طاقت کے درجے اور انسان کی اصل خودی

دنیا کا نظام ہمیشہ طاقت کے اصول پر ہی قائم رہا ہے۔ ہماری روزمرہ زندگی، تاریخ، اور معاشرتی ڈھانچے کو اگر غور سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ طاقت ہی وہ بنیادی ستون ہے جس پر افراد، ادارے، اور معاشرے اپنی حیثیت اور اثر و رسوخ قائم کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی یہ سوچ عام ہے کہ جس کے پاس طاقت ہے، وہی کامیاب، معتبر، اور باعزت انسان سمجھا جاتا ہے۔ طاقت خواہ جسمانی ہو، مالی ہو، اختیاری ہو یا علمی، یہ زندگی کے ہر شعبے پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر لوگ اپنی عزت، خود اعتمادی اور کامیابی کو انہی طاقتوں سے منسلک کر دیتے ہیں۔

لیکن یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واقعی طاقت صرف یہی چند چیزیں ہیں؟ اور اگر کوئی ان طاقتوں سے محروم ہو تو کیا وہ ناکام اور کم تر سمجھا جائے گا؟ درحقیقت طاقت کی کئی شکلیں، سطحیں، اور معانی ہوتے ہیں، اور ان کی درست تفہیم ہی اصل شعور ہے۔ طاقت کو صرف ظاہری قوت یا دنیوی ذرائع سے جوڑنا ایک سطحی سوچ ہے، جو معاشرے میں انتشار، مقابلہ بازی، اور بے سکونی پیدا کرتی ہے۔

جب ہم معاشرے میں طاقت کا مشاہدہ کرتے ہیں تو سب سے پہلے جسمانی طاقت سامنے آتی ہے۔ ہمارے سماجی ماحول میں کئی لوگ اپنے جسمانی قد و قامت، بلند آواز یا جبر کے ذریعے دوسروں پر دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ محلے کی سیاست ہو، زمینوں کے جھگڑے ہوں، یا دکانوں کا قبضہ جسمانی طاقت کا استعمال ایک عام رویہ بن چکا ہے۔ لیکن یہ طاقت زیادہ دیرپا نہیں ہوتی۔ یہ صرف خوف پیدا کرتی ہے، عزت نہیں۔ جس رشتے کی بنیاد خوف پر ہو، وہ نہ دیرپا ہوتا ہے، نہ بامقصد۔

اس کے بعد مالی طاقت معاشرتی عزت و وقار کی علامت بن چکی ہے۔ دولت آج کے دور میں نہ صرف آسائش بلکہ تعلقات، تعلیم، صحت، انصاف اور حتیٰ کہ مذہبی تشخص تک خریدنے کا ذریعہ بن چکی ہے۔ ہمارے معاشرے میں امیر کو عزت دی جاتی ہے، چاہے اس کا کردار کیسا بھی ہو، جبکہ غریب کی سچائی، علم یا کردار کو اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ لیکن یہ طاقت بھی عارضی ہے کیونکہ دولت کسی کے پاس ہمیشہ نہیں رہتی۔ یہ معیشت، حالات، اور قسمت کے تابع ہے، اور ایک لمحے میں سب کچھ بدل سکتا ہے۔

اختیاری طاقت ہمیں سرکاری دفاتر، اداروں، اور سیاست میں نمایاں نظر آتی ہے۔ معمولی اہلکار سے لے کر اعلیٰ حکام تک، اختیار رکھنے والے افراد اپنے عہدے، دستخط، یا فائل روکنے کی صلاحیت کے ذریعے دوسروں کی زندگیوں پر اثرانداز ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ہاں اختیارات کو اکثر ذاتی مفاد، سفارش، یا کرپشن کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جس کا نتیجہ ادارہ جاتی کمزوری اور عوام کے ریاست سے اعتماد کے خاتمے کی صورت میں نکلتا ہے۔

علمی طاقت وہ طاقت ہے جو فرد اور معاشرے دونوں کی سوچ، اقدار اور ترقی کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایک استاد، مفکر یا محقق معاشرے کی راہیں متعین کر سکتا ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے تعلیمی نظام نے علم کو صرف نوکری اور ڈگری تک محدود کر دیا ہے۔ علم کا اصل مقصد فہم، تجزیہ، اور سوال کی آزادی ہے۔ علمی طاقت صرف اُسی معاشرے میں پنپتی ہے جہاں اختلافِ رائے کی گنجائش، تحقیق کی آزادی اور مکالمے کا ماحول ہو , جو کہ ہمارے ہاں کم ہوتا جا رہا ہے۔

اخلاقی طاقت وہ طاقت ہے جو اندر سے جنم لیتی ہے اور انسان کو سچائی، خلوص، تحمل، دیانت داری، اور خیر خواہی کی راہ پر گامزن کرتی ہے۔ یہ وہ صفات ہیں جن سے معاشرہ پرامن، باہمی احترام سے بھرپور اور ترقی یافتہ بنتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں اخلاقی طاقت کو کمزوری سمجھا جانے لگا ہے، اور چالاکی، دھوکہ، اور مفاد پرستی کو "سمجھداری” کہا جاتا ہے۔ یہاں تک کہا جاتا ہے کہ "سیدھا بندہ زمانے میں کچلا جاتا ہے”، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ معاشروں کی اصل بقا اور استحکام اخلاقی طاقت سے ہوتا ہے، نہ کہ دھونس سے۔

