بلوچستان میں غیرت کے نام پر خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل پر علماء کرام نے شدید مذمت کی ہے۔
مہتم جامعہ بنوریہ عالمیہ کراچی مفتی نعمان نعیم کا کہنا ہےکہ غیرت کے نام پر خاتون کا قتل جہالت اور درندگی کی بدترین مثال ہے، شریعت و قانون کے مطابق یہ ایک ناقابلِ قبول اور سنگین جرم ہے۔
مفتی نعمان نعیم کا کہنا ہےکہ غیرت کے نام پر قتل کرنا غیرت نہیں جہالت کی انتہا ہے، ایسے جرائم میں ملوث عناصر سخت ترین سزا کے مستحق ہیں، اسلام نے ناحق قتل کو پوری انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے۔
جامعہ اشرفیہ لاہورکے مہتمم مولانا فضل الرحیم اشرفی نےکہا ہےکہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے علماء غیرت کے نام پر قتل کی شدید مذمت کرتے ہیں، غیرت کے نام پر عورت کا بیدردی سے قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔
مولانا فضل الرحیم اشرفی کا کہنا ہےکہ اس سانحے میں ملوث سفاک قاتل کسی رعایت کے مستحق نہیں ہیں، غیرت کےنام پر قتل میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کرکے سزادی جائے۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل طاہر اشرفی نے اپنے بیان میں کہا ہےکہ بلوچستان میں غیرت کے نام پر خاتون کو قتل کرنے والوں کو فوری گرفتار کیا جائے، مجرموں کو اسی جگہ اسی انداز میں سزا دی جائے۔
معروف عالم دین مفتی عدنان کاکا خیل نےکہا ہےکہ اس وحشیانہ، ظالمانہ اور لرزہ خیز قتل اور اس جاہلانہ سوچ کی جتنی مذمت کی جائےکم ہے، غیرت کے نام پرکیے جانے والے ایسے قتل دین و شریعت میں کسی طور جائز نہیں۔
مفتی عدنان کاکا خیل کا کہنا ہےکہ اس جہالت سے معاشرےکو نکالنےکی سنجیدہ کوششیں کی جانی چاہئیں، جس جرگے نے یہ فیصلہ کیا ہے اور جو جو اس بہیمانہ عمل میں شریک ہوا ہے ان سب کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر سخت ترین سزائیں دی جانی چاہئیں۔
بلوچستان میں خاتون اور مرد کا بہیمانہ قتل، مقدمہ درج، ایک مشتبہ قاتل گرفتار
بلوچستان میں خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کے واقعے کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
بلوچستان میں خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس کا وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی نے نوٹس لیا۔
انہوں نے بتایاکہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر خاتون اور مرد کے قتل کی وائرل ویڈیو کا فوری نوٹس لیا تھا اور بلوچستان پولیس کو کارروائی کے احکامات جاری کیے تھے۔
انہوں نے بتایاکہ ویڈیو میں مقتولین کی شناخت ہوچکی ہے اور واقعہ عید سے چند دن قبل کا ہے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھاکہ ریاست کی مدعیت میں دہشت گردی کا مقدمہ درج کرلیا گیا اور ایک مشتبہ قاتل گرفتار ہوچکا ہے، قانون اس گھناؤنے معاملے پر اپنا راستہ لے گا۔
دوسری جانب کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان حکومت بلوچستان شاہد رند نے بتایاکہ گزشتہ روز سوشل میڈیا میں قتل کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی، علاقے میں اس وقت سی ٹی ڈی اور پولیس اہلکار موجود ہیں۔
انہوں نے بتایاکہ قتل کا واقعہ عید الاضحیٰ کے آس پاس رونما ہوا، دونوں فیملی کی جانب سے واقعہ کو رپورٹ نہیں کیا گیا۔ شاہد رند کا کہنا تھاکہ ویڈیو میں نظر آنے والے افراد کی شناخت کیلئے ڈیٹا نادرا بھیجا گیا، بائیک پر نظر آنے والا نمبر بھی ایکسائز ڈیپارٹمنٹ بھیجا گیا ہے، وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ کسی کا پریشر نہیں لیا جائے گا۔
شاہد رند کا کہنا تھاکہ واقعہ جب رپورٹ نہیں ہوا تو ریاست مدعی بن رہی ہے، ملزمان کے خلاف کارروائی ہوگی، ویڈیو میں نظر آنے والا ایک شخص گرفتار ہوگیا ہے باقی بھی گرفتار ہوں گے، قبائل اور افراد کی شناخت ہوگئی ہے، حکمت عملی کے تحت فی الحال شناخت ظاہر نہیں کررہے۔
انہوں نے مزید بتایاکہ قبائلی نظام ہے اس کے باعث دونوں جانب سے کوئی رپورٹ درج نہیں کروائی گئی، اب تک لاشیں برآمد نہیں ہوئیں۔
اُدھر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے واقعے کی مذمت کی اورکہا کہ قتل میں ملوث مجرم بھی درندے ہیں، کسی رعایت کے مستحق نہیں، امید ہے مجرموں کو جلد قانون کی گرفت میں لایا جائے گا، حکومتِ بلوچستان کیلیے یہ قتل ایک ٹیسٹ کیس ہونا چاہیے،یہ صنفی دہشتگردی ہے۔
بلوچستان میں خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو وائرل، وزیر اعلیٰ نے نوٹس لے لیا
بلوچستان میں خاتون اور مرد کے بہیمانہ قتل کی ویڈیو وائرل ہوگئی۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ویڈیو کا وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے نوٹس لے لیا۔
ترجمان بلوچستان حکومت شاہد رند نے کہا ہے کہ فائرنگ کی ویڈیو نامعلوم مقام پر بنائی گئی ہے، مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