مذہبی طبقے کی مجرمانہ خاموشی کا نوحہ!
گزشتہ روز سوات کی تحصیل خوازہ خیلہ کے گاؤں چلیار کے ایک مدرسے میں کمسن طالب علم، فرحان، قاری صاحبان کے وحشیانہ تشدد کا شکار ہو کر دم توڑ گیا، جس کے بعد حسبِ معمول مدرسہ سیل، طلبہ والدین کے حوالے، اور مذہبی طبقہ مکمل خاموش! نہ اسلام خطرے میں پڑا نہ ہی کوئی ہنگامی فتویٰ صادر ہوا، نہ کوئی جلوس، نہ کوئی احتجاج۔
سوال اٹھتا ہے کہ آپ کون سے دین کے علمبردار ہیں؟ جب بھی عالمی یا داخلی سطح پر آپ مذہبی اقدار، دینی تعلیمات، یا اسلامی شعائر کے خلاف کوئی منظم مہم یا حملہ آپ دیکھتے ہیں، توہینِ مذہب کا کوئی مبینہ واقعہ رونما ہو یا فلمی خاکوں کے ذریعے مقدسات اسلامی کی توہین، تو آپ "دشمنانِ دین” کے خلاف صف آراء ہوکر چڑھ دوڑتے ہیں، ایوانوں میں مذمتی قراردادوں، شہر شہر احتجاجی مظاہروں، اور چوکوں چوراہوں پر سر تن سے جدا” کے نعروں کا "کان پھاڑ” شور سنائی دیتا ہے۔
مگر جب اسی دین اسلام کے قلعوں میں، انہی مقدس مدارس میں، معصوم بچوں کو زد و کوب کیا جاتا ہے، ان کی عصمتیں نوچی جاتی ہیں، تو آپ کی زبانیں گنگ کیوں ہو جاتی ہیں؟ جذبۂ ایمانی کہاں چلا جاتا ہے؟ جب ایک گستاخانہ جملہ پورے ملک کے بام و در کو ہلا دیتا ہے، تو ایک معصوم بچے کے جسم پر پڑنے والے تشدد کے نشانات آپ کو کیوں نہیں جھنجھوڑتے؟ کیا وہ قرآن جو آپ حفظ کرواتے ہیں، اس کے سائے میں ہونے والی درندگی کو برداشت کر لینا بھی ‘دینی غیرت’ کے دائرے میں آتا ہے؟ کیا مدرسے کے حجرے میں ہونے والی جنسی درندگی توہینِ قرآن نہیں؟ کیا یہ مسجد کی بےحرمتی نہیں؟ کیا یہ رسولِ پاک ﷺ کے دین کو بدنام کرنا نہیں؟
اگر آپ واقعی خود کو دین متین کا محافظ سمجھتے ہیں، تو فرمائیے یہ کیسا تحفظ ہے کہ مساجد و مدارس درندگی کے مسکن بن جائیں؟ آج اگر مدارس کو دینی تعلیم اور روحانی تربیت کے مراکز کے بجائے خوف، جبر اور درندگی کی علامت سمجھا جانے لگا ہے تو یہ تاثر کس نے پھیلایا؟ میڈیا نے؟ یہودی لابی نے؟ یا اربابِ منبر و محراب کی مجرمانہ خاموشی نے؟
اب یہ دلیل نہ دیں کہ اسکول اور کالجز میں بھی یہ ظلم ہوتا ہے، مدارس کو "اسلام کے قلعے” اور دین متین کے مراکز قرار دیا جاتا ہے، ان میں ہی تزکیہ نفس کے روحانی اصولوں کی تعلیم دی جاتی ہے، اگر وہاں وحشیانہ تشدد اور ظلم ہو تو داغ سفید لباس پر لگتا ہے سیاہ پر نہیں۔ اسکول اور عصری تعلیم کے دیگر ادارے اسلامی اقدار کے علمبردار ہیں نہ دین کے دعوے دار، مگر مدرسہ تو دین متین کا نمائندہ ہے! وہاں کا ایک درندہ پورے دینی نظامِ تعلیم پر سوال اٹھا دیتا ہے۔
مذہبی طبقے سے دست بستہ گذارش ہے کہ یاد رکھیں، دین کا دفاع، دین کے نام پر، دین کو بدنام کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہو کر بھی کیا جاتا ہے، آج فیصلہ کریں کہ آپ دین کے سپاہی ہیں یا تشدد اور ظلم کے سہولت کار؟ اگر واقعی دینی حمیت و غیرت رکھتے ہیں، تو سب سے پہلے مذہبی لبادہ اوڑھے ہوس کے پجاری ان قاری صاحبان کو بے نقاب کریں اگر نہیں، تو پھر آپ بھی یہ لباسِ پارسائی اتار دیجیے، کیونکہ آپ نے دین کو کاروبار، مدرسے کو پناہ گاہ، اور قرآن کو ڈھال بنایا ہوا ہے۔