ان تمام طاقتوں سے بلند جو طاقت ہے وہ روحانی طاقت ہے، اور اس طاقت کو لے کر ہمارے معاشرے میں ایک بہت بڑا مغالطہ پایا جاتا ہے جسے ختم کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ روحانی طاقت کا مطلب ہرگز ہرگز یہ نہیں کہ کوئی طلسماتی چراغ مل جائے، کوئی دم کیا جائے اور آنکھ جھپکتے ہی مسائل حل ہو جائیں، یا کوئی بزرگ دعا دے اور سب کچھ ٹھیک ہو جائے۔ یہ نہ کوئی جادو ہے، نہ کوئی خارق العادت عمل، اور نہ ہی کسی پیری فقیری سے وابستہ کوئی خواب۔ بلکہ روحانی طاقت ایک نہایت ہی عملی، حقیقی اور شعوری طرزِ زندگی کا نام ہے۔ جب انسان اس طاقت سے جُڑ جاتا ہے تو اسے نہ کسی سہارے کی ضرورت رہتی ہے، نہ کسی سسٹم کے آگے جھکنے کی۔ وہ اپنے اندر ایسی مضبوطی اور وقار پیدا کر لیتا ہے جو اُسے آزاد انسان بناتی ہے۔

یہاں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ روحانی طاقت اور غرور کے درمیان ایک بہت باریک لکیر ہوتی ہے۔ غرور انسان کو دوسروں کی طاقت سے چِڑ، مقابلہ اور ردعمل کی طرف لے جاتا ہے۔ غرور والا شخص دوسروں کی دولت، عہدہ، شہرت دیکھ کر احساسِ کمتری کا شکار ہو کر اُن کے خلاف نفرت، بدگمانی یا بغض میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ جبکہ روحانی طاقت اور خودی رکھنے والا شخص دوسروں کی کامیابی کو خوشی سے قبول کرتا ہے، اور دل ہی دل میں کہتا ہے: "Good for them، لیکن مجھے تمہاری ضرورت نہیں ہے کیونکہ میں ایسی طاقت سے جڑا ہوں جو تمہاری طاقتوں سے کہیں بلند ہے۔” یہی جذبہ اسے حسد، خوف، اور مقابلہ بازی سے بچاتا ہے۔ وہ معاشرے کی برائیوں میں گھسنے کے بجائے خود کو ان سے محفوظ رکھتا ہے، کیونکہ وہ اندر سے آزاد ہوتا ہے۔

روحانی طاقت دراصل اُس شعور کا نام ہے جو انسان کو اس کے خالق سے جوڑتی ہے، اور اُس کے وجود کو گہرائی سے بدل دیتی ہے۔ یہ طاقت انسان کو اس کی خودی کی پہچان دیتی ہے . وہ خودی جس کے بارے میں علامہ اقبال نے فرمایا کہ جب انسان اس درجے پر پہنچتا ہے تو خدا خود اس سے پوچھتا ہے: "بتا تیری رضا کیا ہے؟” یہ طاقت انسان کو دنیا کی چمک دمک سے غافل نہیں کرتی، بلکہ اس کی حقیقت سمجھا دیتی ہے۔ یہ طاقت انسان کو وہ ظرف عطا کرتی ہے کہ وہ دنیاوی وسائل کو مقصد نہیں بلکہ ذریعہ سمجھے۔ ایسا انسان کسی کی دولت، شہرت، یا اختیار سے مرعوب نہیں ہوتا، اور نہ ہی خود کو کمتر سمجھتا ہے۔

روحانی طاقت انسان کے رویے میں برداشت، وسعت، امن، اور صبر پیدا کرتی ہے۔ وہ دوسروں کی ترقی سے خوش ہوتا ہے، ان کی طاقت سے متاثر ہوتا ہے مگر مرعوب نہیں۔ وہ نہ کسی سے ڈرتا ہے، نہ کسی پر حکومت جتاتا ہے۔ وہ خود اپنی ذات میں ایک متوازن، بیدار اور پرسکون مرکز بن جاتا ہے۔ ایسے لوگ معاشرے میں منفی توانائی نہیں پھیلاتے، بلکہ خیر، شعور، اور باہمی احترام کا ذریعہ بنتے ہیں۔

اگر ایک معاشرہ صرف ظاہری طاقتوں جیسے دولت، اختیار، جسمانی قوت یا شہرت کے پیچھے بھاگتا رہے، تو وہ اندرونی طور پر کھوکھلا ہو جاتا ہے۔ یہی ہم آج اپنے اردگرد دیکھتے ہیں: لوگ ایک دوسرے سے حسد کرتے ہیں، مقابلے بازی میں نفسیاتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، خوف اور احساسِ کمتری میں مبتلا رہتے ہیں، اور بالآخر اپنی شناخت کھو بیٹھتے ہیں۔

لہٰذا آج کی سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ ہر فرد خود سے سوال کرے: میری زندگی کس طاقت کے گرد گھوم رہی ہے؟ کیا میں صرف ظاہری طاقتوں سے مرعوب ہو کر جی رہا ہوں؟ یا میں اپنی اندرونی طاقت , خودی، ایمان، اور روحانی بیداری سے جُڑا ہوا ہوں؟ جس دن انسان کو یہ شعور حاصل ہو جائے کہ اس کی اصل طاقت نہ کسی انسان سے، نہ کسی رتبے سے، بلکہ صرف اس ذات سے وابستہ ہے جو تمام طاقتوں کی مالک ہے، تو وہ اندر سے آزاد ہو جاتا ہے۔ ایسا انسان دنیا میں باوقار، بااخلاق، پُر اعتماد اور بامقصد زندگی گزارتا ہے۔ اور جب وہ اس دنیا سے رخصت ہوتا ہے، تو وہ ایک غلام نہیں بلکہ ایک آزاد، بیدار، اور خدا سے جُڑا ہوا انسان ہوتا ہے . جو اصل طاقت کو پہچان کر زندگی کا اصل مقام پا چکا ہوتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے