بلوچستان کے ایک سنسان علاقے میں ایک شادی شدہ جوڑے کو بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔ ان کا جرم؟ انہوں نے اپنی مرضی سے نکاح کیا تھا۔ ان کی محبت کو گناہ اور ان کے نکاح کو جرم سمجھا گیا، اور قبائلی غیرت کے نام پر ان کی زندگیاں چھین لی گئیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی ہوئی ویڈیوز نے دل دہلا دیا، اور ایک بار پھر یہ سوال اٹھا دیا کہ ہم کس معاشرے میں جی رہے ہیں؟
اسلام کا مؤقف:
اسلام نے مرد اور عورت، دونوں کو نکاح کا مکمل اختیار دیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
"کنواری کا نکاح اس کی اجازت کے بغیر نہ کیا جائے۔”
(صحیح مسلم: 1419)
حضرت خنساءؓ کا واقعہ اسلامی تاریخ میں عدل کی روشن مثال ہے۔ جب اُنہوں نے والد کی مرضی کے خلاف نکاح پر احتجاج کیا، تو نبی ﷺ نے نکاح منسوخ کر دیا۔
(صحیح بخاری: 5138)
قرآن مجید واضح طور پر اعلان کرتا ہے:
"جس نے کسی جان کو ناحق قتل کیا، گویا اُس نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔”
(سورۃ المائدہ: 32)
تو پھر کس اسلام کا حوالہ دے کر ہم یہ قتل کر رہے ہیں؟ یہ غیرت نہیں، ظلم ہے — اور بدترین ظلم!
زبردستی کی شادی: ایک سماجی ناسور
ہمارے ہاں زبردستی کی گئی شادیاں دو انسانوں کی زندگی کو جہنم بنا دیتی ہیں۔ وہ بظاہر ساتھ تو رہتے ہیں، لیکن دلوں میں نفرتیں پلتی ہیں۔ خاص طور پر جب کوئی بیٹی یا بیٹا والدین کی مرضی کے آگے مجبور ہو، تو ان کے دل سے والدین کے لیے وہ محبت اور انسیت ختم ہونے لگتی ہے، جو ان رشتوں کا حسن ہوتی ہے۔
دوغلا معیار:
اس جوڑے کے قتل کے وقت مجلس میں موجود تمام مرد اگر اپنے گریبانوں میں جھانکیں تو کیا وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ انہوں نے کبھی کسی عورت پر نگاہ نہیں ڈالی؟ کیا وہ اپنی بہن یا بیٹی کو وہ تمام حقوق دیتے ہیں جن کا دین نے حکم دیا: تعلیم، نان و نفقہ، وراثت، تحفظ؟
اگر وہ ان سب حقوق پر پورا اترتے ہوں تو پھر شاید انہیں سوال کرنے کا حق ہو، وگرنہ پہلے اپنے کردار کا محاسبہ کریں۔
محبت سے نکاح سنت ہے:
اسلام میں محبت کے ساتھ نکاح کو نہ صرف جائز بلکہ سنت بھی قرار دیا گیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہؓ سے محبت کی بنیاد پر ہی نکاح فرمایا۔
ہمیں اپنے نوجوانوں کی سننی چاہیے۔ ان کے جذبات، ان کی پسند، ان کے فیصلے۔ انہیں عزت دیجیے۔ نکاح کو آسان بنائیے، تاکہ گناہ کا راستہ بند ہو اور فتنہ و فساد نہ پھیلے۔
غیرت کے نام پر قتل دراصل ہمارے نفس، ضد اور سماجی جبر کا عکاس ہے، نہ کہ دینی غیرت کا۔ ہمیں اسلام کو بطورِ رحمت سمجھنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ بطورِ انتقام۔
سماجی اصلاح کا پہلا قدم اپنے رویوں کا محاسبہ ہے۔
آیئے، ظلم کے خلاف آواز بلند کریں اور محبت و انصاف پر مبنی معاشرے کی بنیاد رکھیں۔