اداکارہ حمیرا اصغر کی لاش ان کے فلیٹ سے ملی۔ ابتدائی رپورٹ کے مطابق یہ لاش تقریباً چھ ماہ پرانی ہے۔ ان کے جسد خاکی کے ساتھ صرف خاموشی تھی، سناٹا تھا، اور وہ اکیلا پن تھا جسے وہ چھ ماہ تک خاموشی سے جھیلتی رہیں، اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔ اس سے کچھ ہی دن قبل، ایک اور سینئر اداکارہ کی لاش ایک ہفتے سے زائد عرصے تک ان کے کمرے میں پڑی رہی۔ دونوں واقعات کا تعلق صرف انفرادی افسوس یا فنکارانہ تنہائی سے نہیں، بلکہ ایک پورے معاشرے کے اجتماعی انحطاط سے ہے۔ ایک ایسے سماج کی نمائندگی کرتے ہیں جہاں انسانوں کی موت سے زیادہ ان کی تنہائی کا نوحہ اہم ہوتا جا رہا ہے۔
یہ دونوں واقعات ہمارے لیے ایک سوالیہ نشان ہیں۔ کیا واقعی ہم ایک دوسرے کے لیے زندہ ہیں؟ یا صرف سوشل میڈیا کی پوسٹس، تصویری مسکراہٹوں اور دکھاوے کی ہم دردیوں تک محدود ہو گئے ہیں؟ کیا ہم صرف مفادات کے تعلقات میں پھنس چکے ہیں اور حقیقی معنوں میں کسی کو اپنی تنہائی سے جیتنے کے لیے اگر ہمارے ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے تو اس وقت ہم پلو چھڑا لیتے ہیں؟ حمیرا اصغر، جو کبھی اسکرین پر زندگی کی علامت سمجھی جاتی تھیں، جب تنہائی کی گمنام قبر میں چھ ماہ تک پڑی رہیں، تو یہ نہ صرف ان کا المیہ ہے بلکہ ہم سب کی ناکامی ہے۔
ایک ایسی ناکامی جس میں انسانیت ہار گئی، رشتے مات کھا گئے، اور ہمارا سماجی نظام مکمل طور پر ننگا ہو کر سامنے آ گیا۔ ایسا سماجی نظام جس پر کچھ دہائیاں قبل ہم کو فخر تھا۔ راقم الحروف خود شائد ہے کہ جب ایک سے دو گھنٹے بھی ہم اپنے رشتوں سے رابطہ نا کر پائیں تو الجھن کی حد تک پوچھ گچھ شروع ہو جاتی ہے۔ کبھی والد کی طرف سے رعب دارانہ کال موصول ہوتی ہے تو کبھی والدہ کی شفقت بھری پریشانی کہ کہاں ہو۔ بہن بھائیوں، چچا زاد، ماموں زاد الگ سے پریشان کیے رکھتے ہیں۔ حقیقت میں ہمیں ان رابطوں سے الجھن تو ہوتی ہے اور پریشانی بھی اسے سمجھتے ہیں۔ لیکن چھ ماہ پرانی لاش کے سوالات سے ایک لمحہ ڈر جاتا ہے دل کہ شکر ہے کہ یہ پریشان کن حد تک پوچھ گچھ کرنے والے رشتے موجود ہیں۔ ورنہ تنہائی تو ایسی بری شکست انسان کے دے دیتی ہے کہ مہینوں اس کا لاشہ بھی گلتا سڑتا رہتا ہے اور کسی کو علم نہیں ہو پاتا۔
ماضی میں جوائنٹ فیملی سسٹم ہمارا فخر ہوا کرتا تھا۔ والدین، بہن بھائی، چچا، تایا، خالہ، پھوپھی سب ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شامل ہوتے۔ اگر گھر میں کوئی ناراض ہو بھی جاتا، تو باقی رشتہ دار اس کی خیر خبر لیتے۔ کوئی نہ کوئی دروازہ کھٹکھٹا دیتا، فون کر لیتا، یا محلے کا کوئی بچہ بھی اس کے چہرے کی زردی دیکھ کر بڑوں کو بتا دیتا۔ آج حالات یہ ہیں کہ ہم سب الگ الگ دیواروں کے پیچھے قید ہیں۔ دیواریں صرف مکانوں کی نہیں، دلوں کی بھی ہیں۔ اور ان دیواروں نے ہمیں اتنا دور کر دیا ہے کہ کسی کے چھ ماہ تک مرے پڑے رہنے کی ہمیں خبر بھی نہیں ہو پاتی۔ بنیادی طور ہر مفادات اور منافقت دو ایسے پہلو بن چکے ہیں کہ تمام جذبات، احساسات اور دل کے تعلقات پر حاوی ہو چکے ہیں۔ جہاں مفاد ہو آپ پہروں ایک پاؤں پر کھڑے رہ سکتے ہیں۔ اور مفادات نا ہوں تو خونی رشتے بھی ایسے ہی دور ہو جاتے ہیں جیسا حمیرا اصغر کے ساتھ ہوا۔ منافقت کا نقاب اپنے چہرے پر ہم اوڑھ کر دوسرے کو احساس دلاتے ہیں کہ وہ ہمارے لیے بہت خاص ہے۔ لیکن یہ اہمیت صرف سامنے تک محدود رہتی ہے۔ نظروں سے اوجھل ہوتے ہی تو کون، میں کون۔ اس قدر خوفناک منظر ہے، آخری سانسیں ہیں، خواہش بس اتنی سی ہو گی کہ کوئی اپنا پاس ہو جو یہ آخری سانسیں تو آسان کر دے۔
ہم سمجھتے ہیں کہ رشتے پیسے سے نبھتے ہیں، حالانکہ سچ یہ ہے کہ اکثر اوقات انسان کو صرف ایک جملے کی ضرورت ہوتی ہے: "میں ہوں نا!”۔ جب کسی کی آنکھیں آنسوؤں سے لبریز ہوں، تو اسے کسی ہمدرد کی نہیں بلکہ ایک دوست کی ضرورت ہوتی ہے، جو اس کے ساتھ خاموش بیٹھ سکے۔ کسی کا ہاتھ تھام کر کہنا کہ "تم اکیلے نہیں ہو” شاید دنیا کا سب سے بڑا صدقہ ہو سکتا ہے۔ مگر ہم اپنی زبان کے صدقے بھی روک چکے ہیں۔ ہم الفاظ میں کنجوس ہو گئے ہیں، جذبات میں تہی دست اور رویوں میں مصنوعی ہو چکے ہیں۔ ہم اپنے چہرے کے زاویے مصنوعی طور پر بناتے بگاڑتے ہیں اور توقع رکھتے ہیں کہ ہم دوسرے کے ساتھ مخلص اس حد تک ہیں کہ ہم نے اپنا فرض ادا کر دیا۔
کبھی آپ نے اس بارے میں سوچنے کی کوشش بھی کی کہ معاشرے میں خودکشی کا بڑھتا ہوا رجحان محض معاشی تنگی کا نتیجہ نہیں ہے۔ یہ تنہائی کی گہرائی، بے رخی کا زہر اور رشتوں کی کھوکھلاہٹ کا شاخسانہ ہے۔ وہ لوگ جو بظاہر خوشحال نظر آتے ہیں، اکثر اندر سے ٹوٹے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور سونے پہ سہاگہ یہ کہ ان کی ریخت کے اس عمل میں اولین کردار عارضی اپنوں کا ہوتا ہے، منافق مخلص لوگوں کا ہوتا ہے۔ ایسے افراد جب وہ پل سے کودتے ہیں یا گلے میں پھندا ڈالتے ہیں تو وہ دراصل ان تمام نقابوں کو اتار دیتے ہیں جنہیں ہم نے "خاندان”، "دوستی”، "محبت” اور "رشتہ” کہہ کر اوڑھ رکھا ہے۔ یہ خودکشیاں نہیں، معاشرتی خودفریبیوں کا قتل ہے۔ تنہائی ایسا زہرِ قاتل ہے جو ہمیں پل سے کود کر جان دینے پر بھی راضی کر لیتا ہے اور ہم اپنے ہاتھوں سے اپنی گردن میں پھندا ڈالنا بھی ایک نجات کی صورت دکھاتا ہے۔ اس کے ذمہ دار ہم بطور اس معاشرے کی اکائیاں ہیں۔ ایسی اکائیاں جو اجتماعیت کی طاقت کھو بیٹھی ہیں اور اس وقت معاشرے کے سمندر میں ڈولتی ہوئی ناؤ کی صورت ہیں۔
