اللہ تعالی اس کائنات کے خالق ہیں اور اس کی منشا یہ ہے کہ اس کی دنیا آباد رہے،خوبصورت رہے۔زمین کی خوبصورتی کو اللہ پاک نے انسانوں کے آپس میں خوشگوار تعلقات اور نسل انسانی کے بقا سے وابسطہ کیا ہے ۔اس غرض کے لیے اللہ پاک نے انسانوں کے نفسیات اور ضروریات کو اس طرح بنایا ہے کہ یہ کائنات کے خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں معاون و مددگار بنتے ہیں۔
زمین پر نسل انسانی کی بقا اور زندگی کے امور کو خوش اسلوبی سے چلانے کے لیے اللہ تعالی نے انسان کو دو انواع؛ مرد و زن میں تقسیم کیا اور ان دونوں کو ایسے ضروریات سے نوازا جن کی بدولت یہ ایک دوسرے کی طرف جذباتی میلان رکھتے ہیں۔اس ضرورت کی وجہ سے عین ممکن تھا کہ انسان اسے ذمہداری اٹھاۓ بغیر پورا کرے حالانکہ ہر ضرورت پورا کرنے کے اپنے تقاضے اور ذمہداریاں ہوتی ہیں، جیسے کہ گاڑی میری ضرورت ہے اسے میں خرید لو تو میرے ذمے اس کی قیمت ہوگی اگر میں گاڑی حاصل کرو اور قیمت کے ادائیگی کے حوالے سے اپنی ذمہداری پورا نہ کرو تو میرا یہ رویہ تمام لوگوں کے نزدیک قابل مذمت ہوگا۔اس لیے خدا نے انسانوں کے اس ضرورت کے لیے ایسا طریقہ بنایا کہ انسان اسے پورا کرتے وقت ذمہداری کا احساس بھی کرے اور اسے نبھاننے کا عہد بھی کرے۔
کئی انسان اس ضرورت کو ذمہداری اٹھاۓ بغیر پورا نہ کرے، اس مقصد کے لیے خدا نے مرد و زن کے مابین پردہ لازم کیا جو ان دونوں کے مابین دیوار کا کام دیتی ہے۔پردے کی دیوار کو اس وقت تک عبور کرنا خدا نے جرم قرار دیا ہے جب تک اس سے پہلے متعلقہ ذمہداری اٹھانے کا عہد نہ کیا جاۓ اور وہ عہد نکاح ہے۔ دراصل نکاح ان تمام ذمہداریوں کے قبول کرنے کا اعلان ہے جو مرد و زن پر جائز آذادانہ اختلاط کے نتیجے میں عائد ہوتے ہیں۔چونکہ انسان فطرتی طور پر ایسے امور سے گھبراتا ہے جن میں ذمہداری اٹھانی پڑتی ہو اس لیے اگر کسی بھاری ذمہداری اٹھانے کے لیے انسان کے پاس کوئی جذباتی محرک نہ ہو تو وہ اس قسم کے ذمہداریوں سے دور بھاگتا ہے۔اس غرض کے لیے اللہ پاک نے انسان کو ایک جذباتی وصف سے نوازا جس کی بنا پر مرد و زن ایک دوسرے کی طرف ایسا جذباتی میلان رکھتے ہیں کہ اس جذبے کی تسکین کی خواہش انسان کو متعلقہ ذمہداری کے اٹھانے پر آمادہ کرتا ہے۔اگر یہ جذبات نہ ہوتے تو انسانی نسل کی بقا ایک سوالیہ نشان ہوتا، کیونکہ انسان ذمہداریوں کی خوف سے اس عمل کے قریب بھی نہ جاتا جو نسل انسانی کے بقا کا ضامن ہے۔
چونکہ انسان کا اطلاق مرد اور زن کے مجموعے پر ہوتا ہے اور نکاح اس مجموعے کا ذریعہ ہے اس لیے یہ تکمیل انسانیت کا ذریعہ بھی ہے۔یہ مجموعہ ان میں خوبیوں کے باہم تبادلے کا کام کرتا ہے۔دو مختلف خوبیوں کے حامل چیزوں میں خوبیوں کا اس طرح تبادلہ ہونا کہ وہ ایک جان دو قالب کے محاورے کا مصداق بنے، بے تکلفانہ تعلقات کا متقاضی ہوتا ہے۔ جب کہ اس نوعیت کا بے تکلفانہ تعلق نکاح کے نتیجے میں پیدا ہوتا ہے۔
شادی کے بعد مرد کے بارے میں عموما کہا جاتا ہے کہ شادی سے پہلے سخت تھے مگر بیوی نے رام کر کے نرم مزاج بنا دیا۔اس طرح شادی کے بعد عام طور پر عورت کے مزاج میں معمول سے زیادہ سختی آ جاتی ہے۔
مزاجوں کی یہ تبدیلی دراصل اس بے تکلفانہ تعلق کا نتیجہ ہے جس سےنکاح نے جنم دیا ہوتا ہے ۔ بے تکلفانہ تعلق سے انسانیت کی تکمیل ہونا، نکاح سے مشروط ہے کیونکہ مرد و زن کے مابین نکاح کے بغیر بے تکلفی انسانیت کی تکمیل نہیں بلکہ تذلیل ہے ۔یہ تذلیل اس لیے ہے کہ اس میں انسان ضرورت پورا کرنے کا معتدل اور معیاری طریقہ چھوڑ کر غیر معیاری طریقہ اختیار کرتا ہے جو محض اس کی نفس کی اختراع ہوتی ہے۔ اس صورت میں ایسا شخص انسانوں میں ضرورت پورا کرنے کا ایسا طریقہ رواج دیتا ہے جس میں ضرورت کے نتیجے میں عائد ہونے والی ذمہداری سے فرار ہے۔ذمہداری سے فرار میں متعلقہ لوگوں کی حق تلفی ہوتی ہے اس لیے ضرورت پورا کرنے کا یہ اختراعی طریقہ انسان کی تذلیل کا باعث بنتا ہے۔
اس حوالے سے یہ بات ضروری ہے کہ اگرچہ تمام خوبیوں کا مرد اور عورت میں اسی جسامت کے ساتھ تبادلہ ممکن نہیں جس قد و کاٹ کے ساتھ وہ اپنے فطری آماج گاہ میں پاۓ جاتے ہیں مگر اس کے باوجود نکاح کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بےتکلفی ایک دوسرے کے گہرے پہچان کا ذریعہ ضرور بنتا ہے۔یعنی یہ بے تکلفی ایک دوسرے کی شخصیت اور نفسیات کے باہم پہچان میں مددگار و معاون ثابت ہوتی ہے ۔اسی طرح جب مرد اور عورت ایک دوسرے کا گہرا پہچان حاصل کر لیتے ہیں تو اس کے نتیجے میں وہ ایک دوسرے کے ساتھ ایسا تعلق رکھیں گے جس طرح انہوں نے ایک دوسرے کو سمجھا ہوتا ہے جبکہ کسی کے ساتھ اس کے مزاج کے موافق تعلق رکھنا اس کے ساتھ محبت اور گہرے خوشگوار تعلقات کا باعث بنتا ہے جیسے کھلاڑی کے ساتھ کھیل کے حوالے سے باتیں کرنا،گاڑیوں کے شوقین سے گاڑیوں کے بارے میں بات چیت کرنا انہیں اچھا لگتا ہے اور جو شخص ان کے ساتھ ان کے متعلقہ فیلڈز کے بارے میں گفتگو کرتا ہو تو انہیں وہ شخص اچھا لگتا ہے اور اس کے ساتھ وقت گزارنے کو ترجیح دیتا ہے کیونکہ وہ اس کے مزاج کے موافق رویہ اس کے ساتھ اختیار کرتا ہے۔
نکاح جب جذباتی میلان کے نتیجے میں ہو جاۓ تو میاں ،بیوی کے مابین اس تعلق کو پائیدار محبت کے ذریعے قائم رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔میاں،بیوی کے مابین باہمی محبت کے پائیداری کے لیے خدا نے ان کے مابین مشترکات کو پیدا کیا،جیسے بچے، گھر،خوشی،غم،کمائی،خرچ اور نفع و نقصان وغیرہ یہ سب دونوں کے درمیان مشترک ہوتے ہیں اور دونوں ان کے حوالے سے اپنے اپنے بساط کے مطابق کردار ادا کرتے ہیں۔میاں،بیوی کے مابین یہ اشتراک جہاں ان کے معاشی استحکام کا ذریعہ بنتا ہے وہاں ان کے مابین باہمی محبت کے قیام اور پائیداری کے لیے محرک بھی بنتا ہے کیونکہ اشتراک فطرتی طور پر انسان کے لیے محبت کا سبب بنتا ہے۔ معاشی استحکام اس معنی میں کہ کمائی،خرچ،بچت،نفع اور نقصان وغیرہ کے معاملے میں ایک سے زیادہ افراد کے آراء اور اشتراک زیادہ بارآور، مفید اور Ecnomical ہوتے ہیں ۔اسی طرح مشترکات سے باہمی محبت کا پیدا ہونا بھی ایک فطری بات ہے،
جیسے کہ ہم مسلک اور ہم خیال لوگوں کے مابین محبت کی وجہ ان کے درمیان مسلک اور خیال کا مشترک ہونا ہے۔
نکاح کے نتیجے میں جب بچے پیدا ہوتے ہیں تو ان کی پرورش کے لیے ابتدائی عمر میں غیر معمولی توجہ درکار ہوتی ہے۔اس عمر میں بچے کھانے،پینے اور پیشاب،پاخانے جیسے بنیادی ضرویات پورا کرنے میں بھی دوسروں کے محتاج ہوتے ہیں۔اس عمر میں اگر انہیں غیر معمولی درکار توجہ نہ ملے تو وہ survival نہیں کر سکتے۔اس عمر میں اگر انہیں مناسب سہارا نہ ملے تو وہ ہر طرح کے جسمانی اور روحانی ترقی سے محروم رہ جاتے ہیں۔اس لیے اللہ پاک نے ان کی پرورش کے لیے درکار غیر معمولی ذمہداری کو والدین پر ڈالا ہے۔چونکہ غیر معمولی ذمہداریوں کو احسن طریقے سے نبھانے کے لیے کسی غیر معمولی جذباتی محرک کی ضرورت ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالی نے والدین کے دلوں میں اولاد کے لیے غیر معمولی محبت پیدا کر کے اس غیر معمولی جذباتی محرک کا انتظام فرمایا جو بچوں کی پرورش کے غیر معمولی ذمہداری کو احسن طریقے سے نبھانے کے لیے درکار تھا۔اس ذمہداری کو نبھانے کے لیے باپ کو دن میں پسینے میں نہانا پڑتا ہے،ماں کو سردیوں کی راتیں قربان کرنی پڑتی ہے،بچہ جب تک بڑا نہیں ہوتا اس وقت تک ماں کو پوری رات مسلسل نیند اپنے اوپر حرام کرنی پڑتی ہے۔اس قسم کے اعصاب شکن ذمہداریاں فطرتی طور پر انسان کو خوف زدہ کر دیتی ہیں۔
انسان کے پیش نظر جب تک کوئی جذباتی محرک نہ ہو تو وہ اس قسم کے ذمہداریوں کے قریب بھی نہیں جاتا۔مگر خدا کی عطا کردہ محبت کے سبب والدین اولاد کے حوالے سے عائد ہونے والے اعصاب شکن ذمہداریوں کو ایسے خوش اسلوبی،لگن،دلجمعی،دلچپسی، حساسیت اور ایثار کے ساتھ نبھاتے ہیں کہ خود بھوکے رہتے ہیں مگر بچوں کو کھلاتے ہیں،اپنے کپڑے پھٹے پرانے ہوتے ہیں مگر بچوں کے لیے معیاری لباس کا بندوبست کرتے ہیں،الغرض والدین اپنی پوری زندگیوں کو اولاد کی نظر کر دیتے ہیں۔چونکہ بچے اپنے ساتھ والدین کی بےلوث محبت، شفقت، رحم و کرم اور ایثار کا آۓ روز مشاہدہ کرتے رہتے ہیں اس لیے ان میں بھی یہی خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں کیونکہ بچے دیکھنے سے سیکھتے ہیں۔
ابتداء میں عرض کیا تھا کہ خدا زمین پر فساد نہیں بلکہ اسےخوبصورت اور آباد دیکھنا چاہتے ہیں۔
زمین آباد رہے اس غرض کے لیے مرد و زن میں ایک دوسرے کے لیےجذباتی جنسی میلان پیدا کیا جبکہ زمین پر خوبصورتی پیدا کرنے اور اسے برقرار رکھنے کے لیے خدا نے انسان کو مختلف ضروریات احساسات اور خواہشات سے نواز اور ان انسانی داعیات کو عملی زندگی سے ہم آہنگ کرانے کے لیے ایسا مناسب طریقہ کار وضع فرمایا جس سے انسان کی تشنگی بھی دور ہوتی ہے اور خدا کے کائنات کو حسن بھی ملتا ہے۔
زمین پر فساد یا خوبصورتی معلوم کرنے کا پیمانہ انسانوں کے مابین تعلقات ہیں کیونکہ کائنات کی خوبصورتی انسانوں کے مابین اچھے تعلقات سے وابسطہ ہے جبکہ اچھے تعلقات کے لیے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے اس لیے کہ جس معاشرے میں انسانوں کی حق تلفی ہوتی ہو اس میں خوبصورتی نہیں بلکہ فساد اور بے چینی ہوتی ہے ۔ یہ فساد اس معنی میں ہوگی کہ حق تلفی انسانوں کے مابین تصادم کا باعث بنتی ہے۔اس لیے زمین کو فساد سے بچانے کے لیے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے۔حقوق کی ادائیگی کا ایک طریقہ یہ ہے کہ اس میں حقوق کی ادائیگی بغیر احسان کے ہو اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ حق کی ادائیگی میں ایثار ہو جبکہ ایثار انسان کا انسان کے ساتھ نیکی کرنے کا اعلی ترین درجہ ہےکیونکہ ایثار اس قربانی کا نام ہے جس میں انسان اپنی ضرورت کو نظرانداز کرکے دوسروں کے ضرورت کو پورا کرتا ہے،دوسرے انسانوں کے آرام کی خاطر خود تکلیف اٹھاتا ہے۔ظاہر ہے کہ اس قسم کا رویہ انسانوں میں محض رسمی تعلقات کا باعث نہیں بنتا بلکہ ان کے مابین محبت کے پر خلوص اور گہرے خوبصورت رشتوں کا ذریعہ بنتا ہے۔ جس معاشرے میں لوگوں کے مابین تعلقات اس نوعیت کے ہوتے ہیں وہاں دلوں کی شادابی چہروں کو بھی منور کر دیتی ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق انسان اپنی جنسی ضرورت پورا کرنے کے لیے ذمہداری اٹھانے کا مکلف ہے ۔ انسان اس وقت تک اس ضرورت کو پورا کرنے کا اختیار نہیں رکھتا جب تک ذمہداری قبول کرنے کا اقرار نہ کرے۔اس اقرار کے لیے اسلام نے نکاح کے اصطلاح کو متعارف کرایا ہے۔مگر اس کے برعکس اگر ذمہداری اٹھاۓ بغیر انسان اپنی جنسی ضرورت پورا کرے۔ تو اس صورت میں پیدا ہونے والے بچوں کی پرورش کون کرے گا؟ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ ذمہداری ریاست کو قبول کرنی چائیی۔مگر کیا ریاست باپ کی کمی کو پورا کر سکتا ہے؟ضرورت پورا کرنے کے سلسلے میں اس قسم کا غیر ذمہدارانہ رویہ تین وجوہات کی بنا پر ظلم کا باعث بنتا ہے؛ بچے کے ساتھ ظلم،عورت کے ساتھ ظلم،کیونکہ بچے کا باپ نہ تو ساری ذمہداری عورت پر ہوگی یعنی وہ مرد کا بوجھ بھی اپنے سر اٹھائیگی کیونکہ عمل سے پہلے باپ نے ایک ایسا طریقہ اپنایا تھا اپنے ضرورت کو پورا کرنے کے لیے جس میں قضاۓ حاجت تو تھی مگر ذمہداری اٹھانے کا عہد نہیں تھا،جبکہ تیسرا معاشرے کے ساتھ ظلم ہے کیونکہ جو بچہ بغیر باپ کے بڑا ہوتا ہے وہ معاشرے میں اس سے مطلوب کردار کو ادا نہیں کر پاتا۔
عصر حاضر میں عورتوں کے حقوق کے نام پر انسانی بقا اور کائنات کے خوبصورتی کے لیے اللہ تعالی کے بناۓ ہوۓ مدلل،معقول، مناسب اور انسان دوست فطری منصوبہ بندی کو آنکھیں بند کر کے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔چونکہ نکاح اور پردہ اس فطری منصوبہ بندی کے دو بنیادی اجزاء ہیں اس لیے ان دونوں یعنی نکاح اور پردے کے بارے میں اس قسم کے باتیں سننے کو ملتی ہیں جن پر سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ پردے اور نکاح کے حوالے سے متعلقہ ناقدین اور معترضین نے یا تو کبھی یہ معلوم کرنے کی کوشش ہی نہیں کہ ان کے پشت پر کیا منطق ہے،زندگی میں ان دونوں کی اہمیت و افادیت کیا ہے اور ان دونوں کو اگر انسانی زندگی سے منفی کیا جاۓ تو اس کے نتائج کیا ہوں گے یا یہ کہ مزکورہ بالا سوالات کے حوالے سے انہیں اسلام کا مؤقف معلوم تو ہے اور علمی لحاظ سے اس نتیجے پر پہنچے بھی ہیں کہ بحیثیت انسان زندگی گزارنے کے لیے اسلام کے متعلقہ منصوبہ بندی پر عمل پیرا ہونا ناگزیر ہےمگر نفس پرستی یا تعصب و تنگ نظری کی وجہ سے اسلام کے نسل انسانی کے بقا اور زمین کی خوبصورتی کے حوالے سے جامع،مدلل اور انسان دوست مؤقف انہیں تسلیم نہیں۔یعنی پردہ اور نکاح تسلیم نہ کرنے کی وجہ علم وحکمت نہیں بلکہ ان کے اپنے اندھے و بہرے خواہشات ہیں ۔
اس قسم کے معترضین دونوں صورتوں میں انسانیت پر ظلم کرتے ہیں کیونکہ انہوں نے انسانوں کے حوالے سے اتنے حساس مسئلے کو بھی اپنے خواہشات اور تعصب و تنگ نظری کے بھینٹ چڑھا دیا ہے ۔پردے اور نکاح کے بارے میں معترضین کے انسان دشمنی اور جہالت پر مبنی مؤقف کے بطلان کو واضح کرنے کے لیے متعلقہ اصطلاحات کے حوالے سے اسلام کا مؤقف قارئین کے سامنے دوبارہ پیش کرتے ہیں تاکہ ان کی وضاحت ان کے ذہنوں میں تازہ ہو جاۓ اور وہ اس حوالے سے اسلام اور نام نہاد انسانی حقوق کے علمبرداروں کے مؤقف کا موازنہ کر کے ان کے انسانی حقوق کے بے بنیاد نعروں کے پشت پر پنہاں جہالت کو جان سکے اور اس کے نتیجے میں قارئین ان کے فرسودہ بے بنیاد ، نفس پرستی و توہم پرستی پر مبنی خیالات کے منفی اثرات سے اپنے آپ کو بچا سکیں۔
نکاح اور پردے کے بغیر انسان کا اپنی جنسی ضرورت کو پورا کرنا انسانیت پر ظلم ہے۔ اللہ پاک نے اس ظلم کے سدباب کے لیے پردے کو لازم کیا اور اسے مرد و عورت کے مابین بطور دیوار حائل کیا۔ پھر اللہ نے اس دیوار کے عبور کرنے کے لیے شرائط کو مقرر کیا۔ان شرائط میں سے بنیادی شرط نکاح ہے۔نکاح دراصل مرد و زن کے بے تکلفانہ اختلاط کا اجازت نامہ ہے۔نکاح کے مفہوم میں وہ تمام ذمہداریاں شامل ہوتی ہیں جو بیوی اور بچوں کے حوالے سے مرد نے نبھانے ہوتے ہیں اور جو بیوی نے شوہر اور بچوں کے حوالے سے نبھانے ہوتے ہیں۔چونکہ انسان بنیادی طور پر تن آسان ہےاس لیے فطرتی بات ہے کہ اسے ذمہداریاں اٹھانے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے لھذا ایسے امور جذباتی محرک کے متقاضی ہوتے ہیں۔خدا نے اس ذمہداری کے اٹھانے کے لیے مطلوبہ محرک کو انسان میں جنسی خواہشات کے شکل میں پیدا کیا ہے۔یہ محرک اس سلسلے میں اتنا پرتاثیر ہے کہ انسان کو ذمہداریاں اٹھانے پر آسانی کے ساتھ آمادہ کر لیتا ہے۔جب ایک انسان ذمہداریاں اٹھانے پر راضی ہو جاۓ تو اس صورت میں اسلام اسے اجازت دیتا ہے کہ اپنی فطری میلان کے مطابق جنس مخالف سے وہ قربت حاصل کرو جس کے نتیجے میں تمہاری فطری جذباتی ضرورت پوری ہو جاۓ۔
اس بحث کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ نکاح جہاں انسانی نسل کی بقا کا ضامن ہے وہاں کائنات سے فساد کے خاتمے میں بھی معاون ہے۔کیونکہ فساد انسانوں کے مابین تعلقات کی خرابی سے پیدا ہوتا ہے اور تعلقات تب خراب ہوتے ہیں جب انسانوں کی حق تلفی ہوتی ہو،استحصال ہوتا ہو۔جبکہ نکاح انسانوں کے رویوں میں ایثار کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے اور ایثار کی بنیاد پر بننے والے تعلقات میں سراسر محبت ہوتی ہے۔جس طرح نکاح کے اندر یہ صلاحیت ہے کہ وہ انسان کے فطری جنسی ضرورت کو پورا کرتا ہے بالکل اسی طرح اس کے فطرت میں معاشرے کو خوبصوت بنانا بھی شامل ہے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہمیں معاشرے میں نکاح کے یہ اثرات و برکات نظر کیوں نہیں آتے؟
اس کی مثال ایسی ہے کہ ایک شخص کے پاس بڑی اچھی گاڑی ہے مگر وہ اسے چلاتا نہیں جس کی وجہ سے وہ گاڑی سے بطور سواری استفادہ نہیں کر سکتا کیونکہ گاڑی سے مستفید ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اسے چلایا جاۓ جبکہ اسے چلایا نہیں جا رہا، اس لیے اس کے اندر آرام دہ سفر کرنے کی صلاحیت ہونے کے باوجود متعلقہ شخص اس کے اس خوبی سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔گاڑی کا عملی زندگی میں مفید ثابت نہ ہونے کی ذمہداری انسان پر ہے کیونکہ انسان نے خود اپنی محنت سےاسے اپنی زندگی کے لیے مؤثر بنانا تھا۔ اسی طرح نکاح کو معاشرتی خوبصورتی کے لیے مؤثر بنانے کی ذمہداری بھی انسان پر عائد ہوتی ہے۔چونکہ زمین پر خوشگوار ماحول انسان کی ضرورت ہےاس لیے یہ ذمہداری بھی انسان ہی کی بنتی ہے کہ اس کے خوبصورتی کے لیے درکار اسباب کو بروۓ کار لاۓ۔انسان اگر اپنی اس زمین کو خود اپنے لیے خوبصورت بنانا نہ چائیے تو خدا اپنی طرف سے خامخا اس کے ماحول میں خوبصورتی کو پیدا کر کے اس پر مسلط نہیں کرتا۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ایک ضمنی بات کا ذکر کیا جاۓ جس کا تعلق اسلام کے حسن سے ہے۔
غور کیا جاۓ کہ نکاح اسلام کا محض ایک حکم ہے مگر اثرات کے اعتبار سے اتنا وسیع ہے کہ اس کے اثرات بیان کرنے کے لیے کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔اگر اسلام کے ایک حکم میں اتنی طاقت، کمال اور جمال ہے جو پورے ماحول کو معطر اور دل کش بنا لینے کی صلاحیت رکھتا ہے تو اگر انسان اسی اسلام کو کاملیت کے ساتھ اپنی پوری زندگی میں نافذ کرے تو اس کے نتیجے میں بننے والے معاشرے کی خوبصورتی کا کیا عالم ہوگا! اس سے قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل کامل اسلام کے قیام ہی میں ہے جبکہ اسلام کے قیام کا مطلب یہ ہے کہ پورے نظام زندگی کو اسلام کے ابدی اصولوں پر استوار کیا جاۓ ۔ہمیں شعوری اور علمی طور پر اس بات کا ادراک ہونا چائیے کہ اسلام کے حوالے سے جو غلط فہمیاں پیدا کی گئی ہیں اور پیدا کی جا رہی ہیں ان کا حقیقت کے ساتھ دور دور تک بھی کوئی واسطہ نہیں ۔ ہمارے سامنے یہ حقیقت بھی ہونی چائیے کہ اسلام کیمونزم کے آڑ میں ریاست کی بدمعاشی کو،کیپٹلزم کے آڑ میں سرمایہ داروں کے جبر کو،شاہی نظام کے آڑ میں خاندانوں کی بالا دستی کو اور مغربی جمہوریت کے آڑ میں انسانوں پر اپنے آراء مسلط کرنے کو یکسر مسترد کرکے خود کو ناگزیر متبادل کے طور پر پیش کرتا ہے ۔چونکہ ان نظاموں سے دنیا میں موجود چند طاقتور طبقات مستفید ہوتے ہیں۔
اس لیے یہ طبقات متعلقہ نظاموں کے حوالے سے اسلام کے مخالف مؤقف کو شعوری طور پر اپنی بالادستی کے لیے خطرہ سمجھجتے ہیں ۔ان طبقات کا اپنے مفادات کے تحفظ اور اپنی طاقت کو برقرار کے بارے یہ نظریہ ہے کہ اپنی بالادستی کو قائم رکھنے کے لیے مخالف پارٹی کے ہر خوبی کو خامی قرار دینا اور اس کے حوالے سے جھوٹ پر مبنی پروپیگنڈا کرنا ہمارے لیے بالکل جائز ہے بلکہ اپنے مخالف کے رد عمل میں اس قسم کے منفی رویے کا اختیار کرنا ان کے نزدیک عین عبادت ہے۔جو عام لوگ اسلام کے بارے ان کے جھوٹے مؤقف کی تائید کرتے ہیں دراصل وہ خود ان بالادست قوتوں کو اپنی ہی استحصال کے لیے اسباب مہیا کرتے ہیں۔ یہی وہ جاہلانہ اور بیوقوفانہ طرز عمل ہے جو ہمیں مسلمانوں کے معاشرے میں رہنے والے سیکولرز،لبرلز اور قوم پرستوں کے رویوں میں مذہب سے بیزاری کی شکل میں دیکھائی دیتا ہے۔
نکاح انسان کے لیے خدا کی بندگی کے ایسے اسباب مہیا کرتا ہے کہ انسان اگر انہیں بروۓ کار لاۓ تو اس کی آدھی دین مکمل ہو جاتی ہے یعنی نکاح بندگی کو آسان بنانے کا نسخہ اکثیر ہے۔نکاح کے ثمرات پر غور کرنے سے اس بات کی وضاحت آسانی سے ہو جاتی ہے کہ یہ کیسے دین کی تکمیل کا ذریعہ بنتا ہے۔نکاح کے نتیجے میں دین کے تکمیل کے جو اسباب پیدا ہوتے ہیں ان میں پاک دامنی،ایثار، معاشرے میں مثبت مؤثر کردار کی ادائیگی،محبت، اور زندگی میں ذمہدارانہ رویے کا پیدا ہونا، وغیرہ قابل ذکر وہ اسباب شامل ہیں جن پر سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی انسان شعوری طور نکاح کے منطقی نتیجے میں ایمان کی تکمیل کے فلسفے کو سمجھ سکتا ہے ۔
مگر نکاح کےثمرات و برکات کا حصول انسان کی نیک سیرتی سے وابسطہ ہیں کیونکہ نکاح کوئی پیناڈول گولی تو ہے نہیں کہ محض کھانے سے سر درد کو رفع کرے بلکہ نکاح کے مزاج میں پائی جانے والی تحت شعوری خوبصورتی نتائج کے ضمن میں مؤثر اور اچھے انسانی کردار کی متقاضی ہوتی ہے۔جبکہ بحیثیت مسلمان ہمارا یہ دعوی اور ایمان ہے کہ اچھے کردار کا واحد ذریعہ خدا کا دین ہے۔اسلام کا نیکی کے حوالے سے بے مثال اور ناگزیر معیار ہونا محض دعوی نہیں بلکہ یہ دعوی اپنے پشت پر ناقابل تردید اور معقول دلائل کی ایک آباد دنیا رکھتی ہے۔جس طرح نکاح اپنے روح میں مدلل معاشرتی خوبصورتی کا ناقابل تردید اور بے مثال ذریعہ ہے اسی طرح نیکی کے معیار کے حوالے سے بھی اسلام اپنے مؤقف میں بے مثال اور یکتا ہے۔
اس لیے آپ علیہ السلام نے نکاح کے حقیقی روح کے تحصیل کو ممکن بنانے اور اسے بالفعل مؤثر ثابت ہونے کے لیے امت کو یہ ہدایت دی ہے کہ نکاح کے معاملے میں حسب نسب،مال، حسن اور دین کو دیکھا جاتا ہے مگر میری ہدایت یہ ہے کہ تم نکاح کے معاملے میں دین کو ترجیح دو۔اس ترجیح کی وجہ یہی ہے کہ نکاح کے مصالح جیسے ایثار،ذمہدارانہ رویہ کا پیدا ہونا،عفت و پاک دامنی،باہمی محبت،معاشرے کو مثبت کردار کے حامل افراد مہیا کرنا، کا حصول نیک سیرت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔دراصل مصالح نکاح ان تمام خوبیوں کا جامع عنوان ہے جو خدا کو نکاح کے ذریعے انسان سے اس کے انفرادی و اجتماعی زندگی میں مطلوب ہیں۔
اس جامع عنوان کے سمجھنے کے لیے نکاح کے لیے پیغمبر خدا کی تعبیر "آدھے دین کی تکمیل” کافی ہے ۔اس ضمن میں ممکن ہے کہ کوئی یہ اشکال یا اعتراض کرے کہ اگر نکاح کے مصالح کے تحصیل کے لیے نیک سیرت درکار ہے تو پھر نکاح کے نتیجے میں مزکورہ فوائد کو بیان کر کے اسے نکاح کے فلسفے کے کھاتے میں کیوں ڈالا جاتا ہے اگرچہ اس کا سمجھنا کوئی مشکل بات نہیں اور اس قسم کے سیدھا سادہ آسان باتوں کے حوالے سے اشکالات یا اعتراضات نہیں ہونی چائیے مگر عصر حاضر میں دین اسلام کے حوالے سے لوگوں کی سمجھ اور ذہنیت کو دیکھتے ہوۓ ہم یہاں اس حوالے سے ممکنہ اشکال اور اعتراض کو رفع کرنے کے لیے مختصر وضاحت کر دیتے ہیں۔ہم جس زمین پر رہتے ہیں.
