میں نے اپنے بچوں کو کیوں حفظ کروایا؟

آج کل جب دینی تعلیم خصوصاً حفظِ قرآن کے حوالے سے بحث ہوتی ہے تو زیادہ تر گفتگو کا محور مدارس کی حالت، اساتذہ کا رویہ اور حفظ کا معیار ہوتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں مسئلہ نہ مدارس کا ہے، نہ حفظ کے عمل کا۔ اصل مسئلہ وہ خلا ہے جو والدین اور بچوں کے درمیان پیدا ہو جاتا ہے، جب ماں باپ بچوں کو مدرسے میں داخل کروا کر سمجھتے ہیں کہ بس ان کا فرض پورا ہو گیا ہے اور پھر نہ وہاں جانا گوارا کرتے ہیں، نہ اساتذہ سے ملاقات کرتے ہیں، نہ بچوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں۔

میری گزارش ہے کہ اگر آپ اپنے بچے کو حفظِ قرآن کے لیے مدرسے میں داخل کروانا چاہتے ہیں تو ایسے ادارے کا انتخاب کریں جو خیرات یا چندے کی بنیاد پر نہ چل رہا ہو، بلکہ باقاعدہ فیس لیتا ہو، جیسے کہ جماعت اسلامی کا مدرسہ جی-7 اسلام آباد میں ہے، جہاں سے میرے دونوں بیٹوں نے حفظ مکمل کیا۔ یہ ادارہ نہ صرف تعلیمی نظم و ضبط میں عمدہ ہے بلکہ یہاں مار پیٹ، ذہنی دباؤ یا غیر ضروری سختی کا کوئی تصور نہیں۔

اگر اللہ نے آپ کو توفیق دی ہے کہ آپ اپنے بچے کو حفظ کروانا چاہتے ہیں تو یہ ذہن میں رکھیں کہ کبھی بھی چھوٹے بچے کو حفظ کے لیے مدرسے میں داخل نہ کریں، نہ کسی چھوٹے بچے پر یہ ذمہ داری ڈالیں۔ کم از کم بچہ پانچویں جماعت پاس کر لے، اس کے بعد اسے حفظ کے لیے داخل کیا جائے — وہ بھی اس صورت میں کہ آپ نے پانچویں جماعت تک یہ اندازہ لگا لیا ہو کہ بچے کے رویے، مزاج اور رجحان کے مطابق کیا وہ حفظ کر پائے گا یا نہیں۔ یہ ضروری نہیں کہ ہر بچہ حافظ بن سکے، اور نہ ہی ہر بچے کو حافظ بنانا کوئی فرض ہے۔ بطور والدین، پانچویں جماعت تک آپ کو یہ احساس ہو جانا چاہیے کہ بچہ حفظ کر سکتا ہے یا نہیں۔ یاد رکھیے، حفظ کرانا فرض نہیں ہے، لیکن حفظ کرنے کے بعد قرآن کو بھول جانا گناہ ہے — اور سنگین گناہ ہے۔ اس چیز کا بھی اہتمام کریں کہ حافظ ہر رمضان میں تراویح میں قرآن سنائے، کیونکہ جو حافظ تراویح میں قرآن نہیں سناتا، اس کا حفظ بہت کچا رہ جاتا ہے۔
لیکن اگر آپ کا شوق ہے اور آپ کروانا چاہتے ہیں تو یہ ایک سعادت ہے جسے حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ مگر اپنے بچے کو حفظ کروا کے خود کو فارغ مت سمجھیے — اس کے بعد اسے ترجمہ اور تفسیر کی طرف بھی خصوصی طور پر راغب کریں تاکہ وہ قرآن پڑھے بھی اور سمجھے بھی۔

میرے بیٹے نے سوا سال میں قرآن حفظ کیا۔ ان سوا سالوں میں عصر اور مغرب کے درمیان جو وقفہ ہوتا ہے، میں وہ وقت ہر روز اپنے بیٹے کے ساتھ گزارتا تھا۔ حتی المقدور باقی نمازیں بھی اسی مدرسے میں جا کر ادا کرتا، تاکہ بچے کو یہ احساس رہے کہ اس کا والد اس کے ساتھ ہے، اس کی تعلیم، صحت اور جذبات کا خیال رکھتا ہے۔

آپ کو چاہیے کہ بچے کو مدرسے میں داخل کروانے کے بعد ہر روز یا کم از کم ایک دن چھوڑ کر اس کے استاد سے ملاقات رکھیں، اس کے ساتھ بچے کی کارکردگی، حفظ کے معیار پر بات چیت کرتے رہیں۔ اور بلا جھجک استاد پر واضح کر دیں اگر کبھی کسی بھی وقت حفظ میں کوئی رکاوٹ یا مسئلہ پیش آئے تو فوراً آپ سے بات کرے، لیکن بچے پر ہرگز ہاتھ نہ اُٹھائے۔

یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ مسئلہ صرف مدرسوں میں ہو۔ اکثر والدین یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ شاید خطرہ صرف دینی اداروں میں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ استاد چاہے مدرسے کا ہو یا اسکول، کالج یا یونیورسٹی کا — اگر اس کے اندر انسانیت اور خوفِ خدا نہ ہو، تو وہ کہیں بھی بچوں پر ظلم کر سکتا ہے۔ استاد جتنا بھی سخت مزاج ہو، جتنا بھی غیر حساس ہو — اگر والد ادارے کا دورہ کرتا رہے، استاد سے ملاقات کرتا رہے، بچے کے ساتھ وقت گزارتا رہے — تو کسی بھی قسم کی پریشانی کے امکانات تقریباً صفر ہو سکتے ہیں۔

جب استاد کو علم ہوگا کہ بچے کا باپ روز آتا ہے، بات بھی کرتا ہے، نگرانی بھی کرتا ہے، اور بچے کے جذبات و تحفظ کو سنجیدہ لیتا ہے — تو وہ کبھی ہمت نہیں کرے گا کہ بچے کے ساتھ غیر انسانی یا توہین آمیز سلوک کرے۔ استاد کی عزت واجب بھی ہے اور لازم بھی — لیکن صرف اس شخص کے لیے ہے جو استاد کے منصب پر اس طرح فائز ہو، جیسے اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے استاد کے مقام کو واضح کیا ہے۔

استاد کا احترام ضرور کیجیے، لیکن اسے خوف کی علامت مت بنائیے — نہ اپنے لیے، نہ اپنے بچوں کے لیے۔ بچوں کے معاملے میں استاد سے بات کرنے کی ہمت اور حوصلہ والد کے اندر ہونا ضروری ہے۔ یہ کبھی نہ بھولیے کہ باپ آپ ہیں، اور بچے کی دنیا و آخرت، عزت و نفس اور تربیت کی ذمہ داری آپ پر ہے۔

اپنے بچوں کے بارے میں فیصلے خود کیجیے۔ اور ان کے بارے میں رشتہ داروں، محلے والوں یا دوستوں کے مشوروں پر مت عمل کیجیے۔ اگر کبھی بچے کو تنبیہ کرنی ہو، ڈانٹنا ہو — تو تنہائی میں کیجیے۔ اجنبیوں، دوستوں یا رشتہ داروں کے سامنے بچے کی عزتِ نفس کو ٹھیس نہ پہنچائیے۔ یہی وہ شعور ہے جو بچے کے دل میں والدین کے لیے عزت پیدا کرتا ہے، اور اس اعتماد کو مضبوط کرتا ہے جس پر ایک صحت مند تعلق کی بنیاد ممکن ہے۔

اپنے بیٹے اور بیٹی کے ساتھ ایسا دوستانہ اور کھلا رشتہ ہونا چاہیے کہ وہ بغیر خوف، بغیر جھجک، ہر قسم کا مسئلہ والدین کے ساتھ شیئر کر سکیں — چاہے وہ کسی استاد کی زیادتی ہو، کسی ساتھی کی چالاکی ہو، یا خدانخواستہ جنسی ہراسانی کا کوئی واقعہ ہو۔

اس ضمن میں والدین، خاص طور پر والد کا بچوں کے ساتھ بے تکلف اور قریبی ہونا نہایت ضروری ہے — چاہے بیٹا ہو یا بیٹی۔ بچوں کے ساتھ ایسا دوستانہ تعلق ہونا چاہیے کہ وہ ہر بات والدین سے ڈسکس کر سکیں، اور والدین بھی ہر پہلو محبت اور فہم سے سمجھائیں۔ تربیت کا عمل اسی وقت مؤثر ہوتا ہے جب اعتماد کی بنیاد مضبوط ہو، اور یہ اعتماد صرف دوستی اور وقت دینے سے پیدا ہوتا ہے۔

اپنے بچے کے ساتھ جب بھی بات کریں، ہمیشہ "آپ” کہہ کر بات کریں۔ اسے عزت دیجیے، اس کی بات غور سے سنیے، اور بچپن ہی سے اس سے اپنے معاملات میں مشورہ کیجیے — تاکہ وہ خود کو اہم سمجھے، خود کو معتبر جانے، اور اس کا اعتماد کبھی متزلزل نہ ہو۔ باپ اور بیٹے یا بیٹی کے درمیان یہ عزت، مشورہ اور بے تکلفی کا تعلق وہ بنیاد ہے جس پر ایک باشعور اور باوقار نسل پروان چڑھتی ہے۔

بچے قرآن کے حافظ بنیں، دنیاوی تعلیم میں کامیاب ہوں یا کسی بھی شعبے میں ترقی کریں — ان کی بنیاد اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب والدین ان کے ساتھ جڑے رہتے ہیں، نہ صرف مالی طور پر، بلکہ جذباتی اور جسمانی طور پر بھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے