ایک ماہ قبل میں نے "Srikanth” فلم دیکھی، جو میرے لیے نہایت متاثر کن اور سوچ بدل دینے والا تجربہ ثابت ہوئی۔ اس فلم نے مجھے یہ سکھایا کہ زندگی میں کامیابی کے لیے دوسروں کی باتوں کی پروا کیے بغیر، پوری توجہ اور اعتماد کے ساتھ اپنے مقصد پر جمے رہنا ضروری ہے۔ خاص طور پر کیریئر کے سفر میں یکسوئی، حوصلہ اور مسلسل محنت ہی اصل کامیابی کی کنجی ہے۔
دنیا میں ہر شخص تعریف کا متلاشی ہے۔ دل کو خوش کرنے والے الفاظ، واہ واہ کی صدائیں، اور شاباشی کے تمغے۔۔۔یہ سب روح کو تازگی بخشتے ہیں۔ لیکن جونہی کوئی آئینہ دکھانے کی کوشش کرے، یا تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرے، اکثر دل تنگ پڑ جاتے ہیں، چہروں پر شکنیں اُبھر آتی ہیں، اور رویے مدافعانہ ہو جاتے ہیں۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔۔۔اپنی ناکامیوں کا سامنا نہ کر پانا، حقیقت کا انکار، خود پر یقین نہ ہونا یا ماضی میں تنقید کے نام پر دل توڑ دینے والے جملوں کا زخم۔
معاشرے کا ایک بڑا المیہ یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ دوسروں کو کامیاب دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ وہ ہر ممکن طریقے سے دوسروں کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرتے ہیں۔ کبھی مایوس کر کے، کبھی دھمکا کر، کبھی طنز و طعن کے تیر برسا کر، اور کبھی چاپلوسی کے جال میں پھنسا کر۔ وہ چالاکی سے اپنے مفاد حاصل کرتے ہیں، تعلقات کو خراب کرتے ہیں، اور دوسروں کی ساکھ کو مجروح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی تمام تر محنت اس ایک مقصد کے گرد گھومتی ہے: آپ نہ بڑھیں، آپ رک جائیں۔
بدقسمتی سے، بہت سے لوگ ان چالوں میں آ کر اپنی رفتار کھو بیٹھتے ہیں۔ وہ حوصلہ ہار جاتے ہیں، دل چھوٹا کر بیٹھتے ہیں، اور اپنا سفر وہیں روک دیتے ہیں۔ تنقید کرنے والوں کا مقصد یہی تو ہوتا ہے: کسی کو اتنا کمزور کر دیا جائے کہ وہ اپنے آپ پر ہی یقین کھو دے۔
مگر… ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔..
کچھ لوگ ان حالات کو بڑی باریکی سے پرکھتے ہیں۔ وہ صرف سنے پر یقین نہیں کرتے بلکہ حالات کا گہرائی سے جائزہ لیتے ہیں۔ وہ سمجھ جاتے ہیں کہ ان کے پیچھے کون سا کھیل کھیلا جا رہا ہے، کون ان کی ذات کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور کس کا اصل چہرہ کیا ہے۔ وہ الجھنے کے بجائے سنبھلتے ہیں۔ وہ دوسروں کی باتوں کو اپنے کام کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننے دیتے بلکہ اور زیادہ توجہ سے اپنی کارکردگی بہتر بناتے ہیں۔ ایسے لوگ جانتے ہیں کہ دنیا کی زبانیں بند نہیں ہو سکتیں، لیکن اپنے کان ضرور بند کیے جا سکتے ہیں،ان آوازوں کے لیے جو صرف نیچا دکھانے کے لیے اُٹھتی ہیں۔
یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو منافقت، حسد اور عداوت کے ماحول میں بھی آگے بڑھتے رہتے ہیں۔ جو سازشوں کے گرداب میں بھی اپنا توازن برقرار رکھتے ہیں۔ ان کی ترقی، کردار اور اعتماد اُن لوگوں کے لیے جواب بن جاتا ہے جو اُنہیں گرانے نکلے تھے۔
اور دوسری طرف، حسد کرنے والے… وہ جلتے رہتے ہیں، تدبیریں بناتے رہتے ہیں، اور اپنی زندگی کا قیمتی وقت دوسروں کے خلاف محاذ قائم رکھنے میں برباد کر دیتے ہیں۔ نتیجہ؟ نہ وہ خود ترقی کرتے ہیں، نہ کسی کو سکون سے آگے بڑھتے دیکھ سکتے ہیں۔
"Srikanth” ایک نہایت حوصلہ افزا اور متاثر کن فلم ہے جو ایک نابینا نوجوان، سری کانت بولا، کی حقیقی زندگی پر مبنی ہے۔ یہ فلم ہمیں دکھاتی ہے کہ اگر انسان کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہو تو کوئی بھی رکاوٹ اس کے راستے میں نہیں آ سکتی۔ سری کانت نے بچپن سے ہی مختلف چیلنجز کا سامنا کیا، لیکن اس نے کبھی ہار نہیں مانی۔ تعلیم کے میدان میں اسے بار بار مسترد کیا گیا، لیکن اس نے ثابت کر دیا کہ بصارت کا نہ ہونا بصیرت کی کمی نہیں ہے۔
لوگوں کی تنقید اور منفی تبصروں کے باوجود سری کانت نے ہمت نہ ہاری، بلکہ ان باتوں کو اپنے لیے حوصلے کا ذریعہ بنایا۔ اس نے دکھایا کہ دوسروں کی مایوس کن باتیں اگر انسان سنبھال کر سنے تو وہی باتیں اسے آگے بڑھنے کا جذبہ دے سکتی ہیں۔ آخرکار وہ ایک کامیاب بزنس مین بنا اور دنیا کو دکھایا کہ معذوری کامیابی کی راہ میں رکاوٹ نہیں، بلکہ ایک نئی سمت کا آغاز ہو سکتی ہے۔
یہ فلم نہ صرف متاثر کرتی ہے بلکہ ہمیں جھنجھوڑتی ہے کہ ہم اپنی زندگی میں موجود سہولتوں کے باوجود اکثر ہمت ہار جاتے ہیں، جب کہ سری کانت جیسے لوگ ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ استقامت، محنت، اور خود اعتمادی انسان کو کسی بھی مقام تک پہنچا سکتی ہے۔
"Srikanth” ایک ایسی کہانی ہے جو ہر نوجوان کو ضرور دیکھنی چاہیے تاکہ وہ اپنی زندگی کے مقصد کو پہچان سکے اور اس کے حصول کے لیے ڈٹ کر محنت کرے۔
یاد رکھیں، کامیاب وہی ہوتا ہے جو لوگوں کی باتوں سے نہیں، اپنے عزم سے متاثر ہوتا ہے۔
دنیا کی سب سے بڑی فتح… اپنی ذات پر یقین کی فتح ہے۔