عہدے پر دیکھ کر دل کو خوشی اور امید دونوں محسوس ہوتی ہیں۔ یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں — یہ ایک بھاری، باوقار اور عوامی خدمت سے جڑی ہوئی ذمہ داری ہے، جہاں محض فائلوں پر دستخط نہیں ہوتے بلکہ ایک پوری تحصیل کی دعائیں یا بددعائیں وابستہ ہوتی ہیں۔

فتح جنگ، جو سرکاری نقشوں میں ایک تحصیل کہلاتی ہے، اصل میں ایک پُر رونق، وسیع اور متنوع انسانی بستی ہے۔ 203 دیہات اور 23 یونین کونسلیں، ہزاروں افراد، سینکڑوں مسائل — اور یہ سب آخرکار آپ کے دفتر کی دہلیز تک آتے ہیں۔ آپ کی حیثیت صرف ایک انتظامی افسر کی نہیں بلکہ ایک سرکاری مسیحا کی سی ہے، جن سے لوگ اپنے دکھوں کا مداوا چاہتے ہیں۔

یقین ہے کہ آپ اپنی صلاحیتوں، جذبے اور تجربے سے ان ذمہ داریوں کو بخوبی نبھائیں گی۔ تاہم، ایک سادہ سی گزارش ہے، جو روز آپ کے دفتر میں آنے والے ان سائلین کے تجربات سے جڑی ہے، جو فائلیں سنبھالے، امیدیں باندھے، کبھی پیدل، کبھی سوزوکی، کبھی موٹر سائیکل یا بس پر بیٹھ کر کئی کئی کلومیٹر طے کرکے آپ کے دفتر پہنچتے ہیں۔

کوئی اسلام آباد سے آتا ہے، کوئی اٹک سے، کوئی کسی دور دراز گاؤں سے — کوئی نوجوان، کوئی بزرگ، کوئی بیمار، کوئی لاچار۔ کسی کو صرف دستخط درکار ہوتے ہیں، کسی کی زمین کا فرد آپ کی منظوری کا محتاج ہوتا ہے، کوئی پٹواری سے تنگ آ کر آیا ہوتا ہے، اور کوئی وراثتی کاغذات کے سلسلے میں۔ لیکن جب وہ دفتر پہنچ کر اپ کے سٹاف سے یہ سنیں کہ:

"نہیں پتہ میڈم کب آئیں گی۔۔۔ اگر میٹنگ کے لیے اٹک چلی گئیں تو شاید آج نہ آئیں۔۔۔”

تو ان کے چہروں سے امید چھن جاتی ہے۔ کچھ لوگ یہ جملہ سن کر وہیں بیٹھ جاتے ہیں — شاید بیٹھے رہنے سے کوئی معجزہ ہو جائے — اور کچھ خاموشی سے اگلے دن آنے کا ارادہ لے کر واپس لوٹ جاتے ہیں۔

دفتر کے باہر بیٹھنے کا کوئی باقاعدہ انتظام نہیں۔ صرف چند نیلے رنگ کی پلاسٹک کی کرسیاں ہیں، جن میں سے کچھ ٹوٹی ہوئی ہیں، کچھ پر بارش کا پانی جمع ہوتا ہے، اور اوپر لگے پنکھے کے بارے میں سٹاف کہتا ہے کہ وہ "جل چکا ہے”۔ ایسے میں لوگ پسینے سے شرابور، اپنی فائلوں سے خود کو ہوا دے رہے ہوتے ہیں۔

اور سب سے بڑی اذیت یہ ہے کہ انہیں یہ نہیں پتہ ہوتا کہ انتظار کریں یا واپس چلے جائیں۔ دفتر آپ کے لیے ایک معمول کی جگہ ہے، لیکن سائل کے لیے وہ آخری امید ہوتی ہے۔

محترمہ، یہی وجہ ہے آپ سے گزارش کی کہ عوامی ملاقات کے لیے روزانہ کا ایک واضح، مقررہ وقت طے کر دیں — چاہے ایک گھنٹہ، یا دو گھنٹے، جتنا ممکن ہو۔ یہ وقت باقاعدہ طور پر تحصیل کے تمام گاؤں، یونین کونسلوں، اور عوامی مقامات پر مشتہر کیا جائے، تاکہ لوگوں کو علم ہو کہ کب آنا ہے اور آپ سے ملاقات یقینی ہوگی۔

آپ کے دفتر سے قریبی پبلک ٹرانسپورٹ اسٹاپ کم از کم ڈیڑھ سے دو کلومیٹر دور ہے۔ ایسے میں جو بزرگ حضرات پبلک ٹرانسپورٹ سے آتے ہیں، وہ اس شدید گرمی میں پیدل چل کر دفتر پہنچتے ہیں۔ اگر انہیں معلوم ہو کہ اس مخصوص وقت میں آپ خود موجود ہوں گی، تو نہ صرف ان کا سفر با مقصد ہو گا، بلکہ ان کے اندر اس نظام پر اعتماد بھی بحال ہو گا۔

اور اس مخصوص وقت میں اگر کوئی اعلیٰ افسر بھی میٹنگ کے لیے بلائے، تو آپ فخر سے کہہ سکیں:

"یہ وقت میں نے اپنی عوام کے لیے مخصوص کیا ہے۔”
اگرچہ ہماری مخصوص بیوروکریسی میں یہ ایک بڑا مشکل کام ہوگا اپ کے لیے۔

یہ ایک چھوٹا سا قدم ہو گا — لیکن اس کا اثر بہت بڑا۔ یہ فیصلہ فتح جنگ کو پنجاب کی ان مثالی تحصیلوں میں شامل کر سکتا ہے جہاں عوام کو نظام سے شکایت نہیں بلکہ سہولت ملتی ہے۔

امید ہے آپ اس گزارش کو ایک شکایت کے طور پر نہیں بلکہ ایک موقع کے طور پر دیکھیں گی — ایک موقع کہ آپ خلقِ خدا کا دل جیت سکیں، ایک موقع کہ آپ بیوروکریسی کو ایک انسان دوست ادارہ ثابت کر سکیں۔

ہماری دعائیں اپ کے ساتھ ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے