خلیل جبران: ایک ممتاز ادیب اور دانشور

اگر چہ مجھے خلیل جبران (پیدائش، 1883 لبنان، وفات، 1931 ریاست ہائے متحدہ امریکہ) کی مجموعی فکر اور فلسفے سے کوئی خاص اتفاق نہیں لیکن ان کے ادبی نگارشات میں کچھ نہ کچھ خیالات ایسے ضرور جا بجا نظر آتے ہیں جو کہ انسانی توجہ میں ٹھیک ٹھاک جگہ گھیر لیتے ہیں اور یوں نت نئی چیزوں پر سوچنے کا موقع میسر آتا ہے۔ حکمت گویا ایک سمندر ہے۔ ہر بیدار مغز اس میں اضافہ کر رہا ہے جبکہ الٹ صفت رکھنے والے کے لیے استفادے کا دروازہ کھلا ہے۔

ہم انسانوں میں فکر و نظر کے ہزاروں لاکھوں اختلافات سہی اور ان کی ٹھوس وجوہات بھی لیکن ان سب کے باوجود جوہری اعتبار سے کچھ نہ کچھ حوالے ہمارے درمیان اتفاق کے بھی نکل آتے ہیں جو یکساں انسانی فطرت کی بدولت ممکن ہوتے ہیں۔ حکمت و دانائی ایک خدائی خزانہ ہے جیسے اس نے انسانوں کے درمیان بہت پہلے کہیں پھینک دیا تھا اور اب اسی خزانے سے ہر انسان اپنی ہمت اور قوم اپنے ظرف کے مطابق اپنا اپنا حصہ پا رہی ہے۔ اس وجہ سے تاجدارِ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے "حکمت کو مؤمن کا گم شدہ خزانہ” قرار دیا ہیں۔

خلیل جبران جو کہ ایک لبنانی نژاد امریکی فنکار (مصور)، شاعر، دانشور اور مصنف تھے۔ خلیل جبران جدید لبنان کے شہر بشاری میں جنوری 1883 کو پیدا ہوئے تھے جو ان کے زمانے میں سلطنت عثمانیہ کا حصہ تھا۔ لبنان، جہاں وہ نوجوانی میں طرح طرح کی مشکلات (غربت، والد کا جیل جانا اور قریبی رشتہ داروں کی بیماریوں وغیرہ) سے تنگ آکر اپنے خاندان کے ہمراہ آمریکا ہجرت کر گئے اور وہاں فنون لطیفہ کی تعلیم کے بعد اپنا منفرد ادبی سفر شروع کیا۔ خلیل جبران 1931 کو نیویارک میں جگر کے عارضے کا شکار ہو کر وفات ہوئے، بعد ازاں واشنگٹن میں انہیں دفن کر دیا گیا لیکن دوران علالت اپنی بہن ماریانا کو وصیت کی تھی کہ میری جسد خاکی کو بہر صورت لبنان منتقل کر کے دفن کیا جائے اس وصیت پر ایک سال کے بعد عمل کرتے ہوئے ان کی بہن نے میت لے کر لبنان میں دفن کرنے کا انتظام کیا۔

خلیل جبران کی دو کتابوں "The Prophet” اور The” "broken wings کو عالم گیر شہرت حاصل ہوئی۔ یہ کتابیں انگریزی زبان میں لکھی گئی تھی۔ ان میں سے پہلی کتاب مختلف فلسفیانہ مضامین کا مجموعہ تھا، گو اس پر کڑی تنقید کی گئی مگر پھر بھی یہ کافی مشہور ہوگئی، بعد ازاں 60ء کی دہائی میں یہ سب سے زیادہ پڑھی جانے والی شاعری کی کتاب بن گئی جبکہ دوسری کتاب ایک ناول ہے۔ یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ خلیل جبران، ولیم شیکسپئیر اور لاؤ تاز کے بعد تاریخ میں تیسرے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے شاعر ہیں۔ خلیل جبران کا ایک مصرع جو انہوں نے اپنی کتاب "Sand and foam” میں استعمال کیا تھا آج تک اس کی تازگی اور خمار باقی ہے کہ "آدھے سے زیادہ جو میں کہتا ہوں وہ بے معنی ہے لیکن میں پھر بھی کہتا ہوں تاکہ باقی کا آدھا تمہیں پہنچ سکے”۔ ان کے خیال میں گویا ان کا پیغام ایک اخروٹ ہے کہ جس کا آدھا حصہ نامطلوب یعنی کور اور باقی آدھا حصہ مطلوب یعنی مغز جیسا ہے۔

خلیل جبران کی بنیادی فکر، جیسا کہ ان کی بہت سی تحریروں میں جھلکتی ہے، انسان کے نوع بہ نوع حال احوال اور زندگی کی تہہ در تہہ پیچیدگیوں کی کھوج میں سرگرداں رہتی تھی۔ ان کی فکر نے بنیادی طور پر فلسفے، ادب، صوفیانہ روحانیت، انفرادیت اور قومیت پر اصرار، آزادی کی شدید خواہش اور انسانی فطرت سے اپنی غیر معمولی رغبت کی آمیزش سے وجود پائی تھی وہ ان حوالوں سے مختلف سوالات کے بارے میں گہرائی سے غور کرتے نیز وجود کے جوہر اور انسانی رشتوں کی نوعیت کو سمجھنے کی لگاتار کوشش کرتے۔

مجھے حیرت ہے کہ موصوف کا سینہ انسانوں اور رشتوں کے لیے جذبات کا ایک ٹھیک ٹھاک خزانہ بنا تھا لیکن وہ زندگی بھر شادی کیے بغیر صرف دوستیوں پر گزارہ کرتے رہے۔ میرا خیال ہے انسان اپنی تمام تر علمیت، شرافت، محبت، معقولیت اور روحانیت کے باوجود ایک حد درجہ پیچیدہ مخلوق ہے جس کے بے شمار خیالات، خواہشات اور مطلوبات کے لیے کوئی "گراؤنڈ” فراہم نہیں کیا جا سکتا۔ دو خواتین سے مختلف اوقات اور مقامات پر ان کی پکی دوستیاں قائم ہوئی لیکن شادی کی نوبت نہیں آئی۔ ایک میری الزبتھ ہاسکل جو کہ ایک فنی نمائش میں خلیل جبران سے متعارف ہوئی اور رفتہ رفتہ دوست بن گئی اور دوم پیرس میں دوران قیام اپنی ہم جماعت یوسف ہوہاک سے پہلے مانوس اور بعد میں دوست ہوئے یہ دونوں دوستیاں زندگی بھر قائم رہی۔ مذکورہ دونوں خواتین خلیل جبران کو زندگی بھر، زندگی اور کام میں معاونت فراہم کرتی رہیں۔

خلیل جبران کی تحریروں میں مرکزی حیثیت محبت کی تلاش، انسانوں میں موافقت، ذاتی تشخص میں انفرادیت پر اصرار، عالمی امن اور استبدادی قوتوں اور اقدامات کے خلاف مذمت کو حاصل رہی، وہ محبت کو افراد اور معاشرے دونوں میں تبدیلی کے لیے ایک طاقتور محرک کے طور پر دیکھتے رہے۔ اس نے اکثر محبت کی خوبصورتی اور درد، تعلق کی آرزو اور اس کے ساتھ آنے والے مختلف چیلنجوں اور خوشیوں کے بارے میں بکثرت لکھا ہے۔

خلیل جبران کے کام میں ایک اور اہم ستون آزادی اور خود شناسی کا تصور تھا۔ اس نے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنی اصلیت تلاش کریں، غیر ضروری پابندیوں سے خود کو آزاد کریں اور معقول و مستند طریقوں سے زندگی گزاریں۔ خلیل جبران کی تحریروں میں انفرادیت کی اہمیت اور تنوع پر جشن کے احساسات جا بجا رقصاں نظر آتے ہیں۔ ان کا ماننا تھا کہ ہر فرد منفرد ہے اور اسے اپنی الگ خصوصیات اور نقطہ نظر کو اپنانا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ گرد و پیش میں مختلف رنگ و آہنگ کی شخصیتیں اور حیثیتیں بھی پائی جاتی ہیں، انہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کرنا ہیں۔

خلیل جبران نے انسانی روح کے لیے بھی گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے، یعنی انہوں نے غم، خوشی، مایوسی اور امید کے موضوعات کو باقاعدہ تلاش کیا۔ ایک درویش صفت شخصیت آبو باہا جس سے ان کی ملاقات 1911 میں ہوئی تھی، کو باقاعدہ اپنا مرشد تسلیم کیا تھا۔ خلیل جبران نے اپنی تحریروں کے ذریعے اپنے قارئین کو مشکلات اور چیلنجوں کے درمیان بھی اپنی زندگی میں معنی اور مقصد تلاش کرنے کی ترغیب دلانے کی کوشش کی ہے۔

خلیل جبران کا کام روحانیت، انفرادیت، امنیت، فلسفے اور تمام مخلوقات کے باہمی ربط و ضبط پر ان کے خیالات کی عکاسی کر رہا ہے۔ انہوں نے ایک آفاقی نقطہ نظر کو اپنایا اور انسانیت کے وسیع تر اتحاد پر ہمیشہ زور دیا لیکن جیسا کہ اوپر بتایا انسان ایک پیچیدہ مخلوق ہے جبران اپنی تمام تر انسان دوستی اور عالمی اتحاد کی خواہش کے باوجود سلطنت عثمانیہ سے شدید منتفر اور شاکی رہے نہ صرف یہ بلکہ اس کے خاتمے پر پرجوش مسرت کا اظہار کیا اور لبنان کی آزادی پر جشن منانے والوں میں شامل ہوگئے تھے حالانکہ ان کے والد خلیل سلطنت عثمانیہ کے ایک اعلی آفیسر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کی ذات اور خاندان کو سلطنت عثمانیہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچا تھا۔

خلیل جبران کی بنیادی فکر انسانی تجربے، محبت، آزادی، انفرادیت، انسانی شرف اور روحانیت کی کھوج کے طور پر دیکھی جاسکتی ہے، یہ سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے اور زندگی کے مشترکہ سفر کے تناظر میں واقع حقائق ہیں۔

اب آئیے خلیل جبران کے چند دلچسپ خیالات ملاحظہ کرتے ہیں۔

01 محبت اور رشتوں کے بارے میں:

"ایک دوسرے سے محبت کرو، لیکن محبت کا بندھن نہ بناؤ: اسے اپنی روحوں کے ساحلوں کے درمیان ایک متحرک سمندر بننے دو۔” (شائد اسی خیال کے تحت جبران زندگی بھر شادی سے مجتنب رہے)

اس اقتباس میں، خلیل جبران نے دو روحوں کے درمیان تعلق کو برقرار رکھتے ہوئے ایک ہی رشتے میں موجود انفرادیت اور آزادی کو برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا ہے لیکن میرے خیال میں مزہ تو تب ہے کہ محبت کو رشتے میں ڈھال کر اسے پائداری اور تحفظ بخشا جائے۔

02 خوشی اور غم کے بارے میں:

"آپ کے وجود میں غم جتنا گہرا ہوتا ہے، اتنی ہی زیادہ خوشی آپ پر وارد ہو سکتی ہے۔”

خلیل جبران نے مشورہ دیا ہے کہ غم اور خوشی کا سامنا زندگی کے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے پہلو ہیں۔ ہمارے دکھوں کی گہرائی ہمیں زیادہ گہرائی سے خوشی کا احساس کرنے اور اس میں پھیلنے کی سہولت دیتی ہے۔

03 سخاوت اور دینے کے بارے میں:

"جب آپ اپنے مال میں سے کچھ دوسروں کو دیتے ہیں تو آپ بہت کم دیتے ہیں لیکن جب آپ اپنے آپ میں سے دیتے ہیں تو آپ واقعی زیادہ دیتے ہیں۔”

خلیل جبران یاد دلاتا ہے کہ حقیقی سخاوت مادی تحائف سے بالاتر ہے۔ اس میں خود اپنے آپ کو، اپنا وقت، اپنی توجہ اور اپنی ہمدردی دینا شامل ہے۔

04 خود شناسی کے بارے میں:

"آپ کے دل دنوں اور راتوں کے رازوں کو خاموشی سے جانتے ہیں۔”

خلیل جبران اس حکمت پر زور دیتا ہے جو ہر فرد کے اندر رہتی ہے، یہ تجویز کرتا ہے کہ خود شناسی اور خود آگاہی ہمیں گہری بصیرت کی طرف لے جا رہی ہے۔

05 آزادی کے بارے میں:

"اگر آپ کسی سے محبت کرتے ہیں تو اسے جانے دو، کیونکہ اگر وہ لوٹ آئے تو وہ ہمیشہ آپ کے تھے، اگر وہ نہیں آتے تو وہ کبھی آپ کے نہیں تھے۔”

یہ اقتباس محبت اور آزادی کے بارے میں خلیل جبران کے مخصوص نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ اس خیال پر روشنی ڈالتا ہے کہ حقیقی محبت جاگیر جیسی نہیں ہونی چاہیے بلکہ دوسرے شخصیات کو بھی اس میں جگہ دینی چاہیے۔

06 درد اور نشوونما پر:

"مصیبت سے، سب سے مضبوط روحیں نکلی ہیں اور یہ کہ سب سے بڑے کرداروں پر بھی داغ لگ گئے ہیں۔”

خلیل جبران کا خیال ہے کہ ہماری جدوجہد اور تکلیف دہ تجربات ذاتی ترقی اور طاقت کا باعث بن سکتے ہیں۔ مصیبت ہمیں زیادہ لچک کے ساتھ مضبوط افراد کی شکل دے سکتی ہے۔

07 کام اور جذبے کے بارے میں:

"کام محبت سے ظاہر ہوتا ہے۔ اگر آپ محبت سے کام نہیں کر سکتے لیکن صرف نفرت کے ساتھ، تو بہتر ہے کہ آپ اپنا کام چھوڑ کر مندر کے دروازے پر بیٹھ جائیں اور ان لوگوں سے خیرات لیں جو خوشی سے کام کرتے ہیں۔” (یہ خیال مجھے ذاتی طور پر بے حد پسند ہے)

اس اقتباس میں خلیل جبران ہمارے کام میں جذبہ اور مقصد تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ ہم جس کام سے محبت کرتے ہیں اس میں مشغول ہونا خود کو ظاہر کرنے اور دنیا میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کا ایک طریقہ ہے۔

خلیل جبران کو اپنی آفاقی فکر، دل آویز شخصیت، متاثر کن ادب اور حد درجہ دلچسپ خیالات کے سبب عالم گیر مقبولیت حاصل ہوئی ہے۔ آمریکا، یورپ اور ایشیا میں جا بجا ان کی یادگاریں تعمیر ہوئیں ہیں۔ یہ نہ صرف ان کی یادیں تازہ رکھیں گی بلکہ لوگوں کو ان کے خیالات اور افکار کی جانب بھی متوجہ کریں گی۔ خلیل جبران کی تحریریں اکثر انسانی تجربات، روحانیت، محبت اور تمام چیزوں کے درمیان باہمی ربط و ضبط پانے میں سرگرداں محسوس ہوتی ہیں۔ ان کی گہری بصیرت کے پوری دنیا میں قارئین موجود ہیں اور ان کا نام چار دانگ عالم میں گونجتا ہے اور ان کے خیالات زندگی کے گہرے معانی پر غور و فکر کی ترغیب دیتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے