بابو سر ٹاپ پر سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہونے والے فہد اسلام کے بیٹے عاصم فہد کا کہنا ہے کہ پانی کا ریلا آیا تو ہم نے پہاڑکے نیچے چھپنے کی کوشش کی تھی اور والد نے ریلے میں بہنے والی چچی مشعال فاطمہ اور عبد الہادی کو بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگائی تھی۔
چند روز قبل لودھراں سے پکنک منانے کیلئے جانے والی فیملی اسکردو سے واپس آتے ہوئے بابوسرٹاپ کے مقام پر سیلابی ریلے میں بہہ گئی تھی، ریلے میں بہہ کر ڈاکٹر مشعال فاطمہ اور ان کا دیور فہد اسلام جاں بحق ہوئے تھے جبکہ ریلے میں ڈاکٹر مشعال فاطمہ کا 3 سالہ بیٹا عبدالہادی بھی بہہ گیا تھا جو تاحال لاپتا ہے۔
اس حوالے سے حادثے میں جاں بحق ہونے والے فہد اسلام کے بیٹےعاصم فہد نے بتایا کہ سیلابی ریلا آیا تو ہم نے پہاڑکے نیچے چھپنے کی کوشش کی، لیکن جب چچی مشعال اورعبدالہادی ریلے میں بہے تو والد نے دونوں کو بچانے کے لیے پانی میں چھلانگ لگا دی تھی۔
میڈیا سے گفتگو کے دوران فیملی ممبر ڈاکٹر حفیظ اللہ کا کہنا تھا کہ اسپتال میں2 روز سے بجلی نہیں ہے جس کے باعث برف کے بلاک رکھ کرلاشوں کو محفوظ رکھا جا رہا ہے، حکومت لاشوں کو لودھراں پہنچانے کے لیے انتظامات کرے تاکہ تدفین کے انتظامات کیے جا سکیں۔