کیا اس میں کئی پر ایک بھی چیز انسانوں کے لیے اس معنی میں مفید ثابت ہو سکتی ہے کہ اسے زندگی میں مؤثر بنانے کے لیے انسان کو سرے سے کسی قسم کے کردار کو ادا کرنے کی ضرورت ہی ہو؟ اس کا جواب یقینا یہی دیا جاۓ گا کہ چیزوں میں ہوٹینشل ہونے کے باوجود عملی زندگی میں ان سے مستفید ہونے کے لیے انسان کو کردار ادا کرنا ضروری ہوتا ہے، اس کے ساتھ متعلقہ چیزوں سے مستفید ہونے کے لیے یہ بھی ضروری ہوتا ہے کہ جو لوگ اس حوالے سے کردار ادا کرتے ہو ان کے اندر چیزوں سے متعلقہ استفادے کی پوٹینشل بھی ہو جیسے میڈیکل کے علم کو لیا جاۓ جدید میڈیکل اگرچہ اپنی ذات میں نہایت مفید ہے مگر اس سے متعلقہ فوائد حاصل کرنے کے لیے جب تک انسان اپنا کردار ادا نہ کرے اس وقت تک یہ اپنی ذات میں مفید ہونے کے باوجود انسان کے لیے مؤثر ثابت نہیں ہوسکتا۔
اور یہ بھی عام فہم بات ہےکہ متعلقہ فیلڈ سے مستفید ہونے کے لیے متعلقہ صلاحیت کے افراد کا ہونا بھی ضروری ہے۔یہی طریقہ کار نکاح کے عملی زندگی میں مؤثر ہونے کے لیے بھی درکار ہے۔اگر ہر چیز سے استفادہ انسانی کردار اور متعلقہ صلاحیت کا متقاضی ہے تو اکیلے نکاح اس حوالے سے قابل اعتراض کیوں؟کیا اسے، جہالت،تنگ نظری،اسلام سے بے جا تعصب اور اندھے پن کے علاوہ کوئی اور نام دینا ممکن بھی ہے؟
نکاح سے رشتے بنتے ہیں اور رشتے محبت کو جنم دیتے ہیں۔اولاد کی محض آہ پر والدین کا بے چین ہونا،بہن بھائیوں کے آنسوؤں کو دیکھ کر آنکھوں کا پرنم ہونا،بنیادی طور پر اس بےلوث محبت کا نتیجہ ہے جو نکاح کی برکت سے دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔
ان حقائق کی روشنی میں یہ بات پورے اعتماد سے کہی جا سکتی ہے کہ نکاح کی شکل میں نسل انسانی کی بقا اور معاشرتی خوبصورتی کے لیے خدا اور اس کے رسول کے جامع منصوبہ بندی کو اگر عملا اپنی اصل روح کے ساتھ بروۓ کار لایا جاۓ تو اس کے اثرات ہمیں پاکیزہ تہذیب، انسانوں کے مابین ایثار، باہمی محبت،رحم اور مروت وغیرہ جیسے اعلی معیاری نیکیوں کی شکل میں نظر آ سکتے ہیں۔
جاری ہے۔