ہم نے اپنے دلوں کو اتنا محدود کر لیا ہے کہ اب ہمیں کسی کے زندہ یا مردہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا۔ بلکہ ہم نے خود کو ایک اتنے سخت خول میں قید کر لیا ہے کہ اس پہ تالا ہم نے اندر کی طرف سے خود لگا رکھا ہے کہ کوئی کھول نا سکے۔ اور اس خول کو توڑنا نہ تو ہم چاہتے ہیں اور نہ ہماری خواہش ہے۔ ہمارے لیے زندگی وہ سوشل سرکل بن چکا ہے جن میں سے اکثر سے ہماری ملاقات مرتے دم تک نہیں ہو پاتی۔ ہم عارضی رشتوں کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے اجاڑ رہے ہیں۔ ہمیں اب اپنی بہن، بھائی، خالہ، یا ماموں سے زیادہ انسٹا فالورز کی پروا ہے۔ ہم نے ایسے معاشرے کو جنم دیا ہے جہاں انسان زندہ ہوتے ہوئے بھی مردہ ہو چکا ہوتا ہے، اور اس کی موت صرف رسمی اعلان بنتی ہے۔
ایک اور پہلو جس پر ہمیں نظر ڈالنی چاہیے، وہ ہے ہمارے شہروں کی شہری ساخت اور سماجی تنظیم نو۔ اب رہائشی منصوبے، فلیٹس، اَپ آرائٹ اپارٹمنٹس اور گارڈڈ کمیونیٹیز تو بن گئی ہیں، مگر ان میں رہنے والے افراد کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔ نہ سلام، نہ دعا، نہ خیر خیریت۔ ہم ایک دوسرے کے ساتھ دیوار بانٹتے ہیں، لیکن دکھ سکھ نہیں بانٹتے۔ شاید ہم نے معاشرے کی تعمیر تو کی، مگر "سوسائٹی” کو مار دیا ہے۔ یا یوں کہنا بے جا نہیں ہو گا کا ہاؤسنگ سوسائٹیز نے ہماری "سوسائٹی” یعنی معاشرے کو قتل کر دیا ہے۔ ہم کنکریٹ کے محلات کھڑے کر رہے ہیں لیکن دلوں کو جوڑ نہیں رہے۔ ہماری ذات سے جڑے رشتے خاموشی سے ہم سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ہماری آنے والی نسل اخلاقیات، معاشرت اور سماجیات کے بہت سے ایسے پہلوؤں سے نا آشنا رہے گی کہ جو ہماری ذات کی تعمیر اور بہت سے نفسیاتی مسائل سے نمٹنے کے لیے آزمودہ تھے۔
حمیرا اصغر یا ان جیسی کئی اور خواتین یا بزرگ جو تنہائی کا شکار ہو چکے، وہ محض فرد نہیں بلکہ علامات ہیں۔ ایسی علامات جو خبردار کر رہی ہیں کہ ہم کسی مہذب معاشرے میں نہیں بلکہ ایک خاموش قبرستان میں جی رہے ہیں۔ جہاں ہر کوئی قبر جیسا خاموش ہے، اور ہر فلیٹ کسی بند تابوت جیسا۔ ان کی موت ایک "ویک اپ کال” ہے۔ لیکن ہمیں جگانے کے لیے اب روز کسی کی لاش نہیں آنی چاہیے۔
ہمیں بطور فرد، بطور خاندان، اور بطور قوم اپنے طرزِ زندگی پر غور کرنا ہوگا۔ ہمیں خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم نے اپنے قریبی رشتوں کو اتنا دور کر دیا ہے کہ ان کی موت کی خبر بھی ہمیں چھ ماہ بعد پہنچتی ہے؟ کیا ہم نے تنہائی کو معمول سمجھ لیا ہے؟ کیا ہم نے جذباتی تعلق اور ساتھ کو کمزوری جانا ہے؟ اگر ان سوالوں کا جواب ہاں میں ہے، تو پھر ہمیں سمجھ لینا چاہیے کہ ہم سب کسی نہ کسی دن انہیں لاشوں کی طرح تنہا مرنے والے ہیں۔ اور آج چھ ماہ بعد بھی مجبوری میں دروازہ تو ٹوٹا کہ اپنا کرایہ لینا مقصود تھا۔ لیکن وہ وقت دور نہیں کہ ہم تنہائی کے ہاتھوں اپنے گھروں میں ہی زندہ درگور ہو جائیں گے اور کوئی پوچھنا بھی گوارا نہیں کرئے گا۔
ہمارے تعلیمی ادارے، میڈیا، سوشل پلیٹ فارمز اور مساجد کو اس حوالے سے کردار ادا کرنا ہوگا۔ معاشرتی آگاہی مہمات ہونی چاہئیں کہ "اگر کوئی نظر نہیں آ رہا، تو اس کی خبر لو”، "تنہائی ایک مرض ہے، اور رشتہ اس کا علاج ہے”۔ ہم جس قدر مالی فلاحی تنظیموں پر توجہ دیتے ہیں، ہمیں اسی قدر ذہنی، نفسیاتی اور جذباتی فلاح و بہبود پر بھی کام کرنا ہوگا۔ کونسلنگ سینٹرز کو عام کرنا ہوگا، سکولوں میں ہمدردی اور سماجی روابط کی تربیت دینا ہوگی، اور سب سے اہم بات کہ ہمیں خود اپنی روشیں بدلنی ہوں گی۔ ہم دوسروں کے ساتھ اپنے لیے بھی وقت نکالنا ہو گا۔ ہمیں آپنے آپ کو بھی یہ سمجھانا ہو گا کہ سانس اگر آ رہی ہے تو اس کو کیسے سہل بنانا ہے نا کہ تنہائی کے عفریت کے ہاتھوں اس سانس کو قتل کر دیں۔ آپ ایک سماجی تجربہ کر کے دیکھیے کہ آپ کسی پریشانی میں گھرے ہوئے ہیں تو یونہی راہ چلتے دس افراد کو سلام دعا کرتے جائیں، چاہے آپ انہیں جانتے ہوں یا نہ جانتے ہوں۔ آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کیسے آپ کی پریشانی یا تو آپ کو محسوس ہونا کم ہو جائے گی یا پھر آپ کا دماغ اس پریشانی کا کوئی حل تجویز کر دے گا۔
کیا یہ بہتر نہیں کہ ہم آج سے یہ عہد کریں کہ مہینے میں کم از کم ایک بار ان رشتہ داروں سے رابطہ کریں جن سے برسوں بات نہیں ہوئی؟ کیا یہ ممکن نہیں کہ ہم واٹس ایپ کے فارورڈز کے بجائے ایک فون کال کسی ایسے شخص کو کریں جس نے کبھی ہمارا ساتھ دیا تھا؟ کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ اپنے اردگرد کے لوگوں سے پوچھیں کہ "سب ٹھیک ہے نا؟” اور اگر وہ جواب میں صرف "ہاں” کہیں، تو بھی ان کی آنکھوں میں جھانک کر سچ جاننے کی کوشش کریں؟ یقین جانیے یہ سچ تلاش کرنا بظاہر تو ہم دوسروں کے لیے کریں گے لیکن حقیقت میں اس کا مکمل فائدہ صرف ہماری اپنی ذات کو ہو گا۔ کیوں کہ جب ہم کسی سے رابطہ کریں گے تو باہمی رابطے کے اصولوں کے تحت آپ کو دوسرے افراد کے بھی جوابی پیغامات یا رابطے محسوس ہونا شروع ہو جائیں گے۔ اس لیے ان رابطوں سے حقیقتاً آپ خود اپنی مدد کر رہے ہیں۔
معاشرہ کوئی ایسی طاقت نہیں کہ جو ہم پر کچھ مسلط کر رہا ہے، ہم سب ہی اس معاشرے کا حصہ ہیں۔ اگر ہر فرد اپنی سطح پر ایک رشتہ بحال کر لے، ایک تنہا شخص کو ساتھ بٹھا لے، ایک خاموش دل کو بولنے کا موقع دے، تو شاید کل کو کوئی اور حمیرا اصغر چھ ماہ تک مردہ پڑی نہ رہے۔ شاید کوئی اور بزرگ چپ چاپ اپنے بستر پر دنیا سے نہ رخصت ہو جائے۔
اب وقت ہے کہ ہم ایک "ری یونین” کی طرف بڑھیں، دلوں کا، احساسات کا، اور خالص انسانی رشتوں کا۔ وقت ہے کہ ہم خود کو، اپنے گھر کو، اپنی گلی کو، اور اپنے شہر کو پھر سے جینے کے قابل بنائیں۔ کیونکہ اگر اب بھی نہ جاگے، تو یہ سناٹا بہت جلد ہمارا بھی مقدر بن جائے گا۔