ہمارے ایک اُستاد ہمیں اچھے انسان کی ایک خوبصورت مثال دیا کرتے تھے۔ وہ فرماتے: "بچو! ایسے سایہ دار درخت کی مانند بنو، جس کی چھاؤں کو دیکھ کر گرمی سے بے حال بھیڑ بکریاں اس کی طرف دوڑتی ہیں۔ اُنہیں یقین ہوتا ہے کہ اس درخت کے سائے میں ہمیں گرمی سے بچاؤ ملے گا اور ہم اس کے نیچے راحت محسوس کریں گے۔”
پھر اُستادِ محترم مزید فرمایا کرتے: "تم بھی ایسے بنو کہ تمہارے پاس کوئی غم زدہ، مایوس اور پریشان حال شخص آئے تو اُسے راحت ملے، وہ اپنے غم کو بھول جائے۔”
مندرجہ بالا مثال کی روشنی میں اگر درختوں کی اہمیت پر غور کیا جائے تو ان کی غیر معمولی افادیت ہمارے سامنے آتی ہے۔ سوچیے! جب ایک اچھا انسان اپنے وجود سے ماحول کو خوبصورت بنا دیتا ہے، تو جس شے سے اس کی خوبصورتی کو تشبیہ دی جائے—یعنی درخت—وہ خود کس قدر خوبصورت اور قیمتی ہوگی۔
لہٰذا آئیے! درخت لگائیں، اپنے ماحول کو خوبصورت بنائیں تاکہ یہ ہماری خوش سیرتی اور نیک فطرتی کی دلیل بنے۔
درخت لگانا صرف صدقہ جاریہ ہی نہیں، بلکہ عبادت بھی ہے اور ایک سماجی و اخلاقی ذمہ داری بھی۔