جی قارئین! بہت کچھ سن کر اور میڈیا پر دیکھ کر دل غم و دکھ کے آنسو رو رہا ہے، عقل حیران ہے۔ یا یہ کہوں کہ محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو گئی ہے۔ ایسے واقعات رونما ہو رہے ہیں کہ ہم سب اس کے کسی نہ کسی طور ذمہ دار ہیں۔ ہم اولاد کی تربیت کرنا بھول گئے ہیں۔ یا شاید ہم اپنی ہی اولاد سے ڈرنے لگے ہیں؟ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے اپنے فرائض ادا کر دیے ہیں، بچوں کو تعلیم کی دولت سے مالا مال کر دیا ہے، وہ اب سمجھ دار ہیں اور اپنے فیصلے خود کر سکتے ہیں۔ یہ نئے دور کے بچے ہیں، ہم سے بہتر جانتے ہیں، اور والدین یہ سوچ کر خود کو مطمئن کر لیتے ہیں۔
اور یہی سب سے بڑی غلطی ہے ، وہ والدین جو اولاد پر تمام فیصلے ڈال کر بڑے اعتماد کے ساتھ بے فکر ہو جاتے ہیں۔
میں یہ ضرور کہوں گی کہ یہی وہ مقام ہوتا ہے جہاں سے اولاد کی بدبختی کا آغاز ہوتا ہے۔ میں یہ نہیں کہوں گی کہ والدین نے اپنی ذمہ داریاں ادا نہیں کیں یا تربیت نہیں کی، لیکن وہ ناجائز اعتماد ضرور کر بیٹھے جس نے ان کے بچوں کو لے ڈوبا۔ آج جو اس قسم کے دلخراش واقعات رونما ہو رہے ہیں، وہ نہ صرف ان والدین کے لیے دکھ کا باعث ہیں بلکہ ہم سب کے لیے تکلیف دہ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے والدین کو پیدا فرما کر ان کے دل میں محبت اور شفقت کو گوندھا، پھر ان کے سپرد اولاد کی ذمہ داری کی اور یہ بھی حکم دیا کہ ان کی تربیت دینِ اسلام کے مطابق کریں۔ ان کی زندگی کے اصول، حدود، نیکی اور برائی کی پہچان انہیں سکھائیں تاکہ وہ راہِ راست پر چلیں اور والدین کے لیے صدقۂ جاریہ بنیں۔ جب وہ نیکی کے کام کریں گے، والدین کو بھی ثواب پہنچے گا، اور یوں وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سرخرو ہوں گے۔
میں یہ یقین رکھتی ہوں کہ ہر والدین تربیت کی بھرپور کوشش کرتے ہیں۔ لیکن بدقسمتی تب آتی ہے جب اولاد نافرمان نکلے اور ان کا انجام ایسا ہوتا ہے کہ ہر آنکھ اشکبار ہو جاتی ہے۔ "حمیرا والے” واقعے سے پوری قوم کا دل لرز اٹھا ہے۔
میں والدین کو مکمل الزام نہیں دوں گی۔ کچھ حالات ایسے ہو چکے ہیں، ماحول ایسا بن چکا ہے کہ ہر شخص میڈیا اور شہرت کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ سب کو دولت چاہیے، نام و نمود چاہیے۔ سب چاہتے ہیں کہ ان کا بڑا گھر ہو، ان کا سٹیٹس ہو، دنیا ان کے پیچھے ہو، میڈیا ان کے آس پاس ہو۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ یہ صرف جھوٹے خواب ہیں جو کھلی آنکھوں سے دیکھے جا رہے ہیں، اور جب آنکھ کھلتی ہے تو انجام بڑا بھیانک نکلتا ہے۔
اگر نوجوان نسل ان واقعات سے عبرت لے، تو وہ خود کو اس انجام سے بچا سکتے ہیں۔
ہم مسلمان ہیں، اور ہمارے دین نے ہمیں سکھایا ہے کہ ایک دوسرے کا خیال رکھو، دکھ سکھ میں شریک ہو، پڑوسیوں کے حقوق کا خیال رکھو۔ صحابہ کرام کو یہ خدشہ لاحق ہو گیا تھا کہ کہیں اللہ تعالیٰ ہمیں پڑوسیوں کو وراثت میں شریک کرنے کا حکم نہ دے دے .اتنے بڑے حقوق دیے گئے۔ آج ہم ان سب کو نظر انداز کر چکے ہیں، اور یاد رکھیں، اس کا جواب ہمیں ضرور دینا ہوگا۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کو صرف دنیاوی تعلیم ہی نہ دیں، بلکہ انہیں انسانیت کی تعلیم بھی دیں۔ ان کے دل میں دوسروں کے لیے ہمدردی ہو، تکلیف پر دل دکھے، انسانوں کا درد محسوس کریں۔ وہ بغیر کہے انسانیت کی خدمت کرنے والے بنیں۔ انہیں دوسروں کے دکھ بانٹنے کا شعور ہو۔
میں لڑکیوں سے بھی کہنا چاہتی ہوں کہ جو دنیا کی چکا چوند روشنی تمہیں نظر آتی ہے، وہ تباہی کے سوا کچھ نہیں۔ اس کا انجام بھی برا ہے، اور آغاز بھی۔ اپنے آپ کو اس روشنی سے دور رکھو۔ اگر والدین یا بھائی تمہیں کچھ سمجھاتے ہیں، تو وہ تم سے محبت کرتے ہیں، تمہیں مصیبت سے بچانا چاہتے ہیں۔ ان کی بات مانو۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر برائی سے بچنے کا راستہ سکھایا ہے تاکہ ہم ایک پاکیزہ اور سادہ زندگی گزار سکیں اور سرخرو ہو کر اللہ کے حضور جا سکیں۔
بس یہی مختصر سی بات کہنا چاہتی تھی ، اپنے بچوں کے لیے، اپنے پیاروں کے لیے۔
اللہ تعالیٰ ہر کسی کو برے وقت سے بچائے، اور دنیا کی تمام اولاد کو والدین کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنائے۔ آمین۔