جب غیرت بولتی ہے، قانون خاموش ہو جاتا ہے… اور قبریں سوال کرتی ہیں

بلوچستان کے علاقے ڈیگاری، کوئٹہ کے قریب، ایک خاتون اور مرد کو "سیاہ کاری” کے نام پر قتل کر دیا گیا۔ یہ صرف دو افراد کی کہانی نہیں، بلکہ ایک پورے معاشرے کی بے حسی، قبائلی روایات، اور ریاستی خاموشی کا کربناک عکس ہے۔

چالیس سالہ خاتون، پانچ بچوں کی ماں، دو سال پہلے اپنے شوہر کو چھوڑ کر ایک اور شخص کے ساتھ چلی گئی اور شادی کر لی۔ بعد میں واپس اپنے خاندان سے رابطہ ہوا، قبیلے نے معاف کیا، اور خاتون پہلی ازدواجی زندگی میں لوٹ آئی۔ لیکن پرانا تعلق ختم نہ ہوا، اور عید سے چند روز پہلے دونوں کو قتل کر دیا گیا . خاموشی سے، قبائلی فیصلے کے تحت۔

یہ واقعہ سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے، مگر سوال وہی ہے:
ریاست کہاں تھی؟ قانون، پولیس، میڈیا، یا انسانی حقوق کے ادارے کہاں تھے؟

ایسے معاملات میں اکثر نہ کوئی مقدمہ ہوتا ہے، نہ مدعی۔ صرف قبریں ہوتی ہیں — اور وہ بھی خاموش۔

یہ صرف بلوچ یا پشتون معاشرے کا مسئلہ نہیں، یہ ہر جگہ ہوتا ہے جہاں غیرت، انا اور طاقت، قانون اور انسانیت پر غالب آ جاتے ہیں۔

ہمیں سوچنا ہوگا:
کیوں ہر بار عورت ہی قبر میں اتاری جاتی ہے؟
کیوں روایت کے نام پر زندگی ختم کر دی جاتی ہے؟

یہ وقت ہے سننے، سمجھنے اور بدلنے کا۔
ورنہ یہ قبریں سوال کرتی رہیں گی، اور ